اردو انشاء پردازی/اردو قواعد و انشا پردازی

 اردو انشاء پردازی
یہ رسالہ فن انشا پردازی پر لکھا گیا ہے ۔ جس میں انشا پردازی کے اقسام اور ان کے اصول کو مرتب کیا گیا ہے ۔ چونکہ انشا پردازی ایک مستقل فن ہے اور کوئی بھی زبان اس وقت تک ترقی یافتہ زبان نہیں کہی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کے اصول نہ مرتب کئے جائیں ۔ اردو زبان اپنی کم عمری کے باوجود بھی دیگر کئی زبانوں کے مقابلے میں پیش پیش نظر آتی ہے حالانکہ ابھی اس کا زبانوں کے عروج و زوال کے زمانے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابھی یہ زبان ایام طفلی میں ہے مگر جب ہم اس کی نثر و نظم کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات بہت جلد صاف ہو جاتی ہے کہ اب یہ زبان اپنی عروج پر ہے ۔ اس لئے یہاں بھی ہر صنف سخن کے لئے اصول مرتب ہوں ۔ مصنف موصوف نے اس کتاب میں انشا نگاری کے اصول پر بحث کی ہے اور مضمون نگاری ، اسلوب بیان ، عنوان کا انتخاب ، اختصار ، اردو انشا نگاری کے اصناف، خطو…
: اردو قواعد و انشا پردازی
اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو او…
 ادب میں مزاح نگاری کی اہمیت

ایک اچھا مزاح نگار سماجی اقدار کے مابین تضادات کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ یہ ہر لکھنے والے کی صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کے زور پر ان ناہمواریوں کو ایک خوبصورت موڑ دے کر مزاح کا روپ دے اور قاری کو تصویرکا وہ رخ دکھائے جو عام نظروں سے اوجھل ہو اور مزاح میں لطیف طنزکی تلخی شامل کرکے اسے معنی خیز بنانے کے ساتھ بامقصد بھی بنا دے۔
مزاح نگاری دراصل ایسا فن ہے جس میں چیزکو ٹیڑھے زاویے سے دیکھا جاتا ہے اور اسے مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے جب ایک فنکار اس اصول کو اپناتا ہے تو تحریر طنز و مزاح کا پیرایہ اختیار کرلیتی ہے۔ تحریر میں یہ اسلوب گہرے عرفان ذات اور سماجی شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ مزاح کی لازمی شرط مقصدیت ہے اس کی تہہ میں ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔

برناڈ شاہ نے کہا تھا جس طرح تیرنے کے لیے آد…
 اردو ادب

اردو ادب پر مغربی اثرات انیسویں صدی کے آغاز سے ہی پڑنے لگے تھے۔ مگر ان کا فیصلہ کن اثر ۱۸۵۷ء کے بعد ہوا۔ فورٹ ولیم کالج کی سادہ نثر، دہلی کالج میں درسی کتابوں کے لیے مفید اور واضح انداز بیان، ماسٹر رام چندر کے مضامین اور مرزا غالب کے خطوط میں یہ اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ شاعری کا تعلق روایت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ۱۸۵۷ء سے پہلے کی شاعری میں صرف غالب کے یہاں تشکیک، ارضیت اور انفرادیت کے نقوش ایک ایسے ذہن کے آئینہ دار ہیں جو روایت کے ساتھ نئے امکانات اور میلانات پر بھی نظر رکھتا ہے۔ ادب سیاسی تبدیلیوں کا یکسر تابع نہیں ہوتا، نہ ادبی ارتقا کی منزلیں سیاسی بنیاد پر متعین کی جا سکتی ہیں۔ مگر زمانے اور مزاج کی تبدیلیوں کا اثر ادب پر بہرحال پڑتا ہے۔
اسی لیے ۱۸۵۷ء سے جب انگریزوں کے الفاظ میں غدر ہوا اور برصغیر مورخوں کے الفاظ پہلی جنگ آزادی لڑی گئی، ار…
[07:14, 01/12/2022] +92 343 4842144: مزاح نگاری
مزاح لکھنا آسان نہیں ، مزاح نگاری حد درجے سنجیدہ کام ہے ، اردو میں مزاح کثرت سے لکھا گیا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اردو نے سنسکرت اور فارسی سے بہت بڑا حصہ پایا ہے اور ان دونوں میں مزاح بکثرت پایا جاتا ہے۔

اصل مزاح وہی ہے جس کے پیچھے درد کار فرما ہو ، معاشرے میں نظر آنے والی کسی بھی خامی پر دل میں جو درد کی لہر اٹھتی ہے وہ مزاح نگار کے قلم سے ہوتی ہوئی قرطاس پر اس خوش ادائی سے پھسلتی اور پھیلتی ہے کہ ہر طرف مسکراہٹ کی کلیاں کھلنے لگتی ہیں اور سرور کے شگوفے چٹکنے لگ جاتے ہیں۔

خود قدرت نے بھی زیادہ ہنسی کو آنسووٴں کے ساتھ جوڑ دیا ہے ، ہنسی اور خوشی کے ان آنسووٴں کی چمک بھی اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ عمدہ مزاح ، رونے والوں کا درد انھیں ہنسا کر دور کرنے کے علاوہ ہنسنے والوں کو بھی رونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

مزاح نگار کو چاہیے کہ وہ …
 مزاح نگاری

ہمارے یہاں لوگ کتابوں کی تعداد سے کسی ادیب کے قدوقامت کو ماپتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ کوالٹی نہیں دیکھتے، بلکہ تعداد دیکھتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی تو دیکھیں کہ پطرس بخاری کے نام کے بغیر مزاح مکمل نہیں ہوتا،اور ان کی وجہ شہرت بھی مزاح ہی ہے اور ان کی مزاح کی صرف ایک کتاب ہے اور وہ بھی پچاسی یا نوے صفحات پر مشتمل ہے۔ ان کا صرف ایک مضمون بعنوان ’’مرحوم کی یاد میں‘‘ ہے، جس کا دوسرا حصہ ’’مرزا کی سائیکل‘‘ ایف اے کے نصاب اردو میں شامل رہا ہے۔ صرف اسے پڑھتے ہوئے ہنسی آتی ہے۔ باقی مضامین کے معاملہ میں بس تبسم زیر لب والا معاملہ ہے۔باقی مزاح نگاروں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی قارئین کے چہروں پر تبسم ہی لا سکے ہیں اور اس اضطراب کے دور میں یہی کافی ہے۔

 

پطرس بخاری میدانِ ظرافت میں پائنر (راستہ دکھانے والے) تھے اور بیشتر مزاح نگار ان ہی کے نقش قدم پر چلے ہیں۔ نام…
کشمیری زبان میں ادب کی تخلیق کا ا?غاز باقاعدہ طور پر تحقیق کے مطابق آج سے چھ سو سال قبل اْس وقت ہوتاہے جب انگلستان میں انگریزی کے اوّلین شاعر چاسر نے s کو نظم کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور یہاں سرزمین کشمیر میں شیوازم اور روحانیت کی مبلغہ لل عارفہ کشمیری کی پہلی فلسفہ دان شاعرہ کی حیثیت میں اْبھررہی تھیں ۔ اسے زمانے کی ستم ظریفی ہی کہاجاسکتاہے کہ انگریزی اور کشمیری دونوں ہم عصر زبانیں ہونے کے باوجود اول الذکر جہاں ا?ج سارے جہاں میں جانی پہچانی ہے وہاں کشمیری زبان وادی کشمیر کی چار دیواری میں محبوس ہوکے رہ گئی ہے۔ حالاں کہ ایک مشہور مستشرق جے ہنٹن نو لزنے اس زبان کی لوک کہانیاں مرتب کرتے وقت کہا تھاکہ ”غالباً دنیا کی کسی بھی زبان میں اس اعلیٰ پایہ کا لوک ادب موجود نہیں ہوگا جس قدر یہ کشمیری زبان میں پایا جاتاہے ”۔
چودھویں صدی عیسوی کی اب…
 کشمیری شاعری

کوئی کشمیری شاعر اپنی حین ِ حیات میں ہی اتنی مقبولیت حاصل نہ کرسکا جتنی پیر زادہ غلام احمد مہجورؔ نے حاصل کی۔مہجور ؔ کی شاعری اتنی زبان زد عام ہوگئی کہ وہ کشمیر کے عہد ساز شاعر مانے گئے۔مہجورؔ کی شاعری جہاں فطری رومانوی ماحول اور کشمیری رعنائیوں کی عکاسی کرتی ہے ، وہیںاس میں انقلابی گیت اور وطن کی محبت کے نغمے بھی گونج اٹھتے ہیں۔ان کی شاعری جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک موثرآواز ہے اور یہ آزادی و انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔ان کے گیتوں میں جوش ،ولولہ،اضطراب ،جنون اور نشاط ہے۔مہجورؔ نے اپنی شاعری میں کشمیری احساسات وجذبات کی بھر پور ترجمانی کی ہے، اسی لئے وہ قومی شاعر کی حیثیت سے تسلیم کئے گئے اور انہیں ’’شاعر کشمیر‘‘ کے خطاب ملا۔کشمیری زبان شعر و ادب میں غلام احمد مہجور ؔ کی انفرادیت اورعظمت کا ڈنکا بجتا رہے گا ۔ان کے اشعار آج بھی پریشانی اور ما…
 اردو ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب وسماج اور قوم پرستی

ہندوستان زمانۂ قدیم سے ہی اپنی رنگارنگ اورمتنوع تہذیب وثقافت کے لیے پوری دنیا کی توجہ کا مرکزرہا ہے۔ یہاں کی زمینی پیداوار اور جغرافیائی حالات، علم وادب اور تہذیب وثقافت، آب وہوا، مناظر فطرت وغیرہ دنیا کے لیے توجہ کا سبب رہے ہیں۔

یوں تو ہندوستان میں مختلف رنگ ونسل کے لوگ بستے ہیں، جن کی زبان بھی ایک دورسرے سے مختلف ہے، تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تہذیب وتمدن، زبان پوشاک اور دسترخوان تک بدل جاتے ہیں۔ ہندوستان کی یہی خصوصیت ہندوستان کو دیگرممالک سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے۔ اور شاید یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے ہم کثرت میں وحدت کی نشاندہی کرتے ہیں اوراپنی قدیم اور مستحکم رنگارنگ تہذیب وثقافت اور اخوت ورواداری کی بدولت ایک دھاگے میں بندھے ہوئے معلوم وہتے ہیں۔

تہذیب سے کیا مراد ہے اور ا…
: تاریخ ہند
جدید علم جینیات کی رو سے بالاتفاق برصغیر کی سرزمین پر تہتر ہزار برس قبل سے پچپن ہزار برس قبل کی درمیانی مدت میں انسانوں کی آمد کا سراغ ملتا ہے جو افریقا سے وارد ہوئے تھے،[1] لیکن اثریاتی نقطۂ نظر سے جنوبی ایشیا میں انسانی وجود کے اولین آثار تیس ہزار برس پرانے ہیں جبکہ خوارک کی فراہمی، کاشت کاری اور گلہ بانی وغیرہ کے ہنگاموں سے معمور باقاعدہ انسانی زندگی کا آغاز سات ہزار ق م کے آس پاس ہوا۔ مہر گڑھ کے مقام پر جو اور گیہوں کی پیداوار کے آثار ملتے ہیں اور ساتھ ہی ایسے قرائن پائے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد بھیڑ بکریوں اور گائے بیل وغیرہ مویشیوں کے پالنے کا رجحان پیدا ہو چکا تھا۔[2] پینتالیس سو ق م تک انسانی زندگی مختلف شعبوں تک پھیل گئی[2] اور بتدریج وادیٔ سندھ کی تہذیب کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھری۔ اس تہذیب کا شمار عہد قدیم کی …
: ہندستان میں ڈرامے کی عوامی روایت کا فروغ

تاریخ اور تہذیب کے ارتقا کی ابتدائی کڑیوں کو جوڑتے ہوئے ادب کے نام پر جو اوّلین چیزیں ہمیں میسّر آئیں ان میں ڈراموں کی قدامت بالعموم غیر مشتبہ مانی جاتی ہے۔ یونانی اور سنسکرت ڈراموں کی تاریخ سے یہ بہرطور ثابت ہے۔ ماہرینِ بشریات کا بھی یہ اندازہ ہے کہ تفریح کی غرض سے یہ ڈرامے ابتداء ً کھیلے گئے ہوں گے۔ اسٹیج کی ترقی یافتہ شکل بھلے پہلے دن نہ قائم ہوئی ہو لیکن دھیرے دھیرے یہ صورت استحکام پاتی چلی گئی ہوگی۔ ہندستان یا یونان دونوں مقامات پہ ڈراما نگاری کی تاریخ، مذاہب اور مختلف حکومتوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عہدِ قدیم میں شاہانِ وقت شعر وادب کی واضح پشت پناہی کرتے تھے لیکن دستاویزات سے کسی ٹھوس عوامی روایت کا پتا نہیں چلنا اس بات کا غمّاز نہیں کہ یونان اور ہندستان میں اُس عہد …
: اردو میں ریڈیو ڈراما، آغاز و ارتقاء

ریڈیو ڈراما جسے ریڈیو پلے،ریڈیائی ڈراما، نشری ڈراما، حتی کہ اسے یک بابی اور ایک ایکٹ ڈراماکے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ان سب کا مطلب صرف یہ کہ وہ ڈراما جو ریڈیو کے ذریعے لوگوں کے گوش گزار کیا جاتا ہے۔ رفعت سروش ریڈیو ڈراما سے متعلق اپنے مضمون ’’ریڈیو ڈراما نگاری کا فن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ریڈیائی ڈرامہ اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے۔ اسٹیج کے ڈرامے سے بالکل مختلف فنی اعتبار سے دونوں کے میدان الگ الگ ہیں ریڈیو آواز کی دنیا ہے۔ آواز صرف انسانوں کی آواز۔سازوں کی آواز۔ موسم کی آواز۔ پانی کی آواز۔ ہوا کی آواز۔بجلی کی آواز۔ بھیڑ بھڑ کی آواز۔ خاموشی اور سنّاٹے کی آواز۔ آواز صرف آواز۔ آوازوں کے اتار چڑھاؤ اور پیچ و خم سے ہی ریڈیائی ڈرامہ مرتب کیا جاتا ہے۔ ‘‘ ۱؂

ریڈیوڈرا ما کی شروعات کے سلسلے میں کہا جا…
: پاکستان ٹیلی ویژن ڈراما …فن اور روایت
داستان ، ناول، افسانہ اور ڈراما کہانی کی مختلف اقسام ہیں لیکن ڈراما بنیادی طور پر کہانی کی جدید شکل ہے جو واقعات اور کرداروں کے باہمی ربط سے تشکیل پاتی ہے۔ جس طرح ایک کہانی دوسری کہانی سے فنی اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کا زندگی کے ساتھ رشتہ بھی جداگانہ ہوتا ہے۔ ڈراما نگار کو اپنی تخلیق میں ہر مزاج کے ناظر کے ذوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے موضوعات کی طرف مائل ہونا پڑتا ہے جو اپنے تاثر کے اعتبار سے نہ صرف ہمہ گیر بلکہ اجتماعی مذاق ، روایت اور جذبے کی ترجمانی اور عکاسی بھی کرتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرامے کو جمہوری فن کہا جاتا ہے۔
ادب کی دیگر اصناف کے مقابلے میں ڈراما ایک ایسی فنی صنف اور تخلیقی عمل ہے جس کا عوام کے ساتھ براہِ راست اور فوری نوعیت کا تعلق ہے۔ شاعری اور دیگر اصنافِ ادب ابلاغ اور تفہیم کے لیے انتظار کر س…
 پاکستان میں جدید سفر نامہ نگاری
پاکستان میں سفرنامہ نگاری کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے پہلا دور 1947ء تا 1987ء تک کا کہلاتا ہے۔ اس دور کو پاکستان میں سفرنامہ نگاری کا نقطہ ٔ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں جو نام جدید سفر نامہ نگاری کے آغاز کے طور پر لئے جاتے ہیں ان میں محمود نظامی، بیگم اختر ریاض الدین، سید احتشام حسین، محمد اظہر الدین صدیقی، ممتاز احمد خان، سعید اختر، مولانا عبدالماجد دریا آبادی، ڈاکٹر محمد باقر، قیوم نظر، ریحانہ اسلم، ابنِ انشاء، بیگم تاج یاسین علی، پطرس بخاری، رازق الخیر، ڈاکٹر ثریا حسین، ابراہیم جلیس، نسرین بانو، اکرام، ڈاکٹر منظور ممتاز، ڈاکٹر وحید قریشی، شاہ محمد عزیز، احسان بی اے ، سید ابوالحسن علی ندوی، رفت القدیر، ڈاکٹر مختارالدین وغیرہ شامل ہیں۔

دوسرا دور 1988ء تا 2000 تک کہلاتا ہے۔ اس دور میں سفرنامے نے غیر معمولی ترقی …
 سفر نامہ

سفرنامہ ادب کی ایک صنف ہے جس میں بیرونی ادب، تلاش بینی ادب، مہم جوئیانہ ادب یا قدرتی لکھائی اور رہنما کتب اور دوسرے ملکوں کے دورے شامل ہیں۔

سفر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مسافت کرنا کے ہیں۔ اس کو لکھنے کا مقصد قارئین کو اپنے تجربات و واقعات سے آگہی دینا، عام انسان کے اندر دیار غیر کے بارے میں جاننے کی خواہش پیدا کرنا اور سفر کی داستان سنانا۔[1]

اس صنف کی ذیلی اقسام روزنامچہ وغیرہ کی تاریخ دوسری صدی تک جاتی ہے۔

ڈاکٹر سید عبد اللہ دیکھ لے ایران کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ

” سفرنامے کی صنف میں تمام اصناف کو اکٹھا کر دیا جاتا ہے۔
اس میں داستان کا داستانوی طرز، ناول کی فسانہ طرازی، ڈرامے کی منظر کسی، آبیتی کا مزہ اور جگ بیتی کا لطف اور پھر سفر کرنے والا جزو تماشا ہو کر اپنے تاثرات کو اس طرح کہ اس کی تحریر پر لطف بھی ہو اور معاملہ افزا بھی۔[2]

: اردو میں حج کے سفرنامے

اردو میں حج کے سفر نامے لکھے ضرور ہیں مگر باقاعدہ طور پر اس پر تحقیقی کام نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر شہاب الدین نے اس موضوع پر تحقیقی انداز سے کام کیا اور اسی موضوع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت عرق ریزی اور محنت سے کام کیا ہے جس کی وجہ سے کتاب بہت اچھی اور قابل قدر ہوگئی ہے۔ سفر حج سے پہلے اگر کوئی اسے پڑھتا ہے تو سفر کے دوران اسے اچھی خاصی مدد ملتی ہے۔ صاحب کتاب نے اپنے ’پیش لفظ‘ میں لکھا ہے:
اردو ادب کی تقریباً سبھی اہم نثری و شعری اصناف پر مختلف پہلوؤں سے کثیر اور وقیع تحقیقی و تنقیدی کام ہوچکے ہیں اور موجودہ عہد میں بھی کسی نہ کسی شکل میں ان اصناف پر کام جاری ہے۔ سفر نامہ کی صنف بھی اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے اور اس پر اردو میں خاصا وقیع سرمایہ موجود ہے۔ اس موضوع پر جو تحقیقی کام ہوئے ہیں …
 حج کے سفر نامے اور اسلامی عالمگیریت کے مذہبی تخیلات

اسلامی ثقافت میں سفر کی دینی اہمیت اورحج کے سفر کی روحانی معنویت نے سفر نامہِ حج میں حاجی کو دینی آپ بیتی لکھنے کا موقع دیا۔ اسلامی روایت میں سفرکا زندگی اور دین سے گہرا رشتہ ہے۔ اس رشتے کی اہمیت کے لیے یہی گواہی کافی ہے کہ شریعت، سیرت، طریقت، مذہب، مسلک، صراط مستقیم جیسے دین کے اہم حوالوں میں راستہ کا طبعی تصوراور مذہبی تخیل مشترک ہے۔ سب زندگی گزارنے کے راستے ہیں۔ سبھی سفر کے استعارے ہیں۔ قرآن کریم نے سیروا فی الارض کی دعوت دی اور زمین کی سیر و سیاحت کا حکم دیا تو جغرافیہ تاریخ کے اوراق بن گیا۔ قدیم آثار قوموں کے عروج اور زوال کی داستان سنانے لگے۔ سفر سے علم میں اضافہ اور ذہن میں وسعت پیدا ہوئی۔ نبی کریمﷺ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک سفر ہجرت نے دین کی دعوت کے عالمگیر تخیل کو مستحکم کیا اور دنیا کی تاری…
: اردو ادب میں خاکہ نگاری کی روایت

ادب زندگی کا آئینہ ہے جس میں زندگی کے ہر ایک پہلو کا عکس ابھرتا ہے۔ اس معاشرے کی بنیاد انسان پر قائم ہے ہر شخص دوسرے سے رنگ، نسل اور علاقائی اعتبار سے مختلف ہونے کے ساتھ عادات و اطوار اور فکری و فنی لحاظ سے بھی مختلف ہوتا ہے۔ پوری دنیا کا محور انسان ہے اور انسان نے اس دنیا میںرہنے بسنے اور زندگی گزارنے کے لیے مختلف کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ نئی نئی ایجادات اور تکنیک سے دنیا کی آنکھوں کو چکا چوند کیا ہے۔ جو کہ الگ موضوع کی طرف رخ اختیار کرتی ہیں لیکن ادب انسانی تخلیق کاوہ فن ہے جس میں اس کے اور اس سے جڑے مسائل موجود ہیں۔ ساتھ ہی ادب فنون لطیفہ کی دلچسپ قسم بھی ہے۔پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لیکن ادب کا خالق انسان ہے اور انسان کی شخصیت کا عکس سوانح نگاری یا خاکہ نگاری میں دیکھنے کو ملتا ہے جو کہ ادب کی مختصر صنف ہ…
 خاکہ نگاری کا فن اور اُردو

خاکہ نگاری جسے شخصیت نگاری کے نام سے بھی ہم جانا جاتاہے۔ ہر عہد، ہر ملک اور ہر زبان میں اس کے نمونے اور نقوش ملتے ہیں۔زندگی اور زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج و میلان، نشیب و فراز ڈوبتی ابھرتی انسانی زندگی کے تمام رنگ و روپ خاکہ نگاری میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں معاملہ معاشرتی و سماجی، علمی و ادبی ہو یاسیاسی، بڑی شخصیت ہو یا معمولی، عالم ہو یاجاہل،حکمراں ہو یا سماج کا ایک ادنیٰ انسان، مصنف کسی سے بھی متاثر ہوسکتا ہے اور کسی شخصیت کو موضوع و محور بناسکتا ہے۔ خاکہ ایک بے حد نازک فن ہے۔ یہاں قلم پر بے پناہ گرفت کے ساتھ ساتھ جرأ ت اور سلیقہ مندی بھی درکار ہے۔ تھوڑی سی لاپرواہی اور کوتاہی خاکہ کو مجروح کردیتی ہے۔ ایک ایک پہلو اور گوشے کو مصنف کو ملحوظ خاطررکھنا ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا کی مختلف زبانوں میں بے شمار خاکے لکھے گئے ،مگرشاہکار …
: اردو ادب میں خاکہ نگاری اور اس کے فنی لوازمات

خاکہ غیرافسانوی نثری صنف ہے۔ اسے مرقع یا قلمی تصویر بھی کہتے ہیں۔ اس میں کسی شخصیت کے ظاہری اور باطنی اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں شخصیت کی خوبیوں یا خامیوں کا بیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے اس شخصیت کی ایک قلمی تصویر اُبھر آئے۔ اردوادب میں خاکہ نگاری ایک منفرد، مقبول اور ترقی یافتہ صنف کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے ابتدائی نقوش اردو کے قدیم تذکروں میں ملتے ہیں۔ محمد حسین آزاد کی ’آب حیات‘ میں خاکہ نگاری کے بعض عمدہ نمونے موجود ہیں۔ مگر باضابطہ اس صنف کا آغاز بیسویں صدی کی دوسری اور تیسر دہائی میں مرزافرحت اللہ بیگ کی تحریروں سے ہوا۔ بقول پروفیسر شمیم حنفی:

’’اصطلاحی معنوں میں اردوخاکہ نگاری کا آغاز مرزا فرحت اللہ بیگ سے ہوتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد اور مولوی وحیدالدین سلیم کی جیسی بے مثال تصویریں…

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!
Scan the code