aiou course code 4602-1 solved assignment autumn 2022

aiou course code 4602-1 solved assignment autumn 2022

aiou course code 4602-1 solved assignment autumn 2022

تاریخِ اسلام۔۱۱. 4602

مشق۔1۔

 

سوال نمبر 1۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد حکومت کی اصطلاحات پر روشنی ڈالیں

جواب

عمر بن عبد العزیز بن مروان بن حکم خلافت بنو امیہ کے آٹھویں خلیفہ تھے اور سلیمان بن عبدالملک کے بعد مسند خلافت پر ممتکن ہوئے۔ انہیں ان کی نیک سیرتی کے باعث پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے جبکہ آپ خلیفہ صالح کے نام سے بھی مشہور ہیں۔حضرت عمر بن عبد العزیز مشہور اموی فرمانروا مروان حکم کے پوتے تھے جبکہ آپ کی والدہ حضرت عمر فاروق کی پوتی تھیں، اس لحاظ سے آپ کی رگوں میں فاروقی خون بھی شامل تھا۔ آپ کے والد عبد العزیز مصر کے گورنر تھے جس کی وجہ سے آپ نے شاہانہ ماحول میں پرروش پائی۔ آپ اموی خلیفہ عبد الملک کے بھتیجے اور داماد ہونے کی وجہ سے مختلف عہدوں اور مناصب پر فائز رہے تھے۔ شروع ہی سے آپ کی طبیعت میں شاہانہ وقار تھا، آپ بے حد نفیس لباس پہنتے اور خوشبویا کا کثرت سے استعمال کرتے تھے۔ خلافت کا بار اٹھانے کے بعد آپ کے تمام معمولات میں تبدیلی آ گئی، تمام شاہانہ ٹھاٹھ ختم کر دیئے اور شاہی لباس اتار کر فقیرانہ لباس زیب تن کر لیا۔ کنیزوں کو آزاد کر دیا اور اپنے لئے انتہائی سادہ اور عسرت کی زندگی کو پسند کیا۔ الغرض آپ فقر و استغناء کا پیکر ہو کر رہ گئے تھے۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ خلفائے راشدین کی پیروی کریں۔

آپ کے عہد حکومت میں جو اصلاحات کی گئیں ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

احساس فرض اور طرز زندگی میں تبدیلی:

 

خلافت کا بار گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے احساس نے آپ کی زندگی بالکل بدل کر رکھ دی۔ وہی عمر جو نفاست پسندی اور خوش لباسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، جو خوشبو کے دلدادہ تھے، جن کی چال امیرانہ آن بان کی آئینہ دار تھی، جن کا لباس فاخرانہ تھا اب سراپا عجز و نیاز تھے۔ سلیمان کی تجہیز و تکفین کے بعد پلٹے تو سواری کے لیے اعلٰی ترین گھوڑے پیش کیے گئے مگر حضرت عمر بن عبد العزیز نے ان پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا ’’میرے لیے میرا خچر کافی ہے‘‘ اور انہیں واپس بیت المال میں داخل کرنے کا حکم دیا۔ جب افسر پولیس نیزہ لے کر آگے آگے روانہ ہوا تو اسے ہٹا دیا اور کہا کہ ’’ میں بھی تمام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان ہوں‘‘ پھر جب سلیمان کے اثاثہ کو ورثا میں تقسیم کرنے کی تجویز کی تو آپ نے سارے سامان کو بیت المال میں داخل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

 

ہر وقت امت مسلمہ کے حقوق کی نگہداشت اور اللہ تعالٰی کے احکامات کی تعمیل اور نفاذ کی فکر دامن گیر رہتی جس کی وجہ سے ہمیشہ چہرے پر پریشانی اور ملال کے آثار دکھائی دیتے۔ اپنی بیوی فاطمہ کو حکم دیا کہ تمام زروجواہر بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ وفا شعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی ملازمہ مقرر نہ تھی تمام کام ان کی بیوی خود کرتیں۔ الغرض آپ کی زندگی درویشی اور فقر و استغنا کا نمونہ کر رہ گئی۔ آپ کی تمام تر مساعی اور کوششیں اس امر پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ ایک بار پھر سنت فاروقی اور عہد فاروقی کی یاد تازہ کر دیں۔ آپ اس پاکیزہ زندگی اور کا رہائے نمایاں کی بدولت ہی پانچویں خلیفہ راشد قرار پائے۔ آپ نے اہل بیت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا۔ ان کی ضبط کی ہوئی جائیدایں ان کو واپس کر دی گئیں۔ حضرت علی پر جمع خطبہ کے دوران لعن طعن کا سلسلہ ختم کر دیا۔ اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خاتمہ کر دیا۔ احیائے شریعت کے لیے کام کیا۔ بیت المال کو خلیفہ کی بجائے عوام کی ملکیت قرار دیا۔ اس میں سے تحفے تحائف اور انعامات دینے کا طریقہ موقوف کر دیا۔ ذمیوں سے حسن سلوک کی روایت اختیار کی۔ اس کے علاوہ معاشی اور سیاسی نظام میں اور بھی اصلاحات کیں۔

 

جائیداد کی واپسی کے اقدامات:

 

بارِ خلافت سنبھالنے کے بعد منادی کروادی کہ لوگ اپنے مال و جائیداد کے بارے میں اپنی شکایتیں پیش کر دیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے زبردستی ہتھیا لیا گیا ہے۔

 

یہ کام بہت خطرناک اور نازک تھا، خود آپ کے پاس بڑی موروثی جاگیر تھی۔ بعض افراد نے آکر آپ سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی جاگیر واپس کردی تو اولاد کی کفالت کیسے کریں گے؟ آپ نے فرمایا ان کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

 

آپ نے اعلان عام کروایا کہ اموی خلفاء نے جس کے مال، جاگیر یا جائداد پر ناجائز قبضہ جمالیا ہے وہ ان کے حقداروں کو واپس کی جا رہی ہیں۔ اس اعلان کے بعد جاگیروں کی دستاویزات منگوائیں اور آپ کے ایک ماتحت ان دستاویزات کو نکال کر پڑھتے جاتے تھے اور حضرت عمر بن عبد العزیز اسے پھاڑ پھاڑ کر پھینکتے جاتے تھے۔ آپ نے اپنی اور اہل خاندان کی ایک ایک جاگیر ان کے حقداروں کو واپس کردی اور اس میں کسی کے ساتھ کسی قسم کی رعایت سے کام نہ لیا۔

 

خلافت راشدہ کا احیاء:

 

ان مراحل سے فراغت کے بعد امورِ خلافت کی طرف متوجہ ہوئے،خلافت کے باب میں عمر بن عبدالعزیز کا نقطۂ نظر گذشتہ خلفاء سے بالکل مختلف تھا، ان کے پیش نظر نظامِ خلافت میں عظیم الشان انقلاب برپاکرنا تھا وہ سلطنت کی ظاہری ترقیوں یعنی فتوحات محاصل اور عمارتوں میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اموی حکومت کو خلافتِ راشدہ میں بدل دینا چاہتے تھے، یہ اقدام ایسا اہم اور خطرناک تھا، جس میں ہر طرف سے مخالفتوں کے طوفان کا مقابلہ تھالیکن عمر بن عبدالعزیز نے تمام خطرات سے بے پرواہ ہوکر نہایت جرأت سے انقلاب شروع کردیا۔

 

غصب کردہ مال وجائداد کی واپسی:

 

اسی سلسلہ میں سب سے اہم اورنازک کام رعایا کی املاک کی واپسی تھی، جس کو شاہی خاندان نے اپنی جاگیر بنالیا تھا،اس میں سارے خاندان کی مخالفت کا مقابلہ کرنا تھا ،لیکن عمر بن عبدالعزیز نے سب پہلے یہی کار خیر کیا اور سب سے اول اپنی ذات اوراپنے خاندان سے شروع کیا،جس وقت آپ نے اس کا ارادہ ظاہر فرمایا، اس وقت بعض ہوا خواہوں نے دبی زبان سے عرض کیا کہ اگر آپ جاگیر یں واپس کردیں گے تو اپنی اولاد کے لیے کیا انتظام کریں گے فرمایا ان کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ اس عزم راسخ کے بعد خاندان والوں کو جمع کرکے فرمایا: بنی مروان تم کو شرف اور دولت کا بڑا حصہ ملا ہے،میرا خیال ہے کہ امتِ مسلمہ کا نصف یا دوتہائی مال تمہارے قبضہ میں ہے یہ لوگ یہ اشارہ سمجھ گئے اورجواب میں کہا: خدا کی قسم جب تک ہمارے سر تن سے جدا نہ ہوں گے اس وقت تک یہ نہیں ہوسکتا،خدا کی قسم نہ ہم اپنے اباواجداد کو کافر بناسکتے ہیں (عمر بن عبدالعزیز اپنے اسلاف کے افعال کو حرام کہتے تھے) اورنہ اپنی اولاد کو مفلس بنائیں گے،عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا خدا کی قسم اگر اس حق میں تم میری مدد نہ کرو گے تو میں تم لوگوں کو ذلیل اور رسوا کر ڈالوں گا تم لوگ میرے پاس سے چلے جاؤ۔

 

اس کے بعد عام مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرکے تقریر کی: ان لوگوں (بنی امیہ)نے ہم کو عطایا اورجاگیریں دیں،خدا کی قسم نہ انہیں ان کو دینے کا حق تھا اورنہ ہمیں ان کے لینے کا ،اب میں ان سب میں ان کے اصلی حق داروں کو واپس کرتا ہوں اوراپنی ذات اوراپنے خاندان سے شروع کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اسناد شاہی کا خریطہ منگایا،مزاحم سب کو پڑھ پڑھ کر سناتے جاتے تھے اورعمربن عبدالعزیز ان کو لے لے کر قینچی سے کاٹتے جاتے تھے،صبح سے لے کر ظہر کی نماز تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح اپنی اوراپنے پورے خاندان کی کل جاگیریں واپس کردیں اوراپنے پاس ایک نگینہ تک باقی نہ رہنے دیا ان کی بیوی فاطمہ کو ان کے باپ عبدالملک نے ایک قیمتی پتھر دیا تھا، عمر بن عبد العزیز نے اپنی بیوی سے کہا،یا اس کو بیت المال میں داخل کردیا۔

 

باغ فدک کی واپسی:

 

سب سے اہم معاملہ فدک کا تھا،جومدتوں سے خلفاء اوراہل بیت کے درمیان متنازعہ فیہ چلا آتا تھا اوراب عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ میں تھا اوراسی پر اُن کی اوراُن کے اہل وعیال کی معاش کا دارومدار تھا،اس کے متعلق انہوں نے رسول اللہ ﷺ اورخلفاء راشدین کے طرزِ عمل کی تحقیقات کرکے آل مروان سے کہا فدک رسول اللہ ﷺ کا خاصہ تھا، جس کی آمدنی آپ اپنی اور بنی ہاشم کی ضروریات میں صرف فرماتے تھے۔ لیکن بعدمیں مروان بن حکم نے اسے اپنی جاگیر میں شامل کر کے انے بیٹوں عبد الملک اور عبد العزیز میں تقسیم کر دیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اسے اپنی ملکیت سے نکال کر اس کی آمدنی کو بنو ہاشم کی ضروریات کی تکمیل کے لیے وقف کر دیا

 

سوال نمبر 2 ۔ اموی عہد حکومت میں معاشرتی سرگرمیوں کی تفصیلات درج کریں

جواب۔

علم و ادب

اسلام نے حصول علم کی جس طرح حوصلہ افزائی کی ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ اموی قوم کے افراد نے پڑھنا لکھنا سیکھا۔ قرآن و حدیث کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا۔ ان کی تعلیمات کو سمجھا اور دنیا بھر کے معلم قرار پائے۔ انہوں نے دوسری قوموں کے عوام سے بھی فائدہ اٹھایا اور حقائق کو قصے کہانیوں سے الگ چھانٹ کر ان کو نئے اسلوب سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ جس کا آغاز نبوت اور خلافت راشدہ میں ہوا اور جس کے بھرپور مظاہر خلافت عباسیہ میں سامنے آئے۔ عہد بو امیہ میں یہ ارتقا غیر محسوس طریقے سے جاری رہا

قرآن

اموی دور کی فتوھات نے ان علاقوں کی تعداد میں بہت اضافہ کر دیا جہاں اسلام کی تبلیغ ہو سکتی تھی۔ چنانچہ مفتوحہ قوموں کے بے شمار افراد نے قرآن پاک لکھنا شروع کیا لیکن ان کے لیے اعراب کے بغیر کتاب کو پڑھنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے عبد الملک بن مروان نے اپنے دور حکومت میں قرآن پاک پر اعراب لگوائے اور ایک جیسے حرف کو ایک دوسرے سے ممیز کرنے کے لیے نقطے لگائے گئے۔ عبد الملک خود قرآن پاک سے گہرا شغف رکھتا تھا اور عمر بن عبد العزیز کی دینی ذوق کے بارے میں دو آرا ہو ہی نہیں سکتیں۔ ان دونوں خلفاء کے زمانوں میں قرآن پاک کے حفظ کے بارے میں تفسیر لکھنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اموی دور کے مشہور مفسرین قرآن میں عکرمہ، قتادہ بن دعامہ سروسی، مجاہد بن جبیر، سعید بن جبیر اور حسن بصری معروف ہیں اور بعد کے مفسرین انہی کی آراء کے حوالے دیتے ہیں۔ حضرت علی کے ایک رفیق اور حمزہ اور امام باقر نے بھی تفاسیر لکھی تھیں۔

حدیث

حدیث کی تدوین کے نقطہ نظر سے بھی اموی دور بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دور میں بعض صحابہ تابعین کی کثیر تعداد اور تبع تابعین موجود تھے۔ اس لیے فطری طور پر یہ روایات جمع کرنے اور ان کو مرتب کرنے کا دور تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس شعبہ کی طرف توجہ فرمائی اور احادیث کے مجموعے مرتب کروائے اور ان کی نقول دور دراز کے علمی مراکز کو بھجوائیں۔ خالد بن معدان، عطا بن ابی رباح اور عبد الرحمن ( جو حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پوتے تھے) کے صحیفے اس سلسلے میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ثمرہ بن جندب اور وہب بن منبہ کی بیاضیں ان کے علاوہ تھیں۔ ہشام بن عبد الملک نے امام زہری سے چار سو احادیث کا مجموعہ مرتب کروایا۔

فقہ

قفہ کی ترقی کے اعتبار سے بھی یہ دور انتہائی اہم ہے۔ احکام دین کی تشریح کے لیے اس زمانے میں صحابہ زادے موجود تھے جو بیک وقت محدث بھی تھے اور فقیہ بھی۔ انہیں صرف ایک واسطے سے بارگاہ رسالت سے فیض ہونے کا موقع ملا تھا۔ اس لیے ان کی آراء بہت دقیع ہیں۔ ان فقہا میں عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود، عروہ بن عوام، قاسم بن محمد بن ابی بکر، سعید بن مسیب، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبد الرحمن اور خارج بن زید کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ ابراہیم نخعی، امام شعبی، امام جعفر صادق، عبد الرحمن بن ابی سلمی اور قاضی شریح بھی اس دور کے نامور فقہا ہیں۔

تاریخ

تاریخ نویسی کی بھی باقاعدہ ابتدا ہوئی۔ غزوات کے حالات اور سیرت کی کتب تیار کی گئیں۔ اس سلسلے کی اہم کتب عروہ بن زبیر یا محمد بن اسحق نے لکھیں۔ ابن اسحق کی مرتب کردہ سیرت نبوی کی بنیاد ہی پر بعد میں سیرت ابن ہشام مرتب کی گئی جو آج تک سیرت کی اہم ترین کتاب ہے۔ قدیم عرب اور ایران کے ساسانی حکمرانوں کے حالات بھی اس دور میں قلمبند کیے گئے۔ امور خلفاء کو ان سے خاصی دلچسپی تھی۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ امیر معاویہ نے عبید سے ’’کتاب الملوک و اخبار الماضین ‘‘ مرتب کروائی تھی۔ عواتہ بن حکم کلبی نے کتاب التواریخ اور سیرت معاویہ بھی لکھیں۔

فلسفہ اور طب

فلسفہ اور طب کی جو ترقی عباسی دور میں سامنے آئی اس کی خشت اول دور بنو امیہ میں رکھی گئی تھی۔ یونانی فلسفہ و منطق کے اثرات اسی دور ہی میں نظر آنے لگے تھے۔ معتزلہ فرقہ کے بانی واصل بن عطاء اسی زمانے میں پیدا ہوا، جو حسن بصری کی مجلس سے علیحدگی اختیار کرنے ہی کی بدولت ’’معتزلی‘‘ کہلایا۔ یونانی طب نے بھی اس زمانے میں فروغ پایا۔ حکیم عرب حارث بن کلاوہ اور اس کا بیٹا طائف کے معروف طبیب تھے۔ ابن اثال جیسے مسیحی طبیب کی شہرت اور سرپرستی امور حکمرانوں کی علم پروری اور غیر متعصبانہ روش کی آئینہ دار ہے۔

شعر و شاعری

اموی حکمران شعر و شاعری کے سرپرست تھے۔ امیر معاویہ، یزید اول، عبد الملک سب کے سب شاعروں کی قدر دانی اور سرپرستی کرتے۔ دربار میں درباری شعرا موجود رہتے۔ عمر بن ابی ربیعہ، جمیل نصیب اور لیلہ خیلیہ غزل گو شعرا میں ممتاز تھیں۔ عمر بن ابی ربیعہ تو عربی غزل گوئی کا بانی ہے قصیدہ گو شعرا میں فرزوق، جریر اور اخطل مشہور و معروف شخصیتیں تھیں۔ اخلط جو یزید اول کا مصاحب تھا خمریات کا بہت بڑا شاعر تھا۔ ان قصیدہ گو شعرا میں سخت رقابت رہتی۔ چنانچہ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہجویہ اشعار بھی لکھے۔ حماد الرادیہ نے قدیم عرب شاعری کے نمونے جمع کیے۔ معلقات (سات قصائد) اس کے مجموعہ میں کافی مشہور ہیں۔

خطاطی

عہد بنو امیہ میں کتابت اور انشاء کے فن نے بہت عروج حاصل کیا۔ حکومت اور امرا کاتب ملازم رکھتے تھے۔ فن انشاء کو سرکاری طور پر بہت اہمیت حاصل تھی اور کئی کتابیں لکھیں گئیں۔ عبد الملک کا کاتب عبد الحمید اس فن کا امام تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ کہ کتابت عبد الحمید سے شروع ہوئی اور ابن العمید (عباسی عہد ) پر اس کا خاتمہ ہوا۔

فن تعمیر اور عمارات

اموی دور سے پہلے اسلامی فن تعمیر کا کوئی وجود نہ تھا۔ سادہ سی عمارات بنائی جاتی تھیں۔ اموی دور میں ایرانی و رومی تہذیبوں کے ساتھ رابطہ قائم ہوا تو پر شکوہ عمارات تعمیر کرنے کی طرف توجہ دی گئی۔ فطری طور پر اس شان و شوکت کا پہلا مظاہرہ عظیم مساجد کی تعمیر کی صورت میں ہوا۔ امیر معاویہ کے دور میں کوفہ کی چھاؤنی تعمیر ہوئی تو اس کے وسط میں ایک عظیم الشان مسجد بنائی گئی۔ بعد ازاں بصرہ کی مساجد کی تعمیر نو ہوئی تو ساسانی معماروں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ان دونوں عمارات میں ساسانی طرز کے ستون بنائے گئے نیز بصرہ کی مسجد میں پہلی بار ایک مینار تعمیر ہوا جو بعد ازاں اسلامی فن تعمیر کا امتیازی نشان قرار پایا۔ امیر معاویہ کے زمانے میں خضرا محل کی تعمیر سے رہائشی محلات کی تعمیر کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔

 

عبد الملک کے زمانہ میں اسلامی فن تعمیر میں مزید ترقی ہوئی۔ قبتہ الضحراء فن تعمیر اور حسن کے لحاظ سے اس دور کی اہم ترین عمارات میں سے ہے۔ ضحراء پہاڑ کی وہ چھوٹی ہے جہاں شب معراج کو آنحضور آسمان کی طرف روانہ ہوئے۔ مسلمانوں کے علاوہ یہ جگہ اہل کتاب کے لیے مقدس تھی۔ عبد الملک نے اس مقام پر گنبد تعمیر کرایا۔ فنی کمال اور حسن، گل بوٹوں، نگینہ کاری، خوبصورتی، دلکشی اور پائداری کے لحاظ سے یہ اسلامی طرز تعمیر کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے اس تعمیر میں کچھ خام مال اور قیمتی پتھر پرانے کھنڈر سے بھی لیے گئے۔ اس کے علاوہ عبد الملک نے مسجد اقصیٰ کی بھی تعمیر کی۔

 

خلفائے بنو امیہ میں ولید بن عبد الملک کا زمانہ تعمیرات کے لیے بے حد مشہور ہے۔ اس کے زمانہ کی مشہور عمارات جامع دمشق، جامع مسجد دمشق، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ اسلامی تہذیب و تمدن اور فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ جامع مسجد دمشق پر بے دریغ روپی خرچ کیا گیا روم، ایران، مصر اور ہندوستان سے گاریگر منگوائے۔ تمام دیواریں سنگ مرمر اور نگینوں کی پچی کاری سے آراستہ کی گئیں۔ یہ مسجد اپنی تزئین و آرائش پچی کاری اور خوب صورتی کی بنا پر دنای کا چوتھا عجوبہ شمار کی جاتی ہے۔ یہاں پہلے مسیحیوں میں بیش قیمت جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ چھتوں پر سونا اور فرش پر چاندی کا استعمال کیا گیا تھا ساری عمارت سنگ مرمر اور سنگ رفام سے تعمیر کی گئی تھی۔ اس پرمجموعی لاگت کا کم سے کم اندازہ پچپن لاکھ اشرفی اور زیادہ سے زیادہ گیارہ کروڑ دینار لاگت آئی

سوال نمبر 3 بنو عباس کے زوال کے اسباب بیان کریں۔

جواب۔

واقعہ کربلا میں نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت امام حسین ؑ کو ان کے 72 اہل بیعت سمیت جس بے دردی سے شہید کیا گیا ؛اس بربریت کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ اس واقعہ نے عالم اسلام کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد بنو امیہ نے 100سال تک عالم اسلام پر حکومت کی لیکن ان کے دور میں خاندان علیؓ کو حکومت میں لانے کے تحریکیں چلتی رہیں ۔

 

اس تما م دور میں شیعان حضرت علی ؓ نے اموی خلفاء کا ناک میں دم کئے رکھا۔ جیسے جیسے عوام کو علم ہوتا گیا تواموی سلطنت بھی کمزور ہوتی چلی گئی اور یہ تحریکیں زیر ِزمین پھلتی پھولتی گئیں تا آنکہ ان کی باگ دوڑ خاندان حضرت علی ؓ سے نکل کر ڈرامائی انداز میں خاندان بنو عباسؓ کے ہاتھوں میں چلی گئی ۔ یوں ایک طویل جد جہد کے بعد بنو عباس کے پہلے خلیفہ ابوالعباس السفاح نے چودھویں اور آخری اُموی خلیفہ مروان ثانی بن محمد بن مروان الحکم کو دریائے ژاب(عراق میں واقع ہے ) کے کنارے شکست دی ۔ اس نےخلافت بنی عباسیہ کی داغ بیل ڈالی جو 1258ء تک قائم رہی اور بالاخر چنگیز کے خان کے پوتے ہلاکو خان نے عباسی خلیفہ مستعصم بااللہ اور اس کے بیٹوں کے قتل کے بعد ملت اسلامیہ سے خلافت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔

 

خاندان عباس کا پس منظر:

 

ایک روایت کے مطابق سرور کائنات ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباسؓ کو خبر دی تھی کہ آپؓ کی اولاد بنو امیہ کے بعد منصب خلافت پر فائز ہوگی۔ حضرت عباس ؓ ؛حضرت محمد ﷺ سے تین سال بڑے تھے اور تراسی سال کی عمر حضرت عثمان غنی ؓ کے عہد میں مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا۔ ان کی آخری عمر میں بینائی جاتی رہی ۔ان کے چار فرزند حضرت عبداللہ ؓ ، عبیداللہؓ، فضل ؓاور قثم ؓتھے۔ فضلؓ کا انتقال شام میں ،عبیداللہ ؓکا مدینہ منورہ میں جب کہ قثم ؓ کا ثمر قند میں ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ؛رسول ﷺ کے وصال کے وقت آٹھ سال کے تھے ۔ آخری عمر میں ان کی بینائی بھی جاتی رہی ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہد میں طائف میں انتقال فرمایا۔وفات کے وقت آپ کی عمر 73 سال تھی۔ ان کے آٹھ میں سے ایک فرزند علی بن عبداللہ خلفائے بنی عباس کے جد امجد ہیں۔

 

علی بن عبداللہ رضی اللہ عنہ:

 

ان کا نام حضرت علی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود رکھا۔ وہ زاہد و عابد تھے۔ایک باغ میں پانچ سو درخت تھےوہاں جا کر ہر درخت کے نیچے دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے آپ کو کوڑے لگائے کہ آپ نے اس کی مطلقہ خاتون سے نکاح کر لیا تھا۔ علی بن عبداللہ کو چودہ سال کی عمر میں اللہ نے ایک فرزند عطا فرمایا ؛اس کا نام محمد رکھا گیا ۔یہی محمد خلفائے بنی عباس کا جد امجد تھا۔

 

اس نے عمر بن عبدالعزیز سے اجازت لے کر ایک حارثیہ خاتون رایطہ بنت حارث سے شادی کر لی ۔بنو امیہ نے عباسیوں کو بنی حارث کی کسی خاتون سے شادی کرنے سے منع کر رکھا تھا۔ کیونکہ ایک روایت بیان کی جاتی تھی کہ بنی امیہ کی خلافت اس شخص کو ملے گی جس کا باپ عباسی اور ماں حارثیہ ہو گی۔ اسی خاتون سے محمد کا بیٹا ابوالعباس السفاح پیدا ہو ا ۔جب کہ دیگر بیٹے ابراہیم، ابوجعفر منصور، علی اور حسن تھے۔ اس کی بیٹیاں بھی تھیں ۔کہاجاتا ہے کہ محمد حنفیہ کے بیٹے ابوہاشم نے بوقت مرگ محمد بن علی کو وصیت کی تھی کہ جب ہجرت کو ایک سو سال گزر جائیں تو اپنے داعی اطراف ملک میں بھیج دینا تا کہ خلافت بنوعباس کی دعوت دی جائے ۔چنانچہ محمد بن علی نےایسا ہی کیا ۔104 ہجری میں جب ابو العباس السفاح پیدا ہوا تو محمد بن علی نے خراسانی نقیبوں سے کہا یہی تمہارا امام ہو گا۔

 

 

125ہجری میں خراسانی نقیبوں نے ابومسلم خراسانی کو کوفہ میں یوسف بن ابو سفیان باہلی کی خدمت گزاری میں دیکھا تو اسے اپنے مطلب کا پا کر اپنے ہمراہ محمد بن علی کے پاس لے گئے۔ محمد کی وفات پر انکا بڑا بیٹا محمد ابراہیم جانشین ہوا تو اس نے ابو مسلم خراسانی کو خراسان بھیج دیا۔ابو مسلم ایسے ہی موقع کے انتظار میں تھا۔ وہ لشکر جمع اور خندقیں کھدوا چکا تھا ۔ اس نے 129 ہجری بمطابق 747 عیسوی کو عید الفطر کے دن مرو میں حملہ کیا اور بنو امیہ کے اعمال کو خراسان سے نکال باہر کیا ۔ابومسلم بظاہر آل رسول ﷺ اور خفیہ طور پر آل عباس کی دعوت دیتا تھا۔ اموی گورنر نصر بن سیار مقابلے سے بھاگ کر ساوہ پہنچا تو انتقال کر گیا اور مملکت عجم پر ابو مسلم کا قبضہ ہو گیا۔اس نے بہت سا سامان مال غنیمت کے طور پر ابرہیم عباسی کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے بھائیوں ،اہل خانہ اور نوکروں کے ہمراہ حج کیا ۔

اموی خلیفہ مروان حمار کو جب خبر ملی تو اس نے ابراہیم عباسی کو گرفتار کر کے حران کے قید خانے میں ڈال دیا۔ وہیں ابراہیم نےوفات پائی۔ ابراہیم کا بھائی ابو جعفر منصور اپنے چچاؤں ، بیٹوں اور بھائیوں کے ساتھ کوفہ میں رپوش ہو گیا۔ ابو مسلم عراق میں امیر “آل محمد” مشہور ہو گیا ۔اس نے زید بن علی علوی جو ہشا م بن عبدالملک کے دور میں بغاوت کے جرم میں قتل ہو گیا تھا ؛کی یاد میں لوگوں کو ماتم داری اور سیاہ لباس پہننے کا حکم دیا۔

 

کہا جاتا ہے کہ اس مرحلےمیں ابو مسلم نے تین علویوں حضرت امام جعفر صادق، عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کو یکے بعد دیگرے امامت کی پیش کش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔اسی اثنا میں کوفہ میں خراسانی نقیبوں نے ہنگامہ کر دیا اور ابو حمید ثمرقندی نامی ایک خوارزمی غلام نے ابوالعباس السفاح سے بیعت کر کے لوگوں کو بھی اس کے بارے میں خبر کر دی۔ لوگ جمع ہو گئے تو ابوالعباس بروز جمعرات بارہ ربیع الاول 132 ہجری بمطابق 29 اکتوبر 749 ء بوقت شام سیاہ لباس پہن کر باہر آیا ۔مسجد جامعہ میں بیعت خلافت ہوئی۔

عباسیوں کا عہدِ عروج کے خلفاء:

 

5۔ ہارون رشید:

 

ابو جعفر ہارون رشید کی بیعت 17 ربیع الاول 170 ہجری کو ہوئی۔ مورخین کے مطابق ایک دن پہلے ہادی نے وفات پائی، دوسرے دن ہارون خلیفہ کی کرسی پر بیٹھا اور تیسرے دن اس کا بیٹا مامون پیدا ہوا۔ خلیفہ بنتے ہی کرسی وزارت پر خالد برامکی کو متمکن کیا۔ حضرت ابو طالب کی اولاد کو امان دی اور بنی ہاشم کے لئے مال کا 5/1 حصہ مقرر کر دیا۔ قاضی ابو یوسف ؒ کو قاضی القضاۃ بنایا۔ رے اور مغرب کی قضاپر امام محمد حسن شعیبانی کو مقرر کیا۔ برامکہ کا عروج بہت بڑھ گیا تھا جسے توڑنے کے لئے ہارون نے جعفر بن یحییٰ کو مرو ا دیا۔ یحییٰ اور اس کے بیٹے فضل کو قید میں ڈلوایا۔ وہ دونوں قید خانے میں مرے۔ہارون ایک سال حج اور ایک سال جہاد کرتا تھا۔ اس کی خلافت مدت 23 سال تھی۔

 

6۔ محمد الامین بن ہارون:

 

اس کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ہارون نے امین اور اس کے بعد مامون کو ولی عہد نامزد کیا تھا۔ شوال 171 میں پیدا ہوا۔ بیعت طوس میں ہوئی۔ امین فاضل اور فیاض تھا لیکن نازونعم میں پلا تھا۔اس لئے جلد ہی لہو لہب میں مشغول ہو گیا۔مہینے میں صرف ایک بار دربار کرتا تھا۔ اس نے تمام اختیارات فضل بن ربیع کے حوالے کر دئیے تھے۔ مامون نے علی بن موسی علوی کے لئے بیعت کا اہتمام کر دیا تو امین نے ایک لشکر مامون سے جنگ کے لئے بھیج دیا ادھر مامون نے بھی ایک بھاری لشکر بغداد روانہ کردیا جس میں ایک سال کے محاصرے کے بعد فتح پائی ۔امین کو ہلاک کر دیا گیا۔ امین کی عمر 27 سال اور خلافت صرف چار سال تھی۔ بغداد میں اس کی موت کے بعد ابراہیم مبارک بن مہدی کی بیعت کر لی گئی تا کہ خلافت عباسیوں کے ہاتھ سے نہ چلی جائے۔ کیونکہ مشہور تھا کہ مامون نے علی موسیٰ رضاکی ولی عہدی کا اعلان کر دیا ہے۔ ابراہیم کی خلافت ایک سال اور گیارہ مہینے قائم رہی۔

 

7۔ عبداللہ المامون:

 

عبداللہ المامون کا رنگ سرخ و سفید ، آنکھیں بڑی اور سر کے بال کم تھے۔ چہرے پر ایک سیاہ تل تھا۔ وہ نیک سیرت ،رعیت پرور ، عادل و منصف اور محکمہ قضاۃ میں خود بیٹھتا تھا۔ وہ خطبہ دیتا اور جمعہ پڑھاتاتھا۔ علی بن موسیٰ رضاؒ کی موت کے بعد اپنے بھائی معتصم کو ولی عہد بنایا۔پرانے علوم ،فلسفہ، حکمت ،طب اور نجوم کو یونانی زبان سے عربی میں منتقل کروایا۔رومیوں کےخلاف کئی بار جہا د کیا اور ان کے متعدد قلعے اور شہر فتح کر لئے۔ پہلے فضل بن سہل اور پھر اس کے بھائی حسن بن سہل کو وزیر بنایا۔ طاہر بن حسن کو سپہ سالار مقرر کیا اور امین کی موت کے بعد بیس سال حکومت کی اور اڑتالیس سال کی عمر میں 218ہجری بمطابق 833 عیسوی میں رومی علاقے میں فوت ہوا۔ اس کی میت طرطوس لاکر دفن کی گئی۔

خاندان بنو عباسیہ کے زوال کی وجوہات:

بنو عباس کی حکومت کم و بیش 500 سال کے طویل دور پر محیط رہی اور پھر کئی وجوہات کی بنا پر نیست ونابود ہوگئی۔ اس خاندان کے پہلے 15 بادشاہ اپنی ذاتی خوبیوں مثال کے طور پرعقل مندی، دوراندیشی، تحمل و بردباری، علم و ہنر اور بہادری کی بنا پر ممتاز تھے۔ وہ نہ صرف عوامی مسائل کو جاننے کے لئے عوام میں رہتے تھے بلکہ جنگ کی حالت میں وہ میدان جنگ میں اپنے لشکریوں کی قیادت خود کرتے تھے۔ ان کی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے ہر خاص وعام کے دل میں خلافت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور کسی کو بغاوت یاسرکشی کی جرات نہ تھی ۔تاہم وقت کے ساتھ ساتھ دربار خلافت علم وفضل کی بحثوں کے ساتھ ساتھ طاؤس و رباب کا بھی مرکز بنتا گیا ۔

خلفاء کی اکثریت ناچ گانے اور شراب و کباب کی دلدادہ تھی ۔ا ن کے حرم میں خوبصورت خواتین کا ہجوم تھا اور درباری سازشیں بام عروج پر تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنی عبا س کو اقتدار میں لانے والے ایرانی تھے ؛جس میں ابو مسلم خراسانی سرفہرست تھا اور جس کو خلیفہ ابو جعفر منصور نے اپنے سامنے قتل کروا دیا تھا۔ اس کے بعد ایرانیوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے میل بیٹھ گئی۔ایرانیوں کا اثر رسوخ ختم کرنے کے لئے خلفاء نے ترکوں کو اہم عہدے دینے شروع کر دئیے جنہوں نے اپنے من پسند ترکوں کو اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا۔ عباسی خلفاء کی فوج کا کثیر حصہ اپنی بہادری اورجرات کی وجہ سے ترکوں پر مشتمل ہوتا تھا جنہوں نے طاقت پکڑتے ہی من مانی شروع کر دی۔ وہ خدمت گزار ہونے کے بجائے بادشاہ گر بن گئے۔ انہوں نے کئی خلفاء کی آنکھوں میں سلاخیں پھیروا دیں۔ کئی کو قید میں ڈالے رکھا اور کئی بادشاہ انکا اثر روسوخ ختم کرتے کرتے خود اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس کے علاوہ خلفاء اپنے آپ کو قصر صدارت میں لہو ولہب کی محافل میں دن رات مستغرق رکھتے تھے جس کی وجہ سے کئی ممالک یا تو خلافت عباسیہ سے بالکل نکل گئے یا پھر ان پر ان کی گرفت بالکل ڈھیلی پڑگئی۔ بغداد کے زیر سایہ کئی مطلق العنان حکومتیں قائم ہو گئیں جن میں سلجوقوں کی حکومت، ہندوستانی حکومت، فاطمی حکومت، ایوبی حکومت اور سامانی حکومت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ عالم اسلام کے بڑے بڑے فتنے جس میں معتزلہ، خارجی، قرامطی اورسباحی شامل تھے ؛نے بھی اسلامی حکومت کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلاکر کے رکھ دیا۔

 

عباسی خلفاء کے آخری دور میں جب خدا خدا کر کے ترکوں کا زور کسی حد تک ٹوٹا توتاتاریوں نے چنگیز خان کی قیادت میں خلافت عباسیہ کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ چنانچہ 1258 عیسوی میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے خلیفہ المعتصم بااللہ کے وزیر علقمی سے ساز باز کر کے بغداد کو فتح کر لیا اور خلافت عباسیہ کو ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ بغداد کی فتح کے وقت شہر میں تمام مردوں کو قتل کر دیا گیا اور شہر کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی گئی۔

سوال نمبر 4 عہدے بنو عباس میں مذہبی علوم میں جو نمایاں کام ہوا اس کا جائزہ لیں۔

جواب۔

اموی عام طور پر بہترین منتظمیں ثابت ہوئے اور انہیوں نے اپنی سلطنت کو سیاست اور اپنی جنگی قوت کے امتزاج کے بل بوتے پر قابو میں رکھا۔ تاہم، مختلف عرب اور عجمی قبائل، جن میں سے شعوں اور ایرانیوں، کا وفاق سے علیحدہ ہونا ایک ایسا سنگین مسلئہ تھا جسے وہ دائرہ اختیار میں نہ لا سکے۔ مزید برآں، اپنے دور کے خاتمے تک، شاہی خاندان کا اندرونی حلقہ بھی منتشر ہو گیا تھا، ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا تھا اور ریاست پر ان کا تسلط کمزور ہو گیا۔ آخری اموی مقتدر اعلیٰ، مروان ثانی ( ۷۴۷ تا ۷۵۰ء) نے ایک واضع بغاوت کی صورت میں اپنے عوام کی سرکشی، تنفر اور ہنوز دبائی جانے والی آگ کا سامنا کیا۔

 

بغاوت عباسیہ

عباس بن عبد المطلب (۵۶۸ تا ۶۵۳ء) محمدﷺ کے چھوٹے چچاوں میں سے ایک تھے، اور ان کی اسی نسبت نے ان کی آل اولاد کی اس بغاوت کو ہوا دی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ باغیوں نے کبھی اہل بیت کی اصطلاح کی کبھی وضاحت نہیں کی: شیع مسلمانوں کے مطابق اہل بیت خاندان علی تھا،جبکہ عباسی اس اصطلاح کو اپنے لیے استعمال کرتے تھے۔

 

Calligraphy of Abbas ibn Abd al-Muttalib

عباس ابن عبد المطلب کے نام پر کی گئ خطاطی

باسم (CC BY-SA)

اس شورش کا روح رواں ابو مسلم (و ۷۵۵ء) تھا۔ اس شخص کے بابت اتنی کثیر معلومات ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ جتنا ہمیں معلوم ہے، اس کے مطابق انتہائی محنت سے ترتیب دیئے گئ اموی برتری اورساسی تدبیر کے تحت اولیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکا اور عباسی حکومت کی بنیاد ڈالی۔

 

خلیفہ مروان کو سلطنت کو بچانے کے لیے حکومت کی ذمہ داری سے لیے گئے وقفہ سے نکالا گیا لیکن پہلے ہی پانی سر کے اوپر سے گزر چکا تھا، اب تک پس پردہ رہنے والی تحریک نے زور پکڑ لیا تھا اور ۷۵۰ء کے قریب، بنو عابس کی بغاوت اپنے عروج پر تھی۔ مایوسی کے عالم میں، خلیفہ نے خاندان عباسیہ کے سربراہ، ابراہیم کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس کا انتہائی بے رحمی اور سفاکی سے قتل کر دیا گیا۔ اس کے چھوٹے بھائی ابو عباس نے تحریک کی باگ ڈور سنبھال لی اور کرب ناک بدلے کا مصمم ارادہ کر لیا۔

 

ابو عباس کی نگرانی میں عباسی افواج کی کثیر تعداد کا دیائے الزاب کبیر کے قریب (۷۵۰ء) میں مروان کے لشکر سے سامنا ہوا اور موخر الذکر اس وقت فاتح و کامران ثابت ہوا جب خلیفہ مروان کی افواج خوف و دہشت کے عالم میں میدان جنگ چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔ مروان، جو کہ مغربی علاقوں سے اپنی افواج کو منظم کرنے اور لشکر میں اضافہ کی غرض سے مصر بھاگ گیا تھا، پکڑا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں کوفہ میں ابو عباس ’’السفاح’’ (خون کا پیاسا) (خلیفہ ۷۵۰ تا ۷۵۴ء) کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا۔ شیعوں کو بعد میں اس امر کا ادراک ہوا کہ آل علی کے لیے ان کی محبت اور عقیدت کو عباسیوں کے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

 

عباسی حکومت کا طلوع

زاب کی جنگ میں فتح کے بعد، السفاح نے اپنی فوج کا زیادہ حصہ وسطی ایشیاء میں چینی تانگ خاندان کی پیش قدمی کو پسپا کرنے کے لیے بھیج دیا۔ چینیوں کی چڑھائی جنگ تالیس (۷۵۱ء) کے بعد رک گئی کیونکہ مسلمانوں کے لشکر نے انہیں ایک نتیجہ خیز شکست کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن انتشار اور خونریزی کے اس مختصر سانحہ کے بعد خوشگوار تعلقات کا سلسلہ جلد ہی شروع ہو گیا جس نے اسلامی تاریخ کو ایک نئے عہد میں لا کھڑا کیا۔ اس دور میں بجائے اپنے سلطنت کو وسعت دینے کے، عباسیوں نے اہنی ملکیت میں موجود علاقوں کے تحفظ اور عظمت و ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کی

 

As-Saffah Being Proclaimed Caliph

السفاح کا خلیفہ بننے کا منظر

Muhammad Bal’ami (Public Domain)

السفاح نے بنو امیہ سے چن چن کر بدلے لیے، اور اپنے اس مقصد کی تکمیل میں کسی قسم کی نرم دلی کو مزاحم نہ ہونے دیتے ہوئے زندہ اور مردہ کسی کو نہ بخشا۔ شام میں بنو امیہ کی قبروں کو کھودا گیا اور ان کی باقیات کو جلانے کے ساتھ ساتھ تہہ و بالا کر دیا گیا۔ اسی طرح زندہ بچ جانے والے مرد افراد کو بھی بے دریغ موت کے گھات اتار دیا گیا۔ وہ افراد جو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور چھپن چھپائی کا کھیل کھیل رہے تھے، انہیں تحفظ اور صلح پر آمادگی کے وعدوں کا جھانسا دے کر دعوت طعام دی جاتی اور پھر شاہی خاندان کی آنکھوں کے سامنے سفاکی اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کر دیا جاتا تھا۔ یہ ریاست کے حاکمین پیک اجل کو لبیک کہنے والے شکاروں کی آہ و پکار پر تل دھرنے کے بجائے اپنے ہاں خوشی کے شادیانے بجاتے اور انہیں ان کے نالہ و فغاں اور چیخ و پکار سے ہکسر فرق نہ پڑتا۔

ایک دفعہ عبدالرحمان اول نامی ایک نوجوان اس قتل و غارت سے بچ گیا اور بچتے بچاتے اپنا دامن سنبھالتے ہوئے عباسی سلطنت کی حدود کے اس پار ہسپانیہ چلا گیا جہاں اس سے ۷۵۶ء میں امارات قرطبہ کا سنگ بنیاد رکھا۔ السفاح الم حکومت سنبھالنے کے چار سال بعد ہی اس دنیا سے کوچ کر گیا جبکہ ریاست کی میان اس کے چھوٹے بھائی جعفر ’’المنصور‘‘ (فاتح، دور ۷۵۴ تا ۷۷۵ء) کے ہاتھ آ گئی۔ المنصور جیسے تابناک القابات اور خطابات رکھنے کی یہ روایت بعد میں آنے والی عباسی حاکموں کے ہاں بھی ملتی ہے۔

 

المنصور اور بغداد

ایک ایسی چیز جو عباسیوں کے ہاں اب بھی ناپید تھی، وہ ایک ذاتی دارالخلافہ تھا۔ الہلال الخطیب کا علاقہ زمانہ قدیم سے ہی انسانی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے، اور یہی وہ خطہ تھا جہاں المنصور نے دجلہ کے قریب ایک نئے دارالحکومت، بغداد کی تعمیر کا حکم صادر کیا۔ یہ وہ شہر تھا جو اپنی رونق، چہل پہل اور آب و تاب کی وجہ سے اپنے دور کے تمام یورپی شہروں کو ہر صف میں مات دے چکا تھا۔

 

City Plan of Medieval Baghdad

قدیم بغداد کا شہری منصوبہ

William Muir (Public Domain)

المنصور نے اپنے بھائی کی طرح کئی طرح کے مظالم ڈھائے۔ اس مرتبہ بنو عباس کے عناد کا سایہ علی کا سلسلہ نسب تھا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ علی کی آل اولاد ان کی خلاف کسی قسم کی سازش کر ہی ہے، اس نے انہیں ایک بغاوت پر مجبور کیا اور پھر اس سرکشی کو انتہائی بربریت سے کچل دیا (۷۶۲،۷۶۳۴)۔ سلطنت عباسیہ قائم کرنے والا ابو مسلم (وفات ۷۵۵ء) بھی اپنی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و نفوذ کی بدولت اس کی تلوار کا شکار ہو گیا۔ بنو عباس کے اس حامی کی ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی نعش کو بغیر کسی رسمی اعزازات کے دجلہ میں بہا دیا گیا۔

 

السفاح اورالمنصور کے اپنے مخالفین کے ساتھ رواں رکھے جانے والے ظلم و بربیت نے انسانیت کی تمام حدوں کو عبور کر دیا۔ وہ لوگ جو آل امیہ کو جہنم کا ایندھن بننے والی شیطانی مخلوق سمجھتی تھی، اب ان کے ساتھ ہمددری کرنے لگے تھے۔ المنصور ایک بہت شاطر سیاسی مدبر تھا، اور سلطنت عباسیہ کا حقیقی بانی بھی وہی تھا لیکن اس کی ظالمانہ اور ستمگرانہ طبیعت بطور سیاستدان اس کی تمام کامیابیوں پر غالب آجاتی ہیں۔

 

المہدی اور آل مہدی

انتہائی پرہیزگار اور متقی ہونے کی وجہ سے المہدی (۷۷۵ تا ۷۸۵ء خلیفہ) اپنے باپ امنصور کی نسبت بہت ہی مختلف مزاج شخص ثابت ہوا۔ یہ امر مسلم ہے کہ میدان جنگ میں اپنے دشمنوں اور حریفوں کو کچلنے کی راہ میں اس کی نیک دلی کبھی آڑے نہیں آئی لیکن عوام اور رعایا کے بابت اس کی جود و سخاوت اور فیاضی کی کوئی حدود نہیں تھیں۔ آل علی کے ساتھ کیے گئے اپنے باپ کے مظالم کی تلافی کے لیے اس نے ان کے قید میں موجود خاندان علی کے تمام افراد کو نہائیت شان و شوکت اور تکریم کے ساتھ رہا کیا اور بطور ازالہ ان پر اپنی دولت نچھاور کر دی۔ اس کی آنکھوں کا چراغ، اس کا محبوب نظر، الخیزران(وفات ۷۸۹ء) ایک باندی تھی، جسے اس نے آزاد کر دیا اور اپنی ریاست کی ملکہ بنا دیا۔

 

باوجود یہ کہ اس میں رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی، خلیفہ المہدی کو بے ضرر نہیں سمجھا جا سکتا۔ مسلمان علاقوں میں بازنظینی دراندازیوں کو مسلمانوں کے فرماں روا کی جانب سے سختی سے نپٹا گیا۔ عرب اور بازنطینوں کے تعلقات کا آغاز ہی خوشگوار نہیں ہوا تھا جب محمدﷺ کی جانب سے بھیجے گئے ایلچی کو سنگ دلی سے قتل کر دیا گیا تھا اور اس قتل کے بعد، کشت و خون کے انبار لگ گئے۔ باوصف یہ جنگیں اور جھڑپیں ابتداء میں بے سود تھیں لیکن بعد ازاں انہوں نے خلافت راشدہ کے ہاتھ میں ایک کثیر رقبہ اور ڈھیوں مال و متاع تھما دیا۔ مزید برآں، چونکہ قبضہ کیے گئے ان نئے علاقوں کے باشندے زیادہ تر قبطی تھے، انہوں نے مسلم حکومت کو بلا چوں چرا قبول کر لیا اور حد یہ کہ، بازنطینیوں کے خلاف (جو کہ ان قبطیوں کو قتل کر دیتے تھے) اہنے نئے حاکموں کی مدد بھی کی ۔ عباسیوں کے دور تک، معاشرتی اور سیاسی صورت حال بہت حد تک ثبت ہو چکی تھی، اور مشرق میں بازنطینیوں کی واحد ملکیت اناطولیہ کا علاقہ تھا لیکن امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ مخلتف حکمرانوں نے عباسی علاقوں میں اپنی حدود پھیلانے کی خاطر جوں توڑ کوششیں کیں۔ ان کے منصوبوں کو تسلسل کے ساتھ ناکام بنایا جاتا رہا اور سزا کے طور پر ان سے خطیر زرمبادلہ لیا گیا

سوال نمبر 5۔ عہد عباسی کی اصلاحی و عسکری تحریکات پر روشنی ڈالیں۔

جواب۔

عہدِ عباسی میں علوم و فنون کا ارتقاء-

اسلام نے شروع ہی سے علم حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی پہلی آیت جو نبی کریمﷺ پر نازل کی ،اس کی شروعات علم سے ہوتی ہے:

”پڑھو(اے نبی )اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا،جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔پڑھو،اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا“(العلق:۱،۵)

مختلف احادیث میں بھی علم حاصل کرنے اور اس کو پھیلانے کی تاکید کی گئی ہے۔حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر داور عورت پر فرض ہے“(ابن ماجہ:۴۲۲)

یہاں علم سے مراد صرف حلال و حرام یعنی علوم شرعیہ ہی نہیں ہیں،بلکہ ہر وہ علم ہے جس کے ذریعے انسان اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو کما حقہ ادا کر سکے، جس کے لیے اسے زمین کا خلیفہ بنا یا گیا ہے۔

نبی کریم کی بعثت کے وقت کل ۷۱ لوگ ہی مکہ مکرمہ میں پڑھنا لکھنا جانتے تھے ۔اسی لیے آپ نے شروع ہی سے اس پر توجہ دی ۔غزوات میں جب عربوں کی ایسی جماعت گرفتار ہوئی جو لکھنا پڑھنا جانتی تھی تو ان کا فدیہ یہی ہوتا تھا کہ وہ دس مسلمانوں کو تعلیم دیں۔ آپ کی اس خصوصی توجہ سے صحابہ کرام میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ۔اس کو خلفاءراشدین نے مزید آگے بڑھایا(بلاذری :انساب الاشراف)۔

اسلام کے آغاز میں صرف دینی و شرعی علوم ہی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن سکے، لیکن جب اسلامی حکومت وسیع ہوئی اور اموی دور (۱۶۶-۰۵۷ئ)شروع ہوا تو علوم عقلیہ و نقلیہ دونوں طرف بھرپور توجہ دی گئی۔اس کے بعد عباسی حکومت (۰۵۷-۸۵۲۱ئ) ابوالعباس السفاح کے ذریعے قائم ہوئی، جس میں کل اکیس خلیفہ ہوئے ۔ اس کا خاتمہ ۸۵۲۱ءمیں تاتاریوں کے ہاتھوں ہوا۔اس دور میں علمی و تعلیمی تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ جرجی زیدان نے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:

”عہدِ عباسی اسلام کا وہ عہدِ زریں ہے جس میں مسلمانوں کی سلطنت، دولت و ثروت،تہذیب وتمدن اور سیاست و حکمرانی کے اعتبار سے عروج پر پہنچ گئی تھی۔اس میں بیشتر اسلامی علوم نشو نما پائے اور اہم داخلی علوم کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا“(عبدالرحمان الانباری،نزہةالالباءفی طبقات الادبائ، ص۲۷،مصر)

عہدِ عباسی میں مسلمانوںنے اپنے علم و فن کو توسیکھا ہی،ساتھ دنیا کے دوسرے اہم علوم وفنون میں بھی مہارت حاصل کی۔یونانی،سریانی،سنسکرت اور فارسی کتابوں کے عربی میں بہ کثرت ترجمے کیے گئے۔اس دور میں تصنیف وتالیف کی دو بڑی وجہ تھی:

اول یہ کہ علماءکرام اور مصنفین و محققین کو عباسی حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ان کو اتنا مال و دولت سے نوازاجاتا تھا کہ انہیں ذریعہ ¿ معاش کی طرف سے بے فکری رہتی تھی۔ترجمہ کرنے والوں کو ترجمہ کی ہوئی کتاب کے وزن کے برابر سونا یا چاندی دے کر حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

دوم یہ کہ مسلمان اس وقت کاغذ بنانے کے فن سے واقف ہو گئے تھے۔یہ فن انہوں نے ان چینی قیدیوں سے سیکھاتھاجوبنی امیہ کے دور میں سمرقند کی فتح کے دوران ۴۰۷ھ میں گرفتار ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کتابیں جھلیوں، کھالوںاور پتیوں وغیرہ پر لکھی جاتی تھیں،جس میں خرچ زیادہ آتا تھا اور وہ محفوظ بھی نہیں رہتی تھیں۔

عباسی دور میں یوں تو تقریباً تمام ہی خلفاءنے علوم و فنون کی سرپرستی کی،لیکن ابوجعفر منصور، ہارون رشید اور مامون رشید نے اس پر خصوصی توجہ دی۔

خلیفہ منصور نے بغداد شہر بسایا جو علوم و فنون اور تہذیب و تمدن میں دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا تھا۔یہاں دور دراز سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ اس کے علاوہ دوسرے بڑے علوم و فنون کے مراکز بصرہ، کوفہ ، فسطاط، قیروان،رے،نیشاپور،مرو اور بخارا تھے۔

عباسی دور میں جن علوم و فنون کا ارتقا ہوا اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

۱-دینی علوم:

قرآن کریم: اس پر عہدِ نبوی، عہدِخلفائے راشدین اوراموی دور میں کام مکمل ہو چکا تھاتو اس میں کچھ کرنے کو باقی نہ تھا۔البتہ اس دورمیں قرآنی آیات کو مختلف طرح سے، دلکش انداز میں نقش و نگار کے ساتھ لکھے جانے کے فن کو فروغ دیا گیا۔

علمِ قرا ¿ت:عہدِ عباسی میں اس فن پر خصوصی توجہ دی گئی اورقرّاءسبعہ(امام عبد اللہ بن کثیر عامربن یزید دمشقی (م۶۳۷ئ)،امام عبد اللہ بن کثیر مکّی(م۸۳۷ئ)، امام عاصم بن ابی النجود کوفی(م۴۴۷ئ)، امام ابو عمرو بن العلاءبصری(م۱۷۷ئ)، امام حمزہ بن حبیب زیات کوفی(م۴۷۷ئ)، امام نافع بن ابی نعیم مدنی(۶۸۷ئ)، امام علی بن حمزہ کسائی کوفی(م۵۰۸ئ)۔(ان میں سے چار مو ¿خر الذکر نے عباسی دور پایا تھا) نے اس میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں،پھر ان کے شاگردوں نے اس موضوع پر مختلف کتابیں لکھیں،جس میںکتاب النھایة (محمد بن الجزری م۹۲۴۱ئ) بہت مشہور ہوئی۔دوسرے مصنفین میں”حافظ ذہبی(م۷۴۳۱ئ)، محمد بن الجزری(م۹۲۴۱ئ) ابوعمرو عثمان الدانی(م۲۵۰۱ئ)،خلف بن ہشام، ابن کامل، ابو بکر طاہر،ابوبکرالنقاش ،ابوبکر بن الحسن، “وغیرہ مشہور ہوئے۔

علمِ تجوید: قرآن کریم کو اس کے صحیح مخرج اور خوش کن آواز میں پڑھنا تجوید کہلاتا ہے۔ عباسی دور میں اس پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس پر کتابیں بھی لکھی گئیں۔ اس فن پر سب سے پہلی کتاب موسیٰ بن عبیداللہ خاقانی بغدادی (م۷۳۹ئ) نے لکھی ۔

علمِ تفسیر: ”یہ ایک ایسا علم ہے جس کی مدد سے قرآن کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھا جاتا ہے اور اس کے احکام و مسائل اور اسرار و حکم سے بحث کی جاتی ہے“۔

عباسی دور میں اس پر خصوصی توجہ دی گئی اور کثیر تعداد میں تفسیریں لکھی گئیں۔تمام مفسرین نے اپنے اپنے علم و فن کے لحاظ سے قرآن کی تفسیر کی ،مثلاً تفسیرِ ماثورہ، تفسیر بالرای اور تفسیر الفقہاء وغیرہ۔ان میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں:

تفیسرِ طبری(محمد بن جریر، م۳۲۹ئ)،تفسیر امام ثعلبی (م۶۳۰۱ئ)، تفسیر سفیان بن عینیہ(م۴۱۸ئ)، تفسیر عبد الرزاق (م۶۲۸ئ)، تفسیر شعبہ بن حجاج (م۷۷۷ئ)، تفسیر ابن مردویہ (م۹۱۰۱ئ)، تفسیر مفاتیح الغیب (امام رازی م ۰۱۲۱ئ) وغیرہ۔

علم ِحدیث:حدیث کے لغوی معنیٰ بات،کلام،بیان اور اظہار کے آتے ہیں۔اصطلاح میں نبیِ کریم ﷺ کے اقوال،افعال،تقریرات اور صفات کو حدیث کہتے ہیں۔

عہدِ عباسی میں احادیث کی جمع و تدوین، تہذیب و تصحیح کا عظیم ترین کام ہوا۔ صحاحِ ستہ یعنی صحیح بخاری (ابوعبد اللہ محمد بن اسماعیل ،م ۰۷۸ئ)، صحیح مسلم (مسلم بن حجاج قشیری ،م۵۷۸ئ)، سنن ابی داو ¿د (سلیمان بن اشعث،م۸۸۸ئ)، جامع ترمذی (ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ، م ۲۹۸ئ)، سنن نسائی (احمد بن شعیب،م۶۱۹ئ) سنن ابن ماجہ (محمد بن یزید، م۸۸۸ئ) اسی دور میں لکھی گئی۔ اس کے علاوہ احادیث کی مشہور کتابوں میں سنن دارقطنی (ابوالحسن علی بن عمر،م۵۹۹ئ)صحیح ابن خزیمہ (محمد بن اسحاق،م۳۲۹ئ)،مستدرک حاکم(امام حاکم ابوعبداللہ،م ۵۱۰۱ئ)، مسند خوارزمی (امام ابو بکر احمد بن محمد برقانی، م۴۳۰۱ئ) وغیرہ کا نام آتا ہے۔

علمِ فقہ: ”وہ علم ہے جس میں تفصیلی دلائل کے ذریعہ احکامِ شرعیہ کو سمجھا جاتا ہے ، بحث کی جاتی ہے اور قوانین اخذ کیے جاتے ہیں “۔

علم فقہ کی باضابطہ تدوین ترویج بھی عباسی دور کا کارنامہ ہے ۔ فقہ کے چاروں مدارس یعنی فقہ حنفی (امام ابو حنیفہؒ، ۹۹۶-۷۶۷ئ)،فقہ مالکی (امام مالکؒ، ۵۱۷-۵۹۷ئ)،فقہ شافعی (امام شافعی،ؒ ۷۶۷-۰۳۸ئ)،فقہ حنبلی (امام احمد بن حنبلؒ ،۰۸۷-۵۵۸ئ)اسی عہد میں وجود میں آئے۔ ان کے علاوہ فقہ جعفری (امام جعفر صادق،۰۸-۸۴۱ھ) بھی اسی زمانے مےں مدون ہوئی۔

فقہ حنفی کو فروغ دےنے مےں امام ابوحنےفہ کے شاگرد قاضی ابوےوسف (۳۱۱-۳۸۱ھ)اور امام محمد بن حسن شےبانی (۳۳۱-۹۸۱ھ) کا اہم کردار رہا۔امام محمد قانون بےن الممالک کے بانی اول سمجھے جاتے تھے۔فقہ مالکی کی سب سے اہم کتاب ’مدونہ‘ہے ، جس کو اسد بن فرات(م۳۱۲ھ) اورامام محمد بن سحنون(م،۰۷۸ئ) نے مرتب کی تھی۔ امام شافعی کی مشہور کتاب ’کتاب الام‘ اور ’الرسالہ‘ ہےں اور امام احمد بن حنبل نے ’مسند‘کے نام سے حدیث کی اےک بڑی ضخےم کتاب لکھی ۔

فقہ کی دوسری اہم کتابوں میں ”مختصر القدوری (احمد بن محمد قدروی ،م۷۳۰۱ئ)، کتاب الہداےہ(امام علی بن علی ابی بکر فرغانی،م۷۹۱۱ئ)، شرح الجامع الکبےر(امام بلخی،م۹۱۲۱ء) ، الحاوی(ابوالحسن علی الماوردی،م۸۵۰۱ئ)،احےاءعلوم الدےن کتاب الوجےز ،الوسےط ،البسےط ،اختصار المختصر(امام غزالی ،م۱۱۱۱ئ) ، رےاض الصالحےن(امام نووی،م۷۷۲۱ئ)، المغنی فی شرح الخرقی(امام ابن قدامہ ،م۳۲۲۱ئ)“ وغےرہ بہت مشہور ہوئےں۔

سےرت اور تارےخ :مسلمانوں نے پہلے سیرت النبی پر لکھنا شروع کیا ، اس سے سیرت نگاری کو فروغ ملا۔سیرت اور مغازی دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ،تو ساتھ ہی ساتھ مغازی کو بھی بڑھاوا ملا ۔پھر یہیں سے تاریخ نگاری کا آغاز ہوا۔

عباسی دورمےں مورخین نے تارےخ کا دائرہ بہت وسیع کر دیا تھا۔اس میںخلفاءکی تاریخیں، فتوحات، شکست، وزرائ، امرائ،شرفائ،ادبائ،شعراءاور لوگوں کے پیشوں وغیرہ کو بھی شامل کیا۔ ان پر کثےر تعداد مےں کتابےں لکھی گئیں ۔ ان مےں سے چند مشہور درج ذےل ہےں۔

سب سے پہلے ابن جریر طبری (۹۳۸-۳۲۹ئ) نے چودہ جلدوںپر مشتمل تاریخ پر کتاب لکھی ، جس مےں نبی صلی اللہ علےہ وسلم سے لے کر اپنے زمانے تک کہ تےن سو برس کے حالات تفصےل سے بےان کیے ہےں۔

٭السیرة النبوےة( ابن ہشام، م۴۲۸ئ) اس مےں انھوںنے نبی کرےم کی حالات زندگی کو تفصےل سے بےان کیا ہے۔

٭طبقات (ابن سعد،م۵۴۸ئ) ، اس مےں نبی ،صحابہ کرام اور تابعےن کے حالات لکھے ۔

٭ فتوح البلدان(بلاذری ،م۲۹۸ئ) نے لکھی ،جس مےں حضرت عمرؓ کے زمانے کی فتوحات ، اندلس، وسط اےشےا اور سندھ وغےرہ کی فتوحات کا حال ذکر کےاہے۔

٭ مروج الذہب (مسعودی م۶۵۹ئ) نے جو کہ اےک بڑے جغرافےہ داں اور سےاح تھے،انہوں نے یہ کتاب لکھی جس سے ہمارے سامنے چوتھی صدی ہجری کے حالات مکمل طورپر واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔

ان کے علاوہ سیرت اور تاریخ پر ”کتاب المغازی ( موسیٰ بن عقبہ ،م۸۵۷ئ)،انساب الاشراف (بلاذری ،م۲۹۸ئ) ، تارےخ الرسل والملوک (طبری ،م۳۲۹ئ)، کتاب المعارف (ابن قطےبہ دینوری ،م۹۸۸ئ)، کتاب الاوراق (الصولی ،م۷۴۹ئ)، تجارب الامم وتعاقب الہمم (ابن مسکوےہ،م۰۳۰۱ئ)،تارےخ دمشق (ابن عساکر،م۶۷۱۱ئ)، وفےات الاعےان (ابن خلکان، م۲۸۲۱ئ) ، ارشادالالباب الی المعرفت الادباء(ےاقوت حموی،م۹۲۲۱ء)، فتوح مصرو اخبارہ(ابن عبدالحکم مصری ،م۱۷۸ئ)، کتاب العبر و دیوان المبتداو الخبر فی ایام العرب و العجم و البربر(ابن خلدون،م۶۰۴۱ئ) ،اخبار ا لمغفّلین، کتاب الاذکیائ(ابن الجوزی،م۱۰۲۱ئ)، اخبار الاجواد، البخلاءاور قتلی القرآن“ وغےرہ اہم کتابےں ہےں۔

علم الکلام :اسلامی حکومت کے وسےع ہونے اور غےر عرب قوموں کے اسلام لانے کی وجہ سے نئے تہذےب و تمدن ان کا آغاز ہوا ،ساتھ ہی عبرانی وےونانی اور دوسری زبانوںمیں موجود کتابوںکا عربی مےں ترجمہ ہوا،جس سے مسلمانوں کے اندر غےراسلامی خےالات پھےلنا شروع ہوئے ۔ اسی سے علم الکلام کا آغاز ہوا۔

علم الکلام کی بنےاد امام ابوالحسن الاشعری (۳۷۸-۶۳۹ئ)نے ڈالی ۔ ان کی کتاب ’الابانہ اور مقالات الاسلامےےن‘ بہت مشہور ہےں۔ اس کے علاوہ اس موضوع پردوسری مشہور کتابوں میں ”کشف الاسرار ،دقائق الکلام اور کتاب التمہید (قاضی ابوبکرباقلانی)،کتاب الشامل،کتاب الارشاد(عبداللہ بن ےوسف ابوالمعالی،م۵۸۰۱ء)،تہافة الفلاسفہ،احےاءالعلوم الدین، معےارالعلوم،الجام العوام(امام غزالی،م۱۱۱۱ئ) کتاب التوحےد ،کتاب الجدل، کتاب المقالات ( ابومنصور محمدبن محمد،م۵۴۹ئ)، فی السےرة الفاضلہ ،کتاب الشکوک والمناقصات(محمد بن زکرےا رازی،م۴۵۸ئ)، تہذےب الاخلاق ،الفوز الاکبر، الفوز الاصغر ( ابن مسکوےہ ، م ۰۳۰۱ئ)“وغےرہ کا نام آتا ہے۔

علمِ فلسفہ:فلسفہ کا آغازعہدِ عباسی میںمامون رشید کے دور سے قیصرِ روم کے ذریعہ بھیجی گئی یونانی کتابوں کے عربی ترجموں سے ہوتا ہے ۔ارسطو اور افلاطون کے زیادہ ترجمے ہوئے ۔

فلسفہ میں یعقوب کندی،م ۳۷۸ء(کتاب الفلسفة الاولیٰ فی مادون الطبیعیات و التوحید،جواہرِ خمسہ اور سلسلہ ¿ علل)اور ابو نصر الفارابی،م۰۵۹ئ(سیاسة المدنیة) نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کندی کو ’پہلا عرب فلسفی‘ اور فارابی کو’ معلم ثانی ‘ کا خطاب دیا گیا۔ ان کے علاوہ دوسرے اہم فلسفیوں میں ”ابن سینا(کتاب الشفا،کتاب الاشارات و التنبیھات)، امام غزالی(مقاصد الفلاسفہ، تہافة الفلاسفہ،احیاءعلوم الدین)“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔

۲- عصری علوم :

عباسی دور مےں دےنی علوم کے علاوہ اور دوسرے علوم مثلاً طب ،رےاضی،فلکےات ،علم کےمےا، اور مختلف سائنسی علوم نے بھی ترقی کی۔ےہ علوم عربوںنے پہلے ےونانی ،سرےانی، سنسکرت اور دےگرزبانوںسے سےکھا اورپھر ان کو عربی زبان مےں منتقل کیا ۔ جس کے لےے باقاعدہ ہارون الرشےد نے بےت الحکمت قائم کےا، جہاں ترجمہ نگاری کا کام ہوتاتھا ۔

مشہور مترجمین میں ”حنین بن اسحاق، قسطا بن لوقا، عیسیٰ بن یحییٰ ، یوحنا بن ماسویہ، حجاج بن مطر،یحییٰ بن بطریق، عبدالرحمان بن علی،سلام بن الابرش اور ثابت بن قرة“ وغیرہ کا نام آتا ہے۔

علم طب :قرآن و حدیث میںطب اور صحت کے اصولوں کے تعلق سے جگہ جگہ رہ نمائی کی گئی ہے۔چنانچہ خلفائے اسلام نے ہر دور میں اس پر شروع ہی سے توجہ دی۔مسلمانوں میں یونانی طب کا رواج حکمائے یونان کی ان کتابوں سے ہوا جن کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔اس کے بعد انہوں نے اس فن کو مزید ترقی دی اور اس میں اضافہ بھی کیا۔

عباسی دور کے مسلم اطباءنے چیچک ،خسرہ اور دوسری وبائی بیماریوں پر خصوصی توجہ دی اور ان کے ٹیکے ایجاد کیے۔اس کے علاوہ ”فرسٹ ایڈ کا طریقہ،پارے کا لیپ،ٹانکوں میں حیوانی آنتوں کا استعمال،زخموں کو داغنے، پتھری کو آپریشن کے ذریعے نکا لنے، آنکھ اور دانت کی سرجری، پٹی باندھنے کا طریقہ،ہڈیوں کو جوڑنے اور ان پر پلاسٹر چڑھانے کا طریقہ،آپریشن میں جدید آلات کا استعمال،دورانِ خون کا نظریہ،مرکّب ادویہ میں شکر کا استعمال اور آپریشن کرنے سے پہلے سُن کرنے کے طریقے“ سے دنیا کو روشناس کرایا۔

عباسی دور میں خلفاءنے شفا خانے بھی کثیر تعداد میں تعمیر کرائے، جن کو ’بیمارستان‘ کہا جاتا تھا۔سب سے پہلا شفا خانہ ولید بن عبدالملک (۵۰۷-۵۱۷ء)نے دمشق میں بنوایا۔اس کے علاوہ دوسرے مشہورشفا خانوں میں ”بیمارستانِ برامکہ، بیمارستانِ حربیہ،بیمارستانِ السیدہ، بیمارستانِ المقتدری، بیمارستانِ ابن الفرات اور بیمارستانِ عضدی“ کا نام آتا ہے۔کل تعداد تقریباً۰۶ تھی۔ان شفا خانوں کی نگرانی کے لیے ایک خلیفہ کی طرف سے ایک ناظم مقرر کیا جاتا تھا۔سنان بن ثابت اس عہدے پر بہت مشہور ہوئے۔آپ نے ہی اطباءکا امتحان لے کر ڈگری دینے کا طریقہ نکالا تھا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!
Scan the code