Aiou course code 5602 book download free

Aiou course code 5601 book download free

عادل شاہی دور: دسویں صدی ہجری میں اردو شاعری کی روایت
حسن شوقی:ولادت ۹۴۸ھ وفات ۱۰۴۲ھ اور ۱۰۵۰ھ کے درمیان متعین کی جاسکتی ہے۔جولائی ۱۹۲۹ء میں مولوی عبدالحق مرحوم نے رسالہ ”اردو” میں پہلی بار ایک قدیم شاعر کا تعارف شائع کیا اور اس کے ادبی کارناموں پر روشنی ڈال کر اس کی دو مثنویوں اور تین غزلوں سے اردو دان طبقے کو روشناس کرایا۔ شاعر کا نام حسن شوق تھا، اس کے بعد آج تک ہر تاریخ و تذکرہ میں اس شاعر کا ذکر کیا جاتارہا ہے۔ شہنشاہ اکبر کی فتح گجرات کے بعد وہاں کے اہل علم و ادب بھی انھیں دو سلطنتوں میں تقسیم ہو گئے۔ زوال کے بعد حسن شوقی بھی نظام شاہی سے عادل شاہی سلطنت میں چلا آیا۔ شوقی کا ذکر نہ کسی قدیم تذکرہ میں آتا ہے اور نہ کسی تاریخ میں۔ ہمارے پاس جو کچھ سرمایہ ہے وہ اس کی دو مثنویاں اور تیس غزلیں ہیں۔ شوقی نے اپنی غزل کے ایک مقطع میں اپنے نام کا اظہار قافیہ کی ضرورت سے اس طرح کیا ہے:
جن یو غزل سنایا جلتیاں کو پھر جلایا
وہ رند لا اُبالی شوقی حسن کہاں ہے
ابن نشاطی نے ”پھول بن”(۱۰۶۶ھ) میں شوقی کا ذکر کیا ہے:
حسن شوقی اگر ہوتے تو فی الحال
ہزاراں بھیجتے رحمت مُجہ اُپرال
سید اعظم بیجا پوری نے ”فتح جنگ” میں اس کی سلاست بیانی کی تعریف کی اور نصرتی نے ”علی نامہ” کے ایک قصیدہ میں اپنی شاعری کے قد کو حسن شوقی کی شاعری کے قد سے ناپ کر اپنی عظمت کا اظہار کیا:
دس پانچ بیت اس دھات میں کے ہیں تو شوقی کیا ہوا
معلوم ہوتا شعر گر کہتے تو اس بستار کا
ان شواہد کی روشنی میں شیخ حسن اور شوقی تخلص ٹھہرتا ہے۔ ان حوالوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے مرنے کے بعد دکن کی ادبی فضائوں میں اس کا نام گونجتا رہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد قلی قطب شاہ اور جگت گرو و جانم سے پہلے نظام شاہی سلطنت میں اردو کتنی ترقی کر چکی تھی۔ موجود مواد کی روشنی میں حسن شوقی ایک مثنوی نگار اور غزل گو کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتا ہے۔
حسن شوقی کی غزلیں اس روایت کا ایک حصہ ہیں جس کے مزار پر ولی دکنی کی غزل کھڑی ہے۔ ان غزلوں کو جدید معیار سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن یہ غزلیں اپنے مزاج کے اعتبار سے جدید غزل کی ابتدائی روایت اور رنگ روپ کا ایک حصہ ہیں۔ حسن شوقی کے ذہن میں غزل کا واضح تصور تھا۔ وہ غزلوں کو عورتوں سے باتیں کرنے اور عورتوں کی باتیں کرنے کا ذریعہ اظہار سمجھتا تھا۔ سب غزلوں میں بنیادی تصور یہی ہے۔ محبوب کے حسن و جمال کی تعریف کرتاہے اور عشقیہ جذبات کے مختلف رنگوں اور کیفیات کو غزل کے مزا ج میں گھلاتا ملاتا نظر آتا ہے۔ اس کے ہاں غزل کے خیال، اسلوب، لہجہ اور طرزِ ادا پر فارسی غزل کا اثر نمایاں ہے۔شوقی نہ صرف اس اثر کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ان شاعروں کا ذکر بھی کرتا ہے جن سے وہ متاثرہوا ہے یہاں خسرو و ہلالی بھی ملتے ہیں اور انوری و عنصری بھی:
حسن شوقی نے بھی فارسی غزل کے اتباع میں سوز و ساز کو اردو غزل کے مزاج میں داخل کیا اور آج سے تقریباً چار سو سال پہلے ایک ایسا روپ دیا کہ نہ صرف اس کے ہم عصر اس کی غزل سے متاثر ہوئے بلکہ آنے والے زمانے کے شعراء بھی اسی روایت پر چلتے رہے۔
ولی کی غزل روایت کے اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اپنی غزلوں میں مٹھاس اور گھلاوٹ پیدا کرنے کے لیے شوقی عام طور پر رواں بحروں کا انتخاب کرتا ہے۔ شوقی کی غزل میں تصور عشق مجازی ہے۔ حسن شوقی کی غزل میں ”جسم” کا احساس شدت سے ہوتا ہے، وصال کی خوشبو اڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ محبوب اور اس کی ادائیں حسن و جمال کی دل ربائیاں، آنکھوں کا تیکھا پن، خدوخال کا بانکپن ہوتا ہے، دانت، کلیوں جیسے ہونٹ، ہیرے کی طرح تل، سر و قدی، مکھ نور کا دریا، دل عاشق کو پھونک دینے والا سراپا اس کی غزل کے مخصوص موضوعات ہیں۔
حسن شوقی کو احساس ہے کہ وہ غزل کی روایت کو نیا رنگ دے کر آگے بڑھا رہاہے۔ ان کے اشعار کے مطالعے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ اردو غزل کی روایت کے وہ ابتدائی نقوش ہیں جہاں غزل کی روایت جم کر ، کھل کر پہلی بار اس انداز میں اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔
دسویں صدی کے تین اور شاعروں کے نام ہم تک پہنچتے ہیں جن کی استادی کا اعتراف ان کے بعد کی نسل نے کیا ہے۔ میری مراد محمود، فیروز اور ملاخیالی سے ہے جن کا ذکر محمدقلی قطب شاہ نے اپنی غزلوں میں کیا ہے۔ فیروز، محمود اور ملاخیالی گولکنڈہ کے شاعر تھے۔ حسن شوقی کی زندگی ہی میں یہ تینوں شعراء وفات پا چکے تھے۔ حسن شوقی نے ان کی روایت کو آگے بڑھایا۔ یہ باقاعدہ روایت بن کر شاہی، نصرتی، ہاشمی اور دوسرے شعرا سے ہوتی ہوئی ولی دکنی تک پہنچتی ہے۔ یہیں سے غزل کی ایک مخصوص روایت بنی ہے۔
حسن شوقی کا یہ شعر پڑھیے:
تجہ نین کے انجن کوں ہو زاہداں دوا نے
کوئی گوڑ ، کوئی بنگالہ کوئی سامری کتے ہیں
حسن شوقی کی زبان اس زمانے کی دکن کی عام بول چال کی زبان ہے۔ اس میں ان تمام بولیوں اور زبانوں کے اثرات کی ایک کھچڑی سی پکتی دکھائی دیتی ہے جو آئندہ زمانے ایک جان ہو کر اردو کی معیاری شکلیں متعین کرتے ہیں۔
یہ ہے قدیم اردو غزل کی روایت کا وہ دھارا جس کے درمیان شوقی کھڑا ہے۔ وہ اپنے اسلاف سے یہ اثر قبول کرتا ہے اور اسے ایک نیا اسلوب دے کر آنے والے شعرا تک پہنچا دیتاہے۔ یہی وہ اثر ہے جو حسن شوقی کو قدیم ادب میں ایک خاص اہمیت کا مالک بنا دیتا ہے۔
شوقی کی غزل میں مشتاق، لطفی، محمود، فیروز اور خیال کے اثرات ایک نئے روپ میں ڈھلتے ہیں اور پھر یہ نیا روپ شاہی، نصرتی ، ہاشمی، اشرف، سالک، یوسف، تائب، قریشی اور ایسے بہت سے دوسرے نامعلوم وگمنام شعراء کے ہاں ہوتا ولی کی غزل میںرنگ جماتا ہے۔
اسی رنگ کو دیکھ کر میں اردو کو پاک وہند کی ساری زبانوں کا ”عاد اعظم مشترک” کہتا ہوں۔ (ادبی تحقیق از ڈاکٹر جمیل جالبی)
قطب شاہی دور: قلی قطب شاہ (۱۴؍اپریل ۱۵۶۵ء ۔ ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ئ)
آزاد نے ”آب حیات” میں کیونکہ ولی کو اردو شاعری کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اس لیے مدتوں تک غزل کی روایت /تاریخ اس سے شروع ہوتی رہی لیکن بعد کی تحقیقات نے اس کو غلط ثابت کیا، چنانچہ اب گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کے حکمران ابوالمظفر محمد علی قطب شاہ کوپہلا صاحب کلیات (۱۰۲۵ھ) شاعر سمجھا جاتا ہے۔ یہ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کا پانچواں فرمانروا تھا۔ اس کا عہد حکومت ۵ جون ۱۵۸۰ء سے ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ء تک رہا۔ اس نے دکھنی کے علاوہ فارسی اور تیلگو میں ملا کر کل نصف لاکھ اشعار کہے۔ ڈاکٹر سیدہ جعفری نے لکھا ہے محمد قلی کا کلام اردو ادب میں جنسی شاعری کا پہلا نمونہ ہے۔ محمد قلی نے اپنے اشعار میں اپنی محبوبائوں اور پیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خصوصیات کو ظاہر کرنے اور ان کی شخصیت کے خدوخال کو واضح کرنے کے لیے جنسیات کی بعض اصطلاحوں سے مدد لی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کی شاعری پر جس طرح غزل غالب ہے اسی طرح اس کی غزل پر عورت غالب ہے۔ اس کی شاعری ہندوانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ عورت کے حسن اور جسم سے وہ کرشن کی طرح کھیلتا ہے۔ اُس کی غزلیں یا غزل نما نظمیں اپنے مجموعی تاثر کے لحاظ سے ہمارے خیال کو تھوڑی دیر کے لیے عرب شاعری کے تصور محبوب کی جانب لے جاتی ہیں۔ جس میں جسم وجنس کے عنصر کے غلبے کے ساتھ ساتھ کھل کر نام لینے کی روایت بھی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کا تینتیس سالہ دور اپنی ادبی سرگرمیوں، علمی کاوشوں اور فنی و تخلیقی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ قطب شاہی کا یہ زریں دور ہے۔ جس پر اردو و تلنگی شاعری کی تاریخ ہمیشہ فخر کرتی ہے۔ محمد قلی ایک پُرگو اور اردو زبان کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے۔ تاریخی و تہذیبی اہمیت سے ہٹ کر محمد قلی کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں اس کی دلچسپی کے د و مرکز نظر آتے ہیں۔ ایک مرکز ”مذہب” ہے اور دوسرا ”عشق” ہے۔ مذہب اس لیے عزیز ہے کہ اس کی مدد سے زندگی، حکومت، دولت ، عروج اور دنیوی اعزاز حاصل ہوا ہے اور عشق اس لیے عزیز ہے کہ اس سے زندگی میں رنگینی اور لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے عشق و مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
صدقے نبیؐ کے قطب شاہ جم جم کرو مولود تم
حیدر کی برکت تھی سدا جگ اُپر فرمان کرو

در نظر سامنے نہیں ہے یار
نین پانی تیرتا دلدار
شاعری کی حیثیت سے وہ حسن کا پرستار ہے، قدرتی مناظر کا حسن، عورتوں کا حسن و جمال اور مختلف رسومات کے حسین پہلو اس کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔
اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ
دکن ہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ بھی اسی علاقے کی تھی۔ اس ضمن میں نصیرالدین ہاشمی لکھتے ہیں:
”اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ” ماہ لقاچندا (۱۱۸۱ئ۔ ۱۲۴۰ئ) سمجھی جاتی تھی۔ اس کا دیوان پہلی مرتبہ (۱۲۱۳ھ۔ ۱۷۹۸ئ) میں مرتب ہوا ہے جو انڈیا آفس لندن کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔
شفقت رضوی نے ”دیوان ماہ لقاچندا بائی” مرتب کر کے شائع کر دیا ہے۔ (لاہور: ۱۹۹۰ئ) چندا اپنے وقت کی امیر ترین خواتین میں شمار ہوتی تھی۔ فن موسیقی، رقص اور محفل آرائی کے فن میں طاق تھی، عمر بھر شادی نہ کی، شاعری ، تاریخ، شہ سواری، تعمیرات سے خصوصی شغف تھا۔ نواب میر نظام علی خان آصف جاہ ثانی کی منظور نظر تھی۔ اس لیے چھوٹے موٹے کو منہ نہ لگاتی۔ الغرض تمام دکن میں اس کی شہرت تھی۔ حیدرآباد میں اپنا مقبرہ خود تعمیر کروایا۔ چنانچہ انتقال کے بعد اس میں دفن ہوئی۔
چندا کا دیوان ۱۲۵ غزلوں پر مشتمل ہے اور ہر غزل میں پانچ پانچ اشعار ہیں اور یہ مختصر دیوان اس کی تخلیقی شخصیت کا عکاس ہے۔ غزل حسب رواج مردانہ انداز و اسلوب میں کہتی تھی لیکن کبھی کبھی اشعار میں نسوانیت بھی آ جاتی ہے مگر ریختی والی کجرو نسوانیت نہیں۔
ثابت قدم ہے جو کوئی چندا کے عشق میں
صفت میں وہ عشق بازوں کے سالار ہی رہا
ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی
چاہتے ہیں جو بار بار شراب
ملایا کر تو اس کی انکھڑیوں سے آنکھ کم نرگس
نہ کر یوں دیدہ و دانستہ اپنے پرستم نرگس
اب جدید انکشاف سے پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاز قرار دی جانی چاہیے کیونکہ اس کا دیوان ۱۲۱۲ ھ میں یعنی چندا کے دیوان سے ایک سال پہلے مرتب ہوا ہے۔ لطیفہ یہ کہ تخلص کی بنا پر پہلے اسے مرد سمجھا جاتا رہا لیکن بعد میں اس کی مثنوی ”گلشن شعرائ” کی دستیابی سے علم ہوا کہ امتیاز عورت ہے۔
نصیرالدین ہاشمی کے بقول امتیاز کے شوہر کانام اسد علی تمنا تھا۔ یہ وہی شاعر ہے جس نے ”گل عجائب ” کے نام سے ”تذکرہ شعرائ” ۱۱۹۴ھ میں مرتب کیا۔ دیوان کے بارے میں نصیرالدین ہاشمی نے یہ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ ۱۵۶ صفحات پر مشتمل دیوان میں ۹۵ صفحات پر غزلیں ہیں۔ غزل کی زبان صاف اور مضامین روایتی ہیں جبکہ بات مردانہ لب و لہجہ میں کی جاتی ہے شاید اسی لیے پہلے اسے مرد جاناگیا۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو!
شور صحرا میں مرے آنے کی کچھ دھوم سی ہے
عمل قیس کے اُٹھ جانے کی کچھ دھوم سی ہے
منہ پہ جب زلف کج خمدار جھکا
صبح روشن پہ گویا ابر گہر بار جھکا

 

اردوئے قدیم کے کئی شعرا کی طرح ولی کی زندگی کے تفصیلی حالات اب تک معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کے باوجود مطالعہ ولی کے در کھلے ہوئے ہیں ، کیوں کہ کسی بھی فنکار کی شناخت اس کے فن سے ہوتی ہے۔ نہ کہ ان کے خاندانی حالات اور نجی زندگی کے واقعات سے۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک زمانے تک ولی کو اردو شاعری کا باوا آدم کہا جاتا رہا ہے۔ مگر  تحقیق و تنقید نے علم و ادب کی کئی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھا دیا اور کئی پس پشت پڑے شعرا و ادبا کو سامنے لا کر بٹھا دیا۔ اور واضح کر دیا کہ ولی اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں۔ مگر یہ خیال آج بھی اتنا ہی درست ہے کہ ولی نہ صرف دکن کے بلکہ اردو کے پہلے اہم اور بڑے شاعر ہیں کیوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کی نفاست سے لے کر شعری لطافت تک کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں کے چراغ فن سے شمالی ہند میں اردو شاعری کا چراغ روشن ہوا۔

ولیؔ کے بارے میں دکنی اور گجراتی ہونے کا جھگڑا آج تک جاری ہے کیوں کہ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں جس قدر معلومات حاصل ہوسکی ہیں ان پر علماء ادب پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ چند دہائی پہلے تک تو لوگ ولی کے بارے میں بعض بنیادی باتیں بھی نہ جانتے تھے حتی کہ ان کی تعلیم و تربیت، گھر خاندان، اور والدین کے بارے میں بھی کوئی ٹھوس معلومات نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر سید احتشام حسین نے اپنی کتاب ’’اردو ادب کی تنقیدی تاریخ‘‘ میں اس طرح کی کسی چیز کا ذکر نہیں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ابھی کچھ دن پہلے تک ولی کے بارے میں بھی بہت تھوڑی سی معلومات ملتی تھیں مگر اب جو تحقیقی کام ہوئے ہیں ان کی وجہ سے ان کے نام جائے پیدائش وفات وغیرہ کی نسبت کچھ باتیں معلوم ہو گئی ہیں۔ حالانکہ ان کے دکنی یا گجراتی ہونے کی بحث اب بھی ختم نہیں ہوئی۔

احتشام صاحب کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ وہ جن چیزوں کے معلوم ہو جانے کا ذکر کر رہے ہیں ان پر خود ان کو اعتبار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ولی دکنی کا نام اور اس کے جائے پیدائش کے بارے میں کچھ نہیں لکھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ دکنی اور گجراتی کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔

بہرحال بعد میں چند لوگوں نے ولی پر بہت گرانقدر کام کیا اور بہت سی معلومات فراہم کیں۔ اور تسلیم کر لیا گیا کہ ولی کا نام ولی محمد تھا اور ان کے والد کا نام مولانا شریف محمد تھا جو گجرات کے مشہور بزرگ شاہ وجیہ الدین کے بھائی شاہ نصراللہ کی اولاد میں سے تھے۔ ولی ۱۶۴۹ء سے قبل اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ یہ بات حیرت انگیز کہی جائے گی کہ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں قیاس آرائی کے باوجود یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی ابتدائی تعلیم کہاں ہوئی۔ البتہ یہ بات متفقہ طور پر مان لی گئی ہے کہ ولی کو حصول علم کا بہت شوق تھا اسی شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے احمد آباد سے نکل کر سورت دلی اور گجرات وغیرہ کا سفر کیا اور عالموں ، صوفیوں اور دیگر اہل علم حضرات سے مل کر اپنی علمی پیاس بجھائی۔ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی لکھتے ہیں کہ:

’’ولی نے احمد آباد میں شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں تعلیم پائی اور وہیں شاہ نور الدین صدیقی سہروردی کے مرید ہو گئے۔‘‘

(نورالحسن ہاشمی۔ مقدمہ کلیات ولی۔ ص۱۱)

نورالحسن صاحب کی فراہم کردہ معلومات کی تائید کلام ولی سے بھی ہوتی ہے اور دوسرے دانشوروں کے اقوال سے بھی ظہیر الدین مدنی لکھتے ہیں کہ:

’’اس کی شخصیت جامع کمالات تھی وہ اپنے ادبی کارناموں میں کسی جگہ عالم و فاضل مصلح و مشیر صوفی و صافی کی حیثیت سے رونما ہوتا ہے اور کہیں ادیب و انشا پرداز اور مجتہد العصر دکھائی دیتا ہے۔ ‘‘

ولی کی شاعری میں جا بجا قرآن و احادیث سے متعلق واقعات کا عکس بکھرا پڑا ہے۔ وہ اپنے وقت کے بیشتر مروج علوم سے واقف تھے۔ اور تصوف میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کے متنوع رنگوں میں تصوف کا رنگ بھی شامل ہے۔ اور غالباً تصوف نے ہی انہیں حسن شناس و حسن پرست بنایا تھا اور سیر و سیاحت جس کا ولی کو بہت شوق تھا نے مسائل حیات سے واقف کرایا اور زندگی کے مختلف رنگوں کا شعور و ادراک بخشا۔ ولی نے حج بیت اللہ کا شرف بھی حاصل کیا تھا بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی سلسلے میں سورت گئے تھے۔ کیوں کہ اس زمانے میں حج کو جانے کے لیے سورت ایک اہم راستہ تھا۔ لیکن ان کی سیر وسیاحت اور اسفار میں دلّی کے سفر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ اسی سفر نے انہیں اردو شاعری کے باوا آدم کے طور پر لوگوں سے متعارف کرایا اور شمالی ہند میں اردو شاعری اور ادبی تاریخ کا نیا باب کھلا۔ دہلی کا یہ سفر انہوں نے ۱۷۰۰ء میں اپنے دوست سید ابوالمعالی کے ساتھ کیا۔ جب وہ دلّی پہونچے تو وہاں کے مشہور صوفی شاعر سعداللہ گلشن سے بھی ملے جو پہلے ہی سے ان کے لیے مرشد کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ولی نے سعداللہ گلشن ہی کے کہنے پر فارسی افکار و خیالات کو اردو شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا کام کیا اس سلسلے میں میر تقی میر کا نام لیا جاتا ہے جنہوں نے نکات الشعرا میں لکھا ہے کہ:

’’ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند در ریختہ خود بکار۔‘‘

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ولیؔ کی عظمت کا راز محض اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے فارسی میں بیکار پڑے افکار و خیالات کو اردو الفاظ کا جامہ پہنا دیا۔ جب کہ دوسرا سوال اس سے بھی مشکل ہے۔ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دوسرے کے افکار و خیالات کو اپنے الفاظ میں پیش کر کے بڑا شاعر بن جائے۔ وہ بھی اتنا بڑا کہ صدیوں تک لوگوں کو متاثر کرتا رہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہو گا مگر ان سوالوں پر رک کر یہاں تفصیلی گفتگو ممکن نہیں ہے۔ آئیے پہلے ہم یہ دیکھ لیں کہ ولی کے بارے میں تذکرہ نگاروں ، ہم عصر شعرا ، اور بعد کے ناقد کیا رائے رکھتے ہیں ، اور یہ بھی کہ خود ولیؔ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ولیؔ کی عظمت کا اعتراف صرف ان کے ہمعصروں نے ہی نہیں کیا ہے۔ بلکہ ہر عہد کے بڑے سے بڑے ناقد نے ان کی عظمت کا اقرار کیا ہے۔

مصحفی اپنے تذکرہ ہندی میں لکھتے ہیں کہ:

’’جب ولیؔ کا دیوان جلوس محمد شاہی کے دوسرے سال میں دلّی پہونچا اور وہاں کے شعرا نے اس میں وہ رنگ و نور دیکھا جس کے دیکھنے کو ان کی آنکھیں ترستی تھیں تو انہوں نے بھی فارسی کو چھوڑ کر اسی رنگ سخن کی پیروی شروع کر دی۔ ‘‘

میر حسن نے ’’تذکرہ شعرائے ہندی‘‘ میں ریختہ کی اولیت کا سہرا ولی کے سرباندھا ہے اور انہیں کو اس فن کا استاد کامل اور استاد اول قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ابتدائے ریختہ از اوست اول استادی ایں فن بنام اوست‘‘

محمد حسین آزاد جن کی کتاب ’’آب حیات‘‘ تذکرہ نگاری اور تنقیدی تاریخ کی درمیانی کڑی کی سی حیثیت رکھتی ہے اور اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے تحقیق و تنقید کے اتنا آگے نکل جانے کے باوجود قابل استفادہ سمجھی جاتی ہے ، اس میں لکھتے ہیں کہ:

’’جب ان کا دیوان دلّی پہونچا تو اشتیاق نے ادب کے ہاتھوں پر لیا قدر دانی نے غور کی آنکھوں سے دیکھا لذت نے زبان سے پڑھا گیت موقوف ہو گئے قوال معرفت کی محفل میں انہیں کی غزلیں گانے اور بجانے لگے ارباب نشاط یاروں کو سنانے لگے جو طبیعت موزوں رکھتے تھے انہیں دیوان بنانے کا شوق ہوا۔‘‘

محمد حسین آزاد کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ ولیؔ کی شاعری نے تمام لوگوں کو مسحور کر دیا اور دلّی فتح کر لی۔ یہی وجہ تھی کہ قوال بھی ان کی غزلیں گانے پر مجبور ہو گئے۔ حد یہ کہ ولی کی غزلوں نے گیتوں کی مقبولیت کو بھی مات دے دیا۔ گویا ولی کی شاعری میں عوامی حسیت کو انگیخت کرنے کے علاوہ ثقافت کی روح کو معطر کرنے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے۔ اسی لیے دکن سے شمال تک ولی کا ڈنکا بجنے لگا۔ اور بات بھی کچھ یوں ہے کہ اردو شاعری اپنی جن خوبیوں اور فنی لوازم کے لیے جانی جاتی ہے۔ اور جس طرح کے تلازموں اور صنعتوں کے لیے ممتاز سمجھی جاتی ہے وہ تمام چیزیں ولی کی شاعری میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اردو کا عبقری فنکار قرار دیا جاتا ہے۔ نورالحسن ہاشمی جنہیں ماہر ولی کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے اپنی کتاب ’’ہندوستانی ادب کے معمار۔ ولی‘‘ کے پہلے باب کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ:

’’ولیؔ کا موازنہ اکثر چاسر سے کیا جاتا ہے کیوں کہ ولیؔ نے اردو شاعری کو فروغ دینے میں اسی طرح کامیابی حاصل کی جس طرح چاسر نے انگریزی کے فروغ دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی انہوں نے ایسا طریقہ بیان ایسے لسانی انداز کے ساتھ وضع کیا جو نہ صرف دکن بلکہ شمالی ہند میں بھی قابل قبول سمجھا گیا۔‘‘

ولیؔ کو چاسر کا ہم پلّہ قرار دینا محض خوش عقیدگی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک حقیقی صورتحال کی تقابلی وضاحت کی اچھی کوشش ہے۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ ولی کی شاعری سے پہلے لوگ اردو زبان کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ اس میں باضابطہ طور پر شاعری کریں۔ فارسی کا بڑا غلبہ تھا۔ اور اشرافیہ طبقہ کے لوگ فارسی ہی کو علمی زبان سمجھتے تھے۔ فارسی زبان و ادب کا زبردست دبدبہ تھا۔ جو لوگوں کو اردو کو ہیچ سمجھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ایسے ماحول میں ولیؔ کا اردو زبان میں شاعری کرنا وہ بھی نہایت خود اعتمادی اور خلاقی کے بہترین جوہر کے ساتھ اپنے آپ میں ایک نادر مثال تھا۔ انہوں نے ہندوی یا دکنی ہندوی اور فارسی کے آمیزے سے ایک ایسی زبان کی تشکیل کی جو اردو کے نام سے جانی گئی اور اپنی شیرینی اور تازگی و توانائی کی وجہ سے بہت جلد دلوں پر راج کرنے لگی۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے ولیؔ کے فکر و فن اور ثقافتی ورثے سے گہری وابستگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’ولیؔ جب دہلی آئے تو اپنے ساتھ اپنی ثقافت کا سرمایہ بھی ساتھ لائے اس سرمائے میں ایرانی سکّے (IDIOMS)کم سے کم تھے ایسا نہیں ہے کہ ولی سے پہلے دکنی علاقے میں فارسی اور فارسی شاعری سے لوگ واقف نہیں تھے لیکن یہاں کے شعرا کی جڑیں اپنے لسانی نظام میں تھیں جو دوسرے لسانی نظام سے متصادم نہیں ہوئی تھیں۔ ادھر شمال میں بیرونی تسلّط کے سبب اشرافیہ ریختہ سے زیادہ فارسی پر زور دے رہا تھا، ولی کے پاس مقامی وراثت تو تھی ہی جب انہیں ریختہ کہنے کی ہدایت کی گئی تو ان کے مقامی رنگ کو ایک اور سمت مل گئی، فارسی نے ان کی مدد کی اور شمال کے ڈکشن نے ان کے رنگ کو مزید چوکھا کر دیا، گویا اسلوب اور ڈکشن کا یہ منظر نامہ جو ولی کے یہاں ہے اس ثقافتی وسعت کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں ہندوستان کے ایک وسیع علاقے سے لے کر ایران تک پھیلی ہوئی ہیں۔ (معنی کی جبلت۔ ص ۱۱۱)

وہاب اشرفی نے ولیؔ کے یہاں جس ہند ایرانی ثقافت کی بات کہی ہے اس کی خوشبو ولی کی شاعری میں پوری طرح رچی بسی ہوئی ہے جس کا اندازہ ان کی شاعری کے مطالعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ فی الوقت مثال کے لیے ایک شعر دیکھیے۔

ترا مکھ مشرقی ، حسن انوری ، جلوہ جمالی

نین جامی ، جبیں فردوسی ، و ابرو ہلالی

ظاہر ہے کہ جو شاعر اپنے محبوب کی خوبصورتی کی تعریف فارسی کے اہم شعرا فردوسی، جامی، اور انوری وغیرہ کے تخلص کو تشبیہ میں بدل کر کرتا ہو، اسے ہند ایرانی تہذیب اور فارسی زبان و ادب کا کتنا گہرا شعور ہو گا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ غالباً ولی کی انہیں حیرت انگیز خوبیوں کی وجہ سے نیا پرانا غرض ہر عہد کا بڑے سے بڑا اور اہم ناقد اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی تاریخ ادب اردو میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’یہ بات یاد رہے کہ آگے چل کر جتنے رجحانات نمایاں ہوئے وہ خواہ عشقیہ شاعری کا رجحان ہو یا ابہام پسندی کا لکھنوی شاعری کی خارجیت اور مسی چوٹی والی شاعری ہو مسائل تصوف کے بیان والی شاعری ہو یا ایسی شاعری ہو جس میں داخلیت اور رنگارنگ تجربات کا بیان ہو یا اصلاح زبان و بیان کی تحریک ہو سب کا مبدا ولیؔ ہے۔‘‘

شمس الرحمن فاروقی کا ایک اقتباس پروفیسر خالد محمود نے نقل کیا ہے کہ:

ولیؔ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قطعی طور پر اور ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیا کہ گجری اور دکنی کی طرح ہندی/ ریختہ میں بھی بڑی شاعری کی صلاحیت ہے۔ ولی نے یہ بھی دکھا دیا کہ ریختہ /ہندی میں یہ بھی قوت ہے کہ وہ سبک ہندی کی فارسی شاعری پر فوقیت لے جاسکتی ہے یا کم سے کم اس کے شانہ بشانہ تو چل ہی سکتی ہے۔ تشبیہ اور پیکر کی نفاست ہو یا استعارے کی وسعت تجرید اور پیچیدگی مضمون آفرینی ہو یا معنی آفرینی ریختہ/ ہندی فارسی سے ہرگز کم نہیں۔ ان کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اردو کے شعرا کو ایک نئی شعریات کے احساس اور وجود سے آشنا کیا۔ اس شعریات میں سنسکرت، سبک ہندی اور دکنی تینوں کے دھارے آ کر ملتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر شارب ردولوی نے ’’مطالعہ ولی تنقید و انتخاب‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ:

’’سادگی روانی رنگینی سرخوشی نشاطیہ کیفیت تشبیہات واستعارات کی جدت معنی آفرینی تاثرات حسیت، متنوع رمزیت اور ہندوستانی عنصر و فارسی کا خوبصورت امتزاج ولی کا فن ہے۔ جس سے ان کے کلام کا بیشتر حصہ روشن ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں کہ:

حق یہ ہے کہ حکیمانہ گہرائی دردمندی اور سوزوگداز کی کمی کے باوجود ان کا کلام بڑا خوش رنگ و خوش گوار ہے۔ بہار آفریں الفاظ خوب صورت تراکیب گل و گلگشت کی تکرار حسن کے ترانے اور نغمے مناسب بحروں کا انتخاب اور اسالیب فارسی سے گہری واقفیت اور ان سے استفادہ ان سب باتوں نے ولی کو ایک بڑا رنگین شاعر بنا دیا ہے۔

عابد علی عابد تو پوری اردو شاعری کے تناظر میں صرف ولی ہی کو کلاسک قرار دیتے ہیں۔ بہرحال ان اقوال و اقتباسات سے اتنا تو واضح ہوہی جاتا ہے کہ اردو کے تقریباً تمام اہل فکر و نظر ولی کی عبقریت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی شاعرانہ انفرادیت کے قائل ہیں۔ اس کے باوجود کہنا پڑتا ہے۔ کہ ولیؔ پر جتنا اور جس نوعیت کا کام ہونا چاہیے نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر ولی پر ایسا بھرپور مقالہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جس کے پڑھنے کے بعد تشنگی کا احساس نہ ہوتا ہو۔ حالانکہ کہ ولی کی عظمت اور استادی کو تذکرہ نگاروں ، محققوں ، اور ناقدوں کے علاوہ شعرا نے بھی سلام کیا ہے اور کئی اہم شعرا نے ان سے فیضیاب ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے اس کے باوجود مطالعہ ولی کے باب میں کہیں نہ کہیں ایک آنچ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ان باتوں سے پہلے آئیے یہ دیکھتے چلیں کہ شعرا نے کس طرح ولی کی استادی کا اعتراف کیا ہے اور اس کی تقلید کو کیوں کر باعث افتخار سمجھا ہے۔

داؤد اورنگ آبادی ولی سے اتنے متاثر تھے کہ وہ خود کو ولی ثانی کہا کرتے تھے۔ ایک شعر دیکھئے۔

حق نے بعد از ولی مجھے داؤد

صوبہ شاعری بحال کیا

حاتم نے ’’دیوان زادہ‘‘ کے دیباچے میں ولی کے مقابلے اپنی کمتری کا برملا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:

حاتم بھی اپنے دل کی تسلی کوں کم نہیں

لیکن ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ

حاتم کا یہ شعر پہلے مصرعہ کی تبدیلی کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے۔ شعر دیکھئے۔

حاتم یہ فن شعر میں کچھ تو بھی کم نہیں

لیکن ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ

شاہ مبارک آبرو جو اپنے وقت کے اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے بھی ولی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:

آبرو شعر ہے ترا اعجاز

جوں ولی کا سخن کرامت ہے

سراج اپنی عشقیہ شاعری کے لیے بہت ہی ممتاز سمجھے جاتے ہیں اور وارفتگی و سرشاری کے معاملے میں ولی سے بھی افضل قرار دیئے جاتے ہیں وہ بھی ولی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں :

تجھ مثال اے سراج بعد ولی

کوئی صاحب سخن نہیں دیکھا

خدائے سخن میر تقی میر جن کی عظمت کا ہر کوئی قائل ہے اور جو اپنے مقام و مرتبہ سے پوری طرح واقف ہیں اور کہتے ہیں کہ

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

وہ بھی ولی کی استادی کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ

خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے

معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا

غالباً انہیں وجوہات کے پیش نظر جمیل جالبی نے تاریخ ادب اردو جلد اول صفحہ ۵۸۹ میں لکھا ہے کہ:

’’ولی نے قدیم ادب کی روایت کے زندہ عناصر کو اپنے تصرف میں لا کر فکر و اظہار کی سطح پر ایک نیا معیار قائم کیا جو ریختہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نئی سطح تھی جہاں شمال، جنوب، اور سارے برّاعظم کے تخلیقی ذہنوں کی آرزوئیں تکمیل پا رہی تھیں ، ولی کا یہ معیار ریختہ اتنا مقبول ہوا کہ سورت کے عبدالولی، عزلت، دکن کے داؤد، سراج گجرات کے یوسف زلیخا والے امین، پنجاب کے ناصر علی سرہندی اور شاہ مراد، سندھ کے میر محمود صابر، سرحد کے عبدالرحمان بابا، بہار کے عبدالقادر بیدل، دہلی کے فائز، جعفر زٹلی، آبرو، شاہ حاتم، کرناٹک کے شاہ تراب، مدراس کے محمد باقر آگاہ، اور برّ عظیم کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے سب شاعروں نے اس نئے معیار کو واحد ادبی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا۔

مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے، یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ولیؔ اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں ، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ولیؔ اردو کی شعری روایت سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پیش روؤں اور ہمعصروں کا اثر قبول نہ کیا ہو، مگر ہندوستان کا شروع سے یہ مزاج رہا ہے کہ اس نے ایک بار کسی کو بڑا یا عظیم مان لیتا ہے تو پھر اس کی شخصیت کے ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے جو بربنائے انسان دوسروں سے متاثر ہوتا ہے۔ اور دوسروں کا اثر قبول کرتا اور اپنی شخصیت کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ولیؔ کے ساتھ بھی ہوا۔

جمیل جالبی صاحب نے یہ تو لکھ دیا کہ دنیائے اردو ادب کے سبھی نابغوں نے ولیؔ سے فیض پایا اور اس کے لسانی تفاعل اور تخلیقی تناؤ اور جدت و ندرت سے تحریک حاصل کی اور اپنے اپنے فن کا چراغ جلایا۔ اور موقع ملا تو ان ہی کی زمین میں طبع آزمائی بھی کی۔ اور اکثر و بیشتر ان کے خیالات کو بھی برتنے کی کوشش کی جس کی مثال کے لیے پوری اردو شاعری کی تاریخ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مثالیں پیش کی گئیں اور آج بھی کی جا رہی ہیں۔ اس مضمون میں بھی اس طرح کی درجنوں مثالیں پیش کی جائیں گی۔ مگر اس سے پہلے یہ بتا دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خود ولیؔ نے بھی اپنے پیش روؤں اور ہمعصروں کا اثر قبول کیا اور حتی المقدور ان سے فائدہ بھی اٹھایا۔ چند اشعار دیکھئے۔

خبر لیا یا ہے ہدہد میرے تئیں اس پار جانی کا

خوشی کا وقت ہے ظاہر کروں رازِ نہانی کا

(محمد قلی قطب شاہ)

الٰہی رکھ مجھے تو خاک پا اہل معانی کا

کہ کھلتا ہے اسی صحبت سوں نسخہ نکتہ دانی کا

(ولی)

تجھ خال ہے رخسار میں یا ہے بھنور گلزار میں

یا مصر کے بازار میں زنگی کھڑا زنگ بار کا

(حسن شوقی)

جگ منیں دوجا نئیں ہے خوب رو تجھ سار کا

چاند کوں ہے آسماں پر رشک تجھ رخسار کا

(ولی)

سنگاتی سات نئیں میرا موا سنگار کیا کرنا

مسی ہور پان خوشبوئی پھلوں کا ہار کیا کرنا

(نصرتی)

ترے بن مجکوں اے ساجن یو گھر اور بار کرناں کیا

اگر تو نا اچھے مجھ کن تو یو سنسار کرنا کیا

(ولی)

نین تجھ مدبھرے دیکھت نظر میانے اثر آوے

ادھر کے یاد کرنے میں زباں اوپر شکر آوے

(مشتاق)

اس وقت مرے جیو کا مقصود بر آوے

جس وقت مرے برمنیں دو سیم بر آوے

(ولی)

اچپل چتر سکی کوں ہمارا سلام ہے

جس ادھر میں شہر تے میٹھا کلام ہے

(ملک خوشنود)

اس شاہ نو خطاں کوں ہمارا سلام ہے

جس کے نگینِ لب کا دو عالم میں نام ہے

(ولی)

اے سروگل بدن تو ذرا ٹک چمن میں آ

جیوں گل شگفتہ ہو کو مری انجمن میں آ

(تاناشاہ)

اے گلعذار غنچہ دہن ٹک چمن میں آ

گل سر پہ رکھ کے شمع نمن انجمن میں آ

(ولی)

عاشق ہے جن تج لعل کا اس مال و دھن سوں کیا غرض

ہے کام جس کو روح سوں اس کو بدن سوں کیا غرض

(غواصی)

تجھ زلف کے بیتاب کوں مشک ختن سوں کیا غرض

تجھ لعل کے مشتاق کوں کان یمن سوں کیا غرض

(ولی)

ساری رین تیرا بدن مج طبع میں بھرپور ہے

تج صبح مکہہ کے سامنے دیپک سدا مخمور ہے

(شاہی)

تشنہ لب کو تشنگی مے کی نہیں ناسور ہے

پنبۂ مینا اسے جیوں مرحم کافور ہے

(ولی)

نظر کی گود میں دیدا اودیدے میں نظر دستا

سو اس دیدے کے ہولے ہے سو جل باہر بھتر دستا

(شغلی)

یو تل تجھ مکھ کے کعبہ میں مجھے اسود حجر دستا

زنخداں میں ترے مجھ چاہ زمزم کا اثر دستا

(ولی)

تج ادھر مئے شوق سوں چاکیا سو متوالا ہوا

آزاد مستاں ہوئے کر چھُٹ سب سوں نروالا ہوا

(شاہ سلطان)

تجھ مکھ پہ یو تل دیکھ کر لالے کا دل کالا ہوا

دور خط سوں طوق جیوں مہتاب کا بالا ہوا

(ولی)

اس طرح کی اور بھی مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ولیؔ اہم یا عبقری شاعر نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بزرگ آرٹ محرک ہوتا ہے، اور اس چراغ سے کتنے ہی چراغ روشن ہوتے ہیں جو تخلیق فن کی راہوں کو اجالنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ فن کے اثرات سے آلودہ اور آسودہ کوئی بھی فن پارہ اور فن کار کم سواد نہیں سمجھا جاتا ہے۔ رہی بات ولیؔ کی تو ان کی عظمت کا ایک زمانہ قائل ہے جب کہ خود ولیؔ کو بھی اپنی شعری انفرادیت اور تخلیقی ثروت مندی، اور فنکارانہ ہنر مندی کا خوب خوب احساس تھا، وہ اپنی لسانی ندرت کاری اور سخن طرازی کی تازگی سے بھی آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خدائے سخن میر تقی میر کی طرح ان کے یہاں بھی بکثرت تعلّی کے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چند اشعار دیکھئے۔

اے ولی لگتا ہے ہر دل کو عزیز

شعر تیرا بسکہ شوق انگیز ہے

میرے سخن میں فکر سوں کر اے ولی نگاہ

ہر بیت مجھ غزل میں ہے انتخاب کا

اے ولی مجھ سخن کو وو بوجھے

جس کو حق نے دیا ہے فکر رسا

جیوں گل شگفتہ رو ہیں سخن کے چمن میں ہم

جیوں شمع سربلند ہیں ہر انجمن میں ہم

ایسا شاعر جس کی استادی کے سامنے بڑے سے بڑے شعرا و ادبا کی نظریں جھک جاتی ہوں ، ان کی شعری کائنات میں داخل ہونا اور ان کی تخلیقی جہتوں کی دریافت اور بازیافت میں اپنے فہم و ادراک کا ثبوت پیش کرنا اور اردو شاعری میں ان کی اولیات کی نشاندہی کرنا آسان نہیں ہے۔ کیوں کہ اس بے حد توانا، منفرد اور متنوع شاعر کے کلام کے کتنے ہی رنگ ایسے ہیں جنہیں آسانی سے گرفت میں نہیں لیا جاسکتا ہے۔ اور نہ ان کی شاعری کی تمام جہات کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ہاں ان کے کلام کو والہانہ ذوق و شوق سے پڑھنے، سمجھنے اور ان سے حظ اٹھانے کی ایک طالب علمانہ کوشش ضرور کی جاسکتی ہے اور اسی کوشش کا نتیجہ ہے یہ مضمون۔

پروفیسر خالد محمود نے اپنے اہم مضمون ’’ولی کی عظمت‘‘ نئی کتاب۔ اپریل جون ۲۰۱۰ء میں لکھا ہے کہ:

’’ولیؔ پر تا حال جو تحقیقی اور تنقیدی کام ہوا ہے اس میں ولی کا نام، مقام پیدائش، وفات، اسفار، خصوصاً سفر دلی دوران سفر دلّی شاہ سعداللہ گلشن سے ولی کی ملاقات اور شاہ صاحب کا ولیؔ کو فارسی آمیز شعر کہنے کا مشورہ یا دیوان ولیؔ کی دلّی آمد کے تعلق سے بحث زیادہ ملتی ہے اور ان کی شاعرانہ خصوصیات کا ذکر استحقاق سے بہت کم ہے۔‘‘

اور یہ بات کچھ بہت غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بیشتر لوگ انہیں متنازع موضوعات پر لکھتے ہیں اور کسی خاص نتیجہ پر پہونچے بغیر بات ختم کر دیتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ ولیؔ کی شاعری کی خوبیوں پر لکھتے ہی نہیں ہیں۔ یا یہ کہ لکھا ہی نہیں ہے۔ لکھا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ولی کا جو مرتبہ ہے۔ اس حساب سے کم لکھا ہے۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ولی کے فن کی خوبیوں ، لطافت، اور ان کے لہجے کی رنگینی اور شیفتگی اور داخلی و خارجی خصوصیات کی عملی شناخت پر توجہ کی جائے۔ کیوں کہ یہی وہ چیزیں ہیں جس نے ولیؔ کو ولیؔ بنایا ہے۔

 

اٹھارہویں صدی اردوشاعری کاانتہائی زرخیز دور رہاہے۔ اس دورمیں مختلف لسانی اورتہذیبی عوامل کے تحت شمالی ہندمیں اردوشاعری کارواج عام ہوا۔ ریختہ گوئی کی شروعات ہوئی اور اردوشاعری کی ایک بڑی اہم تحریک ایہام گوئی کاجنم اسی عہدمیں ہوا جس نے اردوشاعری کوبے حدمتاثرکیا۔ اور اردوزبان نے شاعری کی حدتک فارسی زبان کی جگہ لے لی اورایک توانازبان کی حیثیت سے معروف ومقبول ہوئی۔

صدیوں سے ہندوستان کی علمی اورادبی زبان فارسی تھی اورہندوستان کے شعرا اوراُدبانے فارسی زبان میں بے پناہ قدرت حاصل کرلی تھی لیکن اہل زبان ایران یہاں کے شعراکو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے جس کی وجہ سے کئی تنازعات بھی سامنے آئے، عرفی اور فیضی کاتنازعہ اسی دورکی پیداوارہے۔ ایرانی اورہندوستانی فارسی دانوں کی اس محاذ آرائی نے اس احساس کواور بھی ہوادی کہ ہندوستانی فارسی زبان میں کتنی ہی مہارت حاصل کرلیں انھیں وہ پذیرائی اوراہمیت حاصل نہیں ہوسکتی جواہل ایران کوحاصل ہے۔ اس رویے نے ہندوستان کے فارسی گوشعراکو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اورفکروخیال کے جوہردکھانے کے لیے ایک نئے میدان کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ سراج الدین علی خاں آرزونے یہاں کے شعرا کو ریختہ میں شعرگوئی کی ترغیب دی اورہرماہ کی پندرہویں تاریخ کوان کے گھرپر ’’مراختے‘‘ کی مجلسیں آراستہ ہونے لگیں۔ مشاعرہ کے انداز پر’’مراختہ‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ اب نئی نسل کے بیشتر شعرانے فارسی میں شعرگوئی ترک کردی اوران کی پوری توجہ ریختہ گوئی میں صرف ہونے لگی یہ چیزیں اتنی عام ہوئیں کہ فارسی گوشعرابھی رواج زمانہ کے مطابق منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ریختہ میں شاعری کرنے لگے۔

اٹھارویں صدی کے دوسرے دہے میں جب ولی کادیوان دہلی پہنچا تو اس نے شمالی ہند کے ریختہ گو شعرا میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ولی کایہ دیوان ریختہ میں تھااورفارسی روایت کے عین مطابق حروف تہجی کے اعتبارسے ترتیب دیاگیاتھا جس کااثریہ ہوا کہ شعرائے دہلی میں بھی دیوان سازی کاعمل زور پکڑنے لگا۔ اس طرح اردوشاعری ایک نئے دورمیں داخل ہوگئی۔ شمالی ہندمیں جب اردوشاعری کاپہلادورشروع ہواتو اس دور کے اردوشاعر فارسی کی تہذیبی اورشعری روایت کے زیرسایہ پرورش پارہے تھے لہٰذا اردوشعرانے فارسی شعراکے مقبول رجحانات کوہی اپنامشعل راہ بنایا اورفارسی شاعری کی جس روایت کوپہلی باراختیارکیاگیاوہ ’’ایہام گوئی‘‘ کی روایت تھی۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:

’’دیوان ولی نے شمالی ہندکی شاعری پر گہرااثرڈالا اوردکن کی طویل ادبی روایت شمال کی ادبی روایت کاحصہ بن گئی۔ اٹھارہویں صدی شمال وجنوب کے ادبی وتہذیبی اثرات کے ساتھ جذب ہوکر ایک نئی عالم گیر روایت کی تشکیل وتدوین کی صدی ہے۔ اردوشاعری کی پہلی ادبی تحریک یعنی ایہام گوئی بھی دیوان ولی کے زیر اثر پروان چڑھی‘‘ـ۱ـ

ایہام گوئی شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ایک بڑی تحریک تھی۔ یہ تحریک محمدشاہی عہدمیں شروع ہوئی اور ولی کے دیوان کی دلی آمد کے بعداس صنعت کو عوامی مقبولیت ملی۔ شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ترقی کاآغاز اسی تحریک سے ہوتاہے۔

ایہام عربی زبان کالفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں ’وہم میں ڈالنا‘اور ’وہم میں پڑنا یاوہم میں ڈالنا۔ ‘چونکہ اس صنعت کے استعمال سے پڑھنے والاوہم میں پڑجاتاہے، اس لیے اس کانام ایہام رکھاگیا۔

ایہام کااصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ صنعت ہے جس سے شعرکے بنیادی لفظ یالفظوں سے قریب اوربعید دونوں معنی نکلتے ہوں اور شاعرکی مراد معنی بعیدسے ہو۔ نکات الشعر امیں میرؔکے الفاظ یہ ہیں :

’’معنی ایہام اینست کہ لفظے کہ بروبناے بیت بوآں دومعنی داشتہ باشدیکے قریب ویکے بعید وبعید منظور شاعرباشدوقریب متروک او‘‘ ۲

ڈاکٹر جمیل جالبی ایہام کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ایہام کے معنی یہ ہیں کہ وہ لفظ ذو معنی ہوجس پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان دونوں معنی میں سے ایک قریب ہوں دوسرے بعید۔ اپنے شعر میں شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوقریب سے نہیں۔ ‘‘۳

ایہام کئی طرح کے ہوتے ہیں اوراس کی کئی قسمیں ہیں۔ اردوکے مشہور نقادشمس الرحمن فاروقی نے اس کی تین قسمیں بیان کی ہیں :

1۔   ایہام خالص: 

یعنی جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک قریب کے اورایک دورکے اور شاعر نے دورکے معنیٰ مرادلیے ہوں۔

2۔   ایہام پیچیدہ : 

جہاں ایک لفظ کے دومعنی یادوسے زیادہ معنی ہوں اورتمام معنی کم وبیش مفید مطلب ہوں عام اس سے کہ شاعرنے کون سے معنی مراد لیے ہوں۔

3۔    ایہام مساوات :   

جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں دونوں برابر کے کم وبیش یابالکل قوی ہوں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوکہ شاعرنے کون سے معنی مرادلیے تھے۔ ‘‘۴

ایہام گوئی کی یہ صنعت عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی اور اردو سب ہی زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ توواضح ہے کہ ہندی میں یہ صنعت سنسکرت سے آئی اورسنسکرت میں اس صنعت کو’ شلیش ‘کہاجاتاہے اوریہی نام ہندی میں بھی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ :

’’شلیش سنسکرت کالفظ ہے اورسنسکرت میں اس صنعت کی کئی قسمیں ہیں۔ مگران میں سے خاص دو ہیں سبہنگ اورانہنگ۔ سبہنگ میں لفظ سالم رہتاہے اور ابہنگ میں لفظ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہ صنعت پیدا کی جاتی ہے۔ ہندی میں یہ سنسکرت سے آئی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیاہے۔ ‘‘۵

اردومیں ایہام کی صنعت کہاں سے آئی آیایہ فارسی سے آئی یاہندی سے۔ بیشتر ناقدین اردومیں ایہام گوئی کاسراہندی دوہروں سے ہی جوڑتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کا بھی یہی مانناہے کہ اردوشاعری میں ایہام گوئی کی روایت ہندی شاعری کی رہین منت ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’یہ خیال قرین صحت معلوم ہوتاہے کہ اردوایہام گوئی پرزیادہ ترہندی شاعری کااثر ہوااورہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔ ‘‘۶

ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی کانقطۂ نظراس سے کچھ مختلف ہے۔ وہ اٹھارہویں صدی میں فارسی گوشعراکی دربارمیں رسائی اوراس کے اثرات کوبنیاد بناکریہ کہتے ہیں کہ اردوشاعری میں ایہام کی صنعت فارسی سے آئی ہے۔ نورالحسن ہاشمی کی اس رائے سے قاضی عبدالودود کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اختلا ف کیا۔ ڈاکٹر محمدحسن نے بیچ کی راہ نکالتے ہوئے ایہام گوشعراپرفارسی ہندی دونوں کے اثرات کی وکالت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں

:’’غرض شمالی ہندمیں اردوادب کی ابتدا فار سی اورہندی کی دوہری ادبی روایات کے سائے میں ہوئی ۔ فارسی نے اردوادب سے بہت کچھ اخذواختیارکیا۔ اس کی حسن کاری لفظوں کے دروبست، اضافت وتراکیب، شاعرانہ لب ولہجہ اورایک مخصوص افتاد طبع اورشائستگی کا ایک خاص تصورلیا۔ ہندی شاعری سے بالواسطہ کئی اثرات پڑے۔ ‘‘۷

لیکن ڈاکٹر منظراعظمی مختلف ایہام گو شعرا کے کلام میں مستعمل ہندی الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اگرایہام گواردوشعراکے اشعارپر نظرکی جائے توفارسی لب ولہجہ اور اثرات کم اورہندی یابھاشائی لب ولہجہ اوراثرات نسبتاً زیادہ ملتے ہیں۔ فارسی اثرات کے تحت بیشترشعر رعایت لفظی کی نوعیت کے ہیں جب کہ ہندی اثرات کے تحت شعربیشترایہامی ہیں ‘‘۔ ۸

اردوشاعری میں ایہام گوئی کی شروعات امیرخسروسے ہوتی ہے وہ سب سے پہلے شاعرہیں جنھوں نے ایہام کو بطورصنعت اپنی فارسی شاعری میں استعمال کیا۔ پھرفارسی اوراردوکافائدہ اٹھاتے ہوئے اردومیں ایسے اشعارکہے جن میں یہ صنعت استعمال ہوتی تھی۔ ان کی کہہ مکرنیوں اورپہیلیوں میں ایہام کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔

ایہام گوئی کی ا س روایت کوفروغ دینے میں ولیؔکانام کافی اہمیت کاحامل ہے۔ اس صنعت کانمایاں اظہار ہمیں ولی کی شاعری میں ملتاہے۔ اسی لیے ولیؔکو ہی ایہام کی تحریک کانقطۂ آغاز ماناجاتاہے۔ مندرجہ ذیل اشعار میں ایہام کی عکاسی بھرپورملتی ہے:

لیاہے گھیرزلفوں نے یہ تیرے کان کاموتی

مگریہ ہندکا لشکرلگاہے آستارے کو

ہرشب تری زلف سے ’’مطول‘‘ کی بحث تھی

تیرے دہن کودیکھ سخن’’مختصر‘‘ کیا

موسیٰ جوآکے دیکھے تجھ نورکاتماشا

اس کوں پہاڑہوئے پھر طورکاتماشا

ایہام گوئی کی صنعت کوجس نے عروج عطاکیاوہ خان آرزوؔ ہیں۔ خان آرزوؔ اوران کے شاگردوں نے اس صنعت کا فراوانی سے استعمال کیا۔ انھیں یقین تھاکہ مستقبل میں فارسی کے بجائے ریختہ ہی اس ملک کی زبان بننے والی ہے۔ ویسے اس صنعت میں طبع آزمائی کرنے والوں کی فہرست طویل ہے البتہ اہم ایہام گوشعرا میں انعام اللہ خاں یقینؔ، شاہ مبارک آبروؔ، شاکرناجیؔ،مصطفی خاں یک رنگ اورشاہ ظہورالدین حاتم وغیرہ کانام کافی اہمیت کاحامل ہے۔ طوالت سے بچتے ہوئے نمونے کے طور پر کچھ اشعار دئے جاتے ہیں :

ہوئے ہیں اہل زر خوابان دولت خواب غفلت میں

جسے سوناہے یاروں فرش پہ مخمل کے کہہ سوجا

نیل پڑجاتا ہے ہربوئی کا اے نازک بدن

تن اوپر تیرے چکن کرناہے گویا کارِ چوب

(آبروؔ)

نظرآتانہیں وہ ماہ رو کیوں

گزرتاہے مجھے یہ چاند خالی

نہ دیتا غیر کو نزدیک آنے

اگر ہوتا وہ لڑکا دور اندیش

(یقینؔ)

ہوں تصدق اپنے طالع کا وہ کیسا بے حجاب

مل گیا ہم سے کہ تھا مدت سے گویاآشنا

(حاتمؔ)

قوس قزح سے چرچہ کرانا تھا تجھ بھواں کا

   شاید کہ سربھراہے اب پھر کر آسماں کا

(شاکرناجیؔ)

اردوشاعری میں ایہام گوئی کایہ دورتقریبا ۲۵۔ ۳۰برسوں کومحیط ہے۔ اس صنعت نے بہت سے شعراکو متاثرکیااو راس سے اردوکے ذخیرئہ الفاظ میں بیش بہااضافہ ہوا جس کافائدہ یہ ہوا کہ اسے باقاعدہ ایک زبان بننے اور اس سے پیکرتراشی میں نمایاں مددملی۔ لفظوں کی صوری اورمعنوی دونوں صورتوں میں کتنا تنوع ہوسکتاہے اوراس کے مضامین کی کتنی جہتیں ہوسکتی ہیں یہ ساری چیزیں اسی صنعت ایہام کی دین ہیں۔

ایہام گو شعرا کے کلام کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اشعار محض سطحی یا الفاظ کاگورکھ دھندہ نہیں تھے بلکہ ان اشعار میں درس و عبرت کے پہلو کے ساتھ ساتھ کئی تاریخی،معاشرتی اورشخصی حوالے بھی ملتے ہیں۔ ویسے تو یہ حوالے بعد کے شعرا کے کلام میں بھی کثرت سے ملتے ہیں لیکن ایہام گوئی کی بدولت دوسرے متعلقات اور مناسبات کی شمولیت نے ان حوالوں کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔

ایہام گو شعرا نے اردو شاعری کی بہت بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ ایک عام بول چال کی زبان جو ریختہ کہلاتی تھی اسے با قاعدہ ایک زبان کی حیثیت عطا کرنے میں ایہام گو شعرا کی کاوشیں اردو شاعری کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اسی طرح اردوشاعری میں بعض اصناف کی ایجاد کاسہرابھی ایہام گوشعراکے سرجاتاہے۔ سب سے پہلاواسوخت شاہ حاتم نے کہا۔ اولین شہرآشوب بھی ان کے ہی کے قلم کی رہین منت ہے۔ رباعیات کو رواج دینے میں ان کاکردار سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مخمس، مسدس، ترکیب بند، مراثی، قصائد اورساقی نامے بھی ایہام گوشعرا کی دین ہے۔

ان خصوصیات کے باوجود ایہام گوئی کی صنعت سے اردوشاعری کو کافی نقصان بھی پہنچا۔ اس صنعت کے استعمال سے شاعری تصنع کاشکارہوگئی اورشاعر جذبے اور احساس کے بجائے الفاظ کے دروبست میں الجھ کر رہ گئے اوراس طرح شعری بے ساختگی اورجذباتی عظمت مجروح ہوتی گئی۔

جواب:

سودا تخلص مرزا محمد رفیع نام، شہر دہلی کو ان کے کمال سے فخر ہے۔ باپ مرزا محمد شفیع میرزا یان کابل سے تھے۔ بزرگوں کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ مرزا شفیع بطریق تجارت وارد ہندوستان ہوئے۔ ہند کی خاک دامنگیر نے ایسے قدم پکڑے کہ یہیں رہے بعض کا قول ہے کہ باپ کی سوداگری سودا کے لیے وجہ تخلص ہوئی۔ لیکن بات یہ ہے کہ ایشیا کے شاعر ہر ملک میں عشق کا دم بھرتے ہیں اور سودا اور دیوانگی عشق کے ہمزاد ہیں۔ اس لیے وہ بھی ان بزرگوں کے لیے باعث فخر ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے سودا تخلص کیا اور سوداگری کی بدولت ایہام کی صنعت روکن میں آئی۔

سودا1125ھ میں پیدا ہوئے۔ دہلی میں پرورش اور تربیت پائی۔ کابلی دروازہ کے علاقہ میں ان کا گھر تھا۔ ایک بڑے پھاٹک میں نشست رہتی تھی۔ شیخ ابراہیم ذوق علیہ الرحمتہ اکثر ادھر ٹہلتے ہوئے جا نکلتے تھے۔ میں ہمرکاب ہوتا تھا۔ مرزا کے وقت کے حالات اور مقامات کے ذکر کر کے قدرت خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔

سودا بموجب رسم زمانہ کے اول سلیمان قلی خاں دداد کے پھر شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے شاہ موصوف نے بھی اپنے دیوان کے دیباچے میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے، اس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے، جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اس استاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پل کر بڑا ہو۔ خان آرزو کے شاگرد نہ تھے۔ مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کیے۔ چنانچہ پہلے فارسی شعر کہا کرتے تھے۔ خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمہاری زبان مادری نہیں۔ اس میں ایسے نہیں ہو سکتے کہ تمہارا کلام اہل زبان کے مقابل میں قابل تعریف ہو۔ طبع موزوں ہے۔ شعر سے نہایت مناسبت رکھتی ہے۔ تم اردو کہا کرو تو یکتائے زمانہ ہو گے۔ مرزا بھی سمجھ گئے اور دیرینہ سال استاد کی نصیحت پر عمل کیا۔ غرض طبیعت کی مناسبت اور مشق کی کثرت سے دلی جیسے شہر میں ان کی استادی نے خاص و عام سے اقرار لیا کہ ان کے سامنے ہی ان کی غزلیں گھر گھر اور کوچہ و بازار میں خاص و عام کی زبانوں پر جاری تھیں۔

جب کلام کا شہرہ عالمگیر ہوا تو شاہ عالم بادشاہ اپنا کلام اصلاح کے لیے دینے لگے اور فرمائشیں کرنے لگے۔ ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ انہوں نے عذر بیان کیا۔ حضور نے فرمایا۔ بھئی مرزا کے غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟ مرزا نے کہا پیر و مرشد جب طبیعت لگ جاتی ہے۔ دو چار شعر کہہ لیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا بھئی ہم تو پاخانے میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی، حضور! ویسی بو بھی آتی ہے یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا کہ ہماری غزلیں بناؤ۔ ہم تمہیں ملک الشعراء کر دیں گے۔ یہ نہ گئے اور کہا کہ حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے۔ کرے گا تو میرا کلام ملک الشعرا کرے گا اور ایک بڑا مخمص شہر آشوب لکھا

کہا میں آج یہ سودا سے کیوں ہے ڈانواں ڈول

بے درد ظاہر بین کہتے ہیں کہ بادشاہ اور دربار بادشاہ کی ہجو کی ہے۔ غور سے دیکھو تو ملک کی دلسوزی میں اپنے وطن کا مرثیہ کہا ہے۔ مرزا دل شکستہ ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ قدر دان موجود تھے۔ کچھ پروا نہ ہوئی ان میں اکثر روسا امرا خصوصاً مہرباں خاں اور بسنت خاں ہیں۔ جن کی تعریف میں قصیدہ کہا ہے۔

کل حرص نام شخصے سودا پہ مہربان ہو

بولا نصیب تیرے سب دولت جہاں ہو

حرص کی زبانی دنیا کی دولت اور نعمتوں کا ذکر کر کے خود کہتے ہیں کہ اے حرص!

جو کچھ کہا ہے تو نے یہ تجھ کو سب مبارک

میں اور میرے سر پر میرا بسنت خاں ہو

ان بزرگوں کی بدولت ایسی فارغ البالی سے گزرتی تھی کہ ان کے کلام کا شہرہ جب نواب شجاع الدولہ نے لکھنو میں سنا تو کمال اشتیاق سے برادر من مشفق مہرباں من لکھ کر خط مع سفر خرچ بھیجا اور طلب کیا۔ انہیں دلی کا چھوڑنا گوارا نہ ہوا۔ جواب میں فقط رباعی پر حسن معذرت کو ختم کیا۔

سودا پے دنیا تو بہر سو کب تک

آوارہ ازیں کوچہ بہ آں کوکب تک

 

 

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک

کئی برس کے بعد وہ قدر دان مر گئے۔ زمانے بدل گئے۔ سودا بہت گھبرائے اس عہد میں ایسے تباہی زدوں کے لیے دو ٹھکانے تھے۔ لکھنو حیدر آباد، لکھنو پاس تھا اور فیض و سخاوت کی گنگا بہ رہی تھی۔ اس لیے جو دلی سے نکلتا تھا ادھر ہی رخ کرتا تھا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ پھر دوسری طرف خیال نہ جاتا تھا۔ اس وقت حاکم بلکہ وہاں کے محکوم بھی جویائے کمال تھے۔ نکتے کو کتاب کے مولوں خریدتے تھے۔

غرض60یا66برس کی عمر میں دلی سے نکل کر چند روز فرخ آباد میں نواب بنگش کے پاس رہے۔ اس کی تعریف میں بھی کئی قصیدے موجود ہیں۔ وہاں سے 1185ھ میں لکھنو پہنچے۔ نواب شجاع الدولہ کی ملازمت حاصل کی۔ وہ بہت اعزاز سے ملے اور ان کے آنے پر کمال خرسندی ظاہر کی۔ لیکن یا تو بے تکلفی سے یا طنز سے اتنا کہا کہ مرزا وہ رباعی تمہاری اب تک میرے دل پر نقش ہے اور اسی کو مکرر پڑھا۔ انہیں اپنے حال پر بڑا رنج ہوا اور بپاس وضعداری پھر دربار نہ گئے۔ یہاں تک کہ شجاع الدولہ مر گئے اور آصف الدولہ مسند نشیں ہوئے۔

لکھنو میں مرزا فاخر مکیں زبان فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ ان سے اور مرزا رفیع سے بگڑی اور جھگڑے نے ایسا طول کھینچا کہ نواب آصف الدولہ کے دربار تک نوبت پہنچی (عنقریب) اس کا حال بہ تفصیل بیان کیا جائے گا) انجام یہ ہوا کہ علاوہ انعام و اکرام کے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ہو گیا اور نواب نہایت شفقت کی نظر فرمانے لگے۔ اکثر حرم سرا میں خاصہ پر بیٹھے ہوتے اور مرزا کی اطلاع ہوتی فوراً باہر نکل آتے تھے۔ شعر سن کر خوش ہوتے اور انہیں انعام سے خوش کرتے تھے۔

جب تک مرزا زندہ رہے، نواب مغفرت مآب اور اہل لکھنو کی قدر دانی سے ہر طرح فارغ البال رہے۔ تقریباً 70 برس کی عمر میں1195ھ میں وہیں دنیا سے انتقال کیا۔ شاہ حاتم زندہ تھے۔ سن کر بہت روئے اور کہا کہ افسوس ہمارا پہلوان سخن مر گیا۔

حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ اواخر عمر میں مرزا نے دلی چھوڑی۔ تذکرہ دلکشا میں ہے کہ 66برس کی عمر میں گئے تعجب ہے کہ مجموعہ سخن جو لکھنو میں لکھا گیا۔ اس میں ہے کہ مرزا عالم شباب میں وارد لکھنو ہوئے۔ غرض چونکہ شجاع الدولہ 1188ھ میں فوت ہوئے تو مرزا نے کم و بیش70برس کی عمر پائی۔

ان کے بعد کمال بھی خاندان سے نیست و نابود ہو گیا۔ راقم آثم 1858ء میں لکھنو گیا۔ بڑی تلاش کے بعد ایک شخص ملے کہ ان کے نواسے کہلاتے تھے۔ بے چارے پڑھے لکھے بھی نہ تھے اور نہایت آشفتہ حال تھے۔ سچ ہے۔

میراث پدر خواہی علم پدر آموز

بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی

کاندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست

ان کا کلیات ہر جگہ مل سکتا ہے اور قدر و منزلت کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے حکیم سید اصلح خان نے ترتیب دیا تھا اور اس پر دیباچہ بھی لکھا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے پرانے محاوروں سے قطع نظر کر کے دیکھیں تو سر تاپا نظم اور انشاء اردو کا دستور العمل ہے۔ اول قصائد اردو بزرگان دین کی مدح میں اور اہل ودل کی تعریف میں۔ اسی طرح چند قصائد فارسی24 مثنویاں ہیں بہت سی حکایتیں اور منظوم ہیں۔ ایک مختصر دیوان فارسی کا تمام و کمال دیوان ریختہ جس میں بہت سی لاجواب غزلیں اور مطلع رباعیاں، مستزاد، قطعات، تاریخیں،پہیلیاں، داسوخت، ترجیع بند، مخمس سب کچھ کہا ہے اور ہر قسم کی نظم میں ہجویں ہیں، جو ان کے مخالفوں کے دل و جگر کو کبھی خون اور کبھی کباب کرتی ہیں۔ اب تذکرہ شعرائے اردو کا ہے اور وہ نایاب ہے۔

غزلیں اردو میں پہلے سے بھی لوگ کہہ رہے تھے۔ مگر دوسرے طبقے تک اگر شعرا فے کچھ مدح میں کہا تو ایسا ہے کہ اسے قصیدہ نہیں کہہ سکتے۔ پس اول قصائد کا کہنا اور پھر دھوم دھام سے اعلیٰ درجہ فصاحت و بلاحت پر پہنچانا ان کا فخر ہے۔ وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے۔ بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے۔ ان کے کلام کا زور شور انوری اور خاقانی کو دباتا ہے اور نزاکت مضمون میں عرفی و ظہوری کو شرماتا ہے۔

مثنویاں24 ہیں اور حکایتیں اور لطائف وغیرہ ہیں وہ سب نظم اور فصاحت کلام کے اعتبار سے ان کا جوہر طبعی ظاہر کرتی ہیں۔ مگر عاشقانہ مثنویاں ان کے مرتبے کے کلام کے اعتبار سے ان کے مرتبے کے لائق نہیں۔ میر حسن مرحوم تو کیا میر صاحب کے شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بھی نہیں پہنچیں۔ فارسی کے مختصر دیوان میں سب ردیفیں پوری ہیں ۔ زور طبع اور اصول شاعرانہ سب قائم ہیں۔ صائب کا انداز ہے مگر تجربہ کار جانتے ہیں کہ ایک زبان کی مشق اور مزاولت دوسری زبان کے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچنے میں سنگ راہ ہوتی ہے۔ چنانچہ شیخ مصحفی نے اپنے تذکرہ میں لکھا ہے آخر آخر خیال شعر فارسی ہم پیدا کرو۔ مگر از فہم و عقلش ایں امر بعید بود کہ کرد۔ غرض غزلہائے فارسی خود نیز کہ در لکھنو گفتہ بقید ردیف ترتیب دادہ داخل دیوان ریختہ نمودہ د ایں ایجاد ادست دیوان ریختہ (وقت کی زبان سے قطع نظر کر کے) با اعتبار جوہر کلام کے سرتاپا مرصع ہے۔ بہت سی غزلیں دلچسپ اور دل پسند بحروں میں ہیں کہ اس وقت تک اردو میں نہیں آئی تھیں۔ زمینیں سنگلاخ ہیں اور ردیف قافیے بہت مشکل۔ مگر جس پہلو سے انہیں جما دیا ہے ایسے جمے ہیں کہ دوسرے پہلو سے کوئی بٹھائے تو تمہیں معلوم ہو۔

گرمی کلام کے ساتھ ظرافت جو ان کی زبان سے ٹپکتی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑھاپے تک شوخی طفلانہ ان کے مزاج میں امنگ دکھاتی تھی۔ مگر ہجووں کا مجموعہ جو کلیات میں ہے اس کا ورق ورق ہنسنے والوں کے لیے زعفران زار کشمیر کی کیاریاں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کسی طرح کے فکر و تردد کو پاس نہ آنے دیتی تھی۔ گرمی اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے بجھا سکتا تھا نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ذرا سی ناراضی میں بے اختیار ہو جاتے تھے کچھ اور بس نہ چلتا تھا۔ جھٹ ایک ہجو کا طومار تیار کر دیتے تھے۔

غنچہ نام ان کا ایک غلام تھا۔ ہر وقت خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ساتھ قلم دان لیے پھرتا تھا۔ جب کسی سے بگڑتے تو فوراً پکارتے، ارے غنچہ لا تو قلمدان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں۔ یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔ پھر شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منہ کھول کر وہ بے نقط سناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔

عربی اور فارسی دو ذخیرہ دار اردو کے ہیں۔ ان کے خزانے میں ہجووں کے تھیلے بھرے ہیں۔ مگر اس وقت تک اردو کے شاعر صرف ایک دو شعروں میں دل کا غبار نکال لیتے تھے۔ یہ طرز خاص کہ جس سے ہجو ایک موٹا ٹہنا اس باغ شاعری کا ہو گئی۔ انہی کی خوبیاں ہیں۔ عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد کسی کی ڈاڑھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی۔ اس طرح پیچھے پڑتے تھے کہ انسان جان سے بیزار ہو جاتا تھا۔ مگر میرضاحک، فدوی، مکین، بقا وغیرہ اہل کمال نے بھی چھوڑا نہیں ان کا کہنا انہیں کے دامن میں ڈالا ہے۔ البتہ حسن قبول اور شہرت عام ایک نعمت ہے کہ وہ کسی کے اختیار میں نہیں۔ انہیں خدا نے دی۔ وہ محروم رہے۔ مرزا نے جو کچھ کہا بچے بچے کی زبان پر ہے۔ انہوں نے جو کہا وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انہیں میں سے ایک شعر ہے کہ فدوی کی طبع موزون سے مرزا صاحب کی شان میں واقع ہوا ہے۔

کچھ کٹ گئی ہے پیٹی کچھ کٹ گیا ہے ڈورا

دم داب سامنے سے وہ اڑ چلا لٹورا

بھڑوا ہے مسخرا ہے سودا اسے ہوا ہے

مرزا نے جو راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کے ہجو میں مثنوی کہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی کسی نے مثنوی لکھی ہے اور خوب لکھی ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں۔

تم اپنے فیل معنی کو نکالو

مرے ہاتھی سے دو ٹکر لڑا لو

سید انشا نے لکھا ہے کہ دو ٹکریں چاہئے۔ یہ سید صاحب کی سینہ زوری ہے۔

ہجوؤں میں ایک ساقی نامہ ہے۔ جس میں فوقی شاعر کی ہجو ہے۔ اصل میں قیام الدین قائم کی ہجو میں تھا۔ وہ بزرگ باوجود شاگردی کے مرزا سے منحرف ہو گئے تھے۔ جب یہ ساقی نامہ لکھا گیا تو گھبرائے اور آ کر خطا معاف کروائی۔ مرزا نے ان کا نام نکال دیا اور فوقی ایک فرضی شخص کا نام ڈال دیا۔

مرثیے اور سلام بھی بہت کہے ہیں۔ اس زمانے میں مسدس کی رسم کم تھی۔ اکثر مرثیے چو مرصع ہیں مگر مرثیہ گوئی کی ترقی دیکھ کر ان کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شاید انہی مرثیوں کو دیکھ کر اگلے وقتوں میں مثل مشہور ہوئی تھی۔ کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویا مرثیہ خواں۔ حق یہ ہے کہ مرثیہ کا شاعر گویا ایک مصیبت زدہ ہوتا ہے کہ اپنا دکھڑا روتا ہے۔ جب کسی کا کوئی مر جاتا ہے تو غم و اندوہ کے عالم میں جو بے چارے کی زبان سے نکلتا ہے سو کہتا ہے اس پر کون بے درد ہے جو اعتراض کرے۔ وہاں صحت و غلطی اور صنائع و بدائع کو کیا ڈھونڈنا یہ لوگ فقط اعتقاد مذہبی کو مدنظر رکھ کر مرثیے سلام کہتے تھے۔ اس لیے قواعد کی احتیاط کم کرتے تھے اور کوئی اس پر گرفت بھی نہ کرتا۔ پھر بھی مرزا کی تیغ زبان جب اپنی اصالت دکھاتی ہے تو دلوں میں چھریاں ہی مار جاتی ہے۔ ایک مطلع ہے۔

نہیں ہلال فلک پر مہ محرم کا

چڑھا ہے چرخ پہ تیغا مصیبت و غم کا

ایک اور مرثیے کا مطلع ہے۔

یارو سنو تو خالق اکبر کے واسطے

انصاف سے جواب دو حیدر کے واسطے

 

 

وہ بوسہ گہ بنی تھی پیمبر کے واسطے

یا ظالموں کی برش خنجر کے واسطے

باوجود عیوب مذکورہ بالا کے جہاں کوئی حالت اور روئداد دکھاتے ہیں، پتھر کا دل ہو تو پانی ہوتا ہے اور وہ ضرور آج کل کے مرثیہ گویوں کو دیکھنی چاہئے۔ کیوں کہ یہ لوگ اپنے زور کمال میں آ کر اس کوچے سے نکل گئے ہیں۔

واسوخت مخمس، ترجیع بند، مستزاد، قطعہ، رباعیاں، پہیلیاں وغیرہ اپنی اپنی طرز میں لاجواب ہیں۔ خصوصاً تاریخیں بے کم و کاست ایسی برمحل و برجستہ واقع ہوئی ہیں کہ ان کے عدم شہرت کا تعجب ہے۔ غرض جو کچھ کہا ہے اسے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچایا ہے۔ مرزا کی زبان کا حال نظم میں تو سب کو معلوم ہے کہ کبھی دودھ ہے کبھی شربت مگر نثر میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ فقط مصری کی ڈلیاں چبانی پڑتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ نثر اردو ابھی بچہ ہے۔ زبان نہیں کھلی چنانچہ شعلہ عشق کی عبارت سے واضح ہے کہ اردو ہے مگر مرزا بے دل کی نثر فارسی معلوم ہوتی ہے۔ کتاب مذکور اس وقت موجود نہیں۔ لیکن ایک دیباچے میں انہوں نے تھوڑی سی نثر بھی لکھی ہے۔ اس سے افسانہ مذکور کا انداز معلوم ہو سکتا ہے۔

کل اہل سخن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے۔ جو شعر اور فن انشاہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میر صاحب نے بھی انہیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ اس پر سب رنگوں میں ہمرنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ۔ جب دیکھو طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز۔ نظم کی ہر فرع میں طبع آزمائی کی ہے اور رکے نہیں چند صفتیں خاص ہیں۔ جن سے کلام ان کا جملہ شعرا سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔

کلام کا زور مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریباں ہے جیسے آگ کے شعلے میں گرمی اور روشنی، بندش کی چشتی اور ترکیب کی درستی سے لفظوں کو اس در و بست کے ساتھ پہلو بہ پہلو جڑتے ہیں۔ گویا ولایتی طپنچے کی چانپیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ خاص ان کا حصہ ہے۔ چنانچہ جب ان کے شعر میں سے کچھ بھول جائیں تو جب تک وہی لفظ وہاں نہ رکھے جائیں، شعر مزا ہی نہیں دیتا۔ خیالات نازک اور مضامین تازہ باندھتے ہیں۔ مگر اس باریک نقاشی پر ان کی فصاحت آئینے کا کام دیتی ہے۔ تشبیہ اور استعارے ان کے ہاں ہیں۔ مگر اسی قدر کہ جتنا کھانے میں نمک یا گلاب کے پھول پر رنگ، رنگینی کے پردے میں مطلب اصلی گم نہیں ہونے دیتے۔

ان کی طبیعت، ایک ڈھنگ کی پابند نہ تھی نئے نئے خیال اور چٹختے قافیے جس پہلو سے جمتے دیکھتے تھے، جماد یتے تھے اور وہی ان کا پہلو ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سننے والوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے یا زبان کی خوبی تھی کہ جو بات اس سے نکلتی تھی اس کا انداز نیا اور اچھا معلوم ہوتا تھا۔ ان کے ہمعصر استاد خود قرار کرتے تھے کہ جو باتیں ہم کاوش اور تلاش سے پیدا کرتے ہیں وہ اس شخص کے پیش پا افتادہ ہیں۔

جن اشخاص نے زبان اردو کو پاک صاف کیا ہے، مرزا کا ان میں پہلا نمبر ہے انہوں نے فارسی محاوروں کو بھاشا میں کھپا کر ایسا اپک کیا ہے۔ جیسے علم کیمیا کا ماہر ایک مادے کو دوسرے مادے میں مہذب کر دیتا ہے اور تیسرا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ کسی تیزاب سے اس کا جوڑ کھل نہیں سکتا۔ انہوں نے ہندی زبان کو فارسی محاوروں اور استعاروں سے نہایت زور بخشا۔ اکثر ان میں سے رواج پا گئے۔ اکثر آگے نہ چلے۔

انہی کا زور طبع تھا۔ جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترتیب پا کر تیسری زبان پیدا ہو گئی اور اسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آئندہ کے لیے وہی ہندوستان کی زبان ٹھہری، جس نے حکام کے درباروں اور علوم کے خزانوں پر قبضہ کیا۔ اسی کی بدولت ہماری زبان فصاحت اور انشا پردازی کا تمغا لے کر شائستہ زبانوں کے دربار میں عزت کی کرسی پائے گی۔ اہل ہند کو ہمیشہ ان کی عظمت کے سامنے ادب اور ممنونی کا سر جھکانا چاہیے۔ ایسی طبیعتیں کہاں پیدا ہوتی ہیں کہ پسند عام کی نبض شناس ہوں اور وہی باتیں نکالیں جن پر قبول عام رجوع کر کے سالہا سال کے لیے رواج کا قبالہ لکھ دے۔

ہر زبان کے اہل کمال کی عادت ہے کہ غیر زبان کے بعض الفاظ میں اپنے محاورے کا کچھ نہ کچھ تصرف کر لیتے ہیں۔ اس میں کسی موقع پر قادر الکلامی کا زور دکھانا ہوتا ہے۔ کسی موقع پر محاورہ عام کی پابندی ہوتی ہے۔ بے خبر کہہ دیتا ہے کہ غلطی کی۔ مرزا نے بھی کہیں کہیں ایسے تصرف کیے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں۔

جیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفا صفا

ایک غزل میں کہتے ہیں۔

لب و لہجہ ترا سا ہیگا کب خوبان عالم میں

غلط الزام ہے جگ میں کہ سب مصری کی ڈلیاں ہیں

 

 

کل تو مست اس کیفیت سے تھا کہ آتے دیر سے

بھر نظر جو مدرسہ دیکھا سو وہ مے خانہ تھا

 

 

ساق سیمیں کو ترے دیکھ کے گوری گوری

شمع مجلس میں ہوئی جاتی ہے تھوری تھوری

 

 

اپنے کعبے کی بزرگی شیخ جو چاہے سو کر

از روئے تاریخ تو بیش از صنم خانہ نہیں

فارسی محاورے کو بھی دیکھنا چاہئے کہ کس خوبصورتی سے بول گئے ہیں۔

ہے مجھے فیض سخن اس کی ہی مداحی کا

ذات پر جس کی مبرہن گنہ عزوجل

 

 

بہت ہر ایک سے ٹکرا کے چلے تھے کالا

ہو گیا دیکھ کے وہ زلف سیہ فام سفید

 

 

خیال ان انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد از بھی

دلا آیا جو تو اس مے کدے میں جام لیتا جا

 

 

سودا تجھے کہتا ہے نہ خوباں سے مل اتنا

تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا

 

 

عاشق بھی نامراد ہیں پر اس قدر کے ہم

دل کو گنوا کے بیٹھ رہے صبر کر کے ہم

یہاں ردیف میں تصرف کیا ہے کہ ’’ ے‘‘ حدف ہو گئی ہے اسی طرح عاجز میں ’’ ع‘‘ حکیم کی ہجو میں کہتے ہیں۔

لکھ دیا مجنون کو شیر شتر

کہہ دیا مستسقی سے جا فصد کر

ایک کہانی میں لکھتے ہیں۔

قضا کار وہ والی نامدار

ہوا درد قولنج سے بے قرار

مرزا اکثر ہندی کے مضمون اور الفاظ نہایت خفیف طور پر تضمین کر کے زبان ہند کی اصلیت کا حق ادا کرتے تھے۔ اس لطف میں یہ اور سید انشاء شامل ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔

ترکش الینڈ سینہ عالم کا چھان مارا

مژگاں نے تیرے پیارے ارجن کا بان مارا

 

 

محبت کے کروں بھج بل کی میں تعریف کیا یارو

ستم پر بت ہو تو اس کو اٹھا لیتا ہے جوں رائی

 

 

نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہو

کنہیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی

 

 

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ نین وہ ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے

 

 

بوندی کے جمدھروں سے وہ بھڑتے ہیں ہمدگر

لڑکے مجھ آنسوؤں کے غضب منکرے ہوئے

 

 

اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوج اشک

لخت جگر کی لاش کو آگے دھرے ہوئے

مرزا خود الفاظ تراشتے تھے اور اس خوبصورتی سے تراشتے تھے کہ مقبول خاص و عام ہوتے تھے۔ آصف الدولہ مرحوم کی تعریف میں ایک قصیدہ کہا ہے، چند شعر اس کے لکھتا ہوں۔ مضامین ہندی کے ساتھ الفاظ کی خوبصورت تراش کا لطف دیکھو۔

تیرے سائے تلے تو ہے وہ مہنت

پشہ کر جائے دیو و دد سے لڑنت

 

 

نام سن پیل کوہ پیکر کے

بہ چلیں جوئے شیر ہو کر دنت

 

 

سحر صولت کے سامنے تیرے

سامری بھول جائے اپنی پڑھنت

 

 

تیری ہیبت سے نہ فلک کے تلے

کانپتی ہے زمین کے بیچ گڑنت

 

 

تکلے کی طرح بل نکل جاوے

تیرے آگے جو دو کرے اکڑنت

 

 

دیکھ میدان میں اس کو روز نبرد

منہ پہ رادن کے پھول جائے بسنت

 

 

تکگ پا اگر سنے تیرے

داب کر دم کھسک چلے ہنونت

 

 

آوے بالفرض سامنے تیرے

روز ہیجا کے سور یا ساونت

 

 

تن کا ان کے زرہ میں ہوں یوں حال

مرغ کی دام میں ہو جوں پھڑکنت

اسی طرح باقی اشعار ہیں مرغ کی پھڑکنت جل کربھسمنت، تیر کی کمان سے سرکنت زمین میں کھدنت، گھوڑے کی کڑکنت اور ڈپننت، جودنت (مقابل) دبکنت (ڈر کر دبکنا) روباہ شیر کو سمجھتی ہے۔ کیا پشمنت، پخنت (بے فکر) روپیوں کی بکھرنت تاروں کی چھٹکنت، لپٹنت (لپٹنا) پڑھنت (پڑھنا)، کھٹنت (کھٹنا)، عام شعرائے ہندو ایران کی طرح سب تصنیفات ایک کلیات میں ہیں۔ اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کلام کس وقت کا ہے اور طبیعت نے وقت بوقت کس طرف میل کیا ہے۔ خصوصاً یہ کہ زبان میں کب کب کیا کیا اصلاح کی ہے۔ یہ اتفاقی موقع میر صاحب کو ہاتھ آیا کہ چھ دیوان الگ الگ لکھ گئے۔ متقدمین اور متاخرین کے کلاموں کے مقابلہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کے دفتر تصنیفات میں ردی بھی ہے اور وہ بہت ہے۔ چنانچہ جس طرح میر صاحب کے کلام میں بہتر72 نشتر بتاتے ہیں۔ ان کے زبردست کلام میں سے بہتر خنجر تیار کرتے ہیں اس رائے میں مجھے بھی شامل ہونا پڑتا ہے کہ بے شک جو کلام آج کی طرز کے موافق ہے۔ وہ ایسے مرتبہ عالی پر ہے جہاں ہماری تعریف کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور دل کی پوچھو تو جن اشعار کو پرانے محاوروں کے جرم میں ردی کرتے ہیں۔ آج کے ہزار محاورے ان پر قربان ہیں، سن لیجئے۔

گر کیجئے انصاف تو کی روز وفایں

خط آتے ہی سب ٹل گئے اب آپ ہیں نا میں

 

 

تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی

لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلایں

 

 

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

استاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب سودا کے سامنے کوئی یہ شعر پڑھ دیتا تھا یا اپنی ہی زبان پر آ جاتا تھا تو وجد کیا کرتے تھے اور مزے لیتے تھے۔ اسی انداز کا ایک شعر نظیری کا یاد آ گیا۔ اگرچہ فارسی ہے مگر جی نہیں چاہتا کہ دوستوں کو لطف سے محروم رکھوں۔

بوئے یار من ازیں سست وفا می آید

گلم از دست بگیرید کہ از کار شدم

بہار سخن کے گلچینو! وہ ایک زمانہ تھا کہ ہندی بھاشا کی زمین جہاں دوہروں کا سبزہ خود روا گا ہوا تھا، وہاں نظم فارسی کی تخم ریزی ہوئی تھی۔ اس وقت فارسی کی بحروں میں شعر کہتا اور ادھر کے محاورات کو ادھر لینا اور فارسی مضامین کو ہندی لباس پہنانا ہی بڑا کمال تھا۔ اس صاحب ایجاد نے اپنے زور طبع اور قوت زبان سے صنعتوں اور فارسی کی ترکیبوں اور اچھوتے مضمونوں کو اس میں ترتیب دیا اور وہ خوبی پیدا کی کہ ایہام اور تجنیس و غیر صنائع لفظی جو ہندی دہروں کی بنیاد تھے۔ انہیں لوگ بھول گئے۔ ایسے زمانے کے کلام میں رطب دیا بس ہو تو تعجب کیا ہم اس الزام کا برا نہیں مانتے۔

اس وقت زمین سخن میں ایک ہی آفت تو نہ تھی۔ ادھر تو مشکلات مذکورہ ادھر پرانے لفظوں کا ایک جنگل جس کا کاٹنا کٹھن۔ پس کچھ اشخاص آئے کہ چند کیاریاں تراش کر تخم ریزی کر گئے۔ ان کے بعد والوں نے جنگل کو کاٹا۔ درختوں کو چھانٹا۔ چمن بندی کو پھیلایا۔ جوان کے پیچھے آئے۔ انہوں نے روش، خیاباں، دار بست، گلکاری نہال، گلبن سے باغ سجایا۔ غرض عہد بعہد اصلاحیں ہوتی رہیں اور آئندہ ہوتی رہیں گی۔ جس زبان کو آج ہم تکمیل جادوانی کا ہار پہنائے خوش بیٹھے ہیں۔ کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی؟ کبھی نہیں ہم کس منہ سے اپنی زبان کا فخر کر سکتے ہیں۔ کیا دور گزشتہ کا سما بھول گئے؟ ذرا پھر کر دیکھو تو ان بزرگان متقدمین کا مجمع نظر آئے گا کہ محمد شاہی دربار کی کھڑکی دار پگڑیاں باندھے ہیں پچاس پچاس گز گھیر کے جامے پہنے بیٹھے ہیں۔ وہاں اپنے کلام لے کر آؤ۔ جس زبان کو تم نئی تراش اور ایجاد اور اختراع کا خلعت پہناتے ہو کیا وہ اسے تسلیم کریں گے۔

نہیں، ہرگز نہیں۔ ہماری وضع کو سفلہ اور گفتگو کو چھیچھورا سمجھ کر منہ پھیر لیں گے۔ پھر ذرا سامنے دوربین لگاؤ۔ دیکھو ان تعلیم یافتہ لوگوں کا لین دین ڈوری آچکا ہے جو آئے گا اور ہم پر ہنستا چلا جائے گا۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں

مرزا قتیل چار شربت میں فرماتے ہیں۔ مرزا محمد رفیع سودا اور ریختہ پایہ ملا ظہوری رار و د غیر ازینکہ زبان ہر دو باہم تخالف وارد فرقے نتواں کرد مرزا قتیل مرحوم صاحب کمال شخص تھے۔ مجھ بے کمال نے ان کی تصنیفات سے بہت فائدے حاصل کیے۔ مگر ظہوری کی کیا غزلیں کیا قصائد دونوں استعاروں اور تشبیہوں کے پھندوں سے الجھا ہوا ریشم ہیں۔ سودا کی مشابہت ہے تو انوری سے ہے کہ محاورے اور زبان کا حاکم اور قصیدہ اور ہجو کا بادشاہ ہے۔

یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ تصوف جو ایشیا کی شاعری کی مرغوب نعمت ہے۔ اس میں مرزا پھیکے ہیں، وہ حصہ خواجہ میر درد کا ہے۔

کہتے ہیں کہ مرزا قصیدے کے بادشاہ ہیں۔ مگر غزل میں میر تقی کے برابر سوز و گداز نہیں یہ بات کچھ اصلیت رکھتی ہے۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی اس بات کے چرچے تھے۔ چنانچہ خود کہتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ سودا کا قصیدہ ہے خوب

ان کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

یعنی دیکھو تو سہی غزل کچھ کم ہے۔

قدرت اللہ خاں قاسم بھی اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں۔ زعم بعضے آنکہ سرآمد شعرائے فصاحت آقا مرزا محمد رفیع سودا اور غزل گوئی بوئے نہ رسیدہ اما حق آنست کہ

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

مرزا دریائیست بے کراں و میر نہر یست عظیم الشان

در معلومات قواعد میر رابر مرزا برتری ست دور قوت شاعری مرزا رابر میر سروری۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قصیدہ غزل مثنوی وغیرہ اقسام شعر میں کوچے کی راہ جدا جدا ہے۔ جس طرح قصیدے کے لیے شکوہ الفاظ اور بلندی مضامین چستی ترکیب وغیرہ لوازمات ہیں۔ اسی طرح غزل کے لیے عاشق معشوق کے خیالات عشقیہ ذکر وصل شکایت فراق، درد انگیزی اور الم ناک حالت، گفتگو ایسی بے تکلف و صاف صاف نرم نرم گویا وہی دونوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ادائے مضامین کے الفاظ بھی اور ہیں اور اس کی بحریں بھی خاص ہیں۔ میر صاحب کی طبیعت قدرتی درد خیز اور دل حسرت انگیز تھا کہ غزل کی جان ہے۔ اس لیے ان کی غزلیں ہی ہیں اور خاص خاص بحور و قوافی میں ہیں۔ مرزا کی طبیعت ہمہ رنگ اور ہمہ گیر، ذہن براق اور زبان مشاق رکھتے تھے۔ تو سن فکر ان کا منہ زور گھوڑے کی طرح جس طرف جاتا تھا رک نہ سکتا تھا۔ کوئی بحر اور کوئی قافیہ ان کے ہاتھ آئے تغزل کی خصوصیت نہیں رہتی تھی۔ جس برجستہ مضمون میں بندھ جائے بندھ لیتے تھے۔ بے شک ان کی غزلوں کے بھی اکثر شعر چستی اور درستی میں قصیدے کا رنگ دکھاتے ہیں۔

ایک دن لکھنو میں میر اور مرزا کے کلام پر دو شخصوں نے تکرار میں طول کھینچا۔ دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ انہیں کے پاس گئے اور عرض کی کہ آپ فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صاحب کمال ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام آہ ہے اور مرزا صاحب کا کلام واہ ہے۔ مثال میں میر صاحب کا شعر پڑھا۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

پھر مرزا کا شعر پڑھا۔

سودا کی جو بالیں پہ ہوا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

لطیفہ در لطیفہ:

ان میں سے ایک شخص جو مرزا کے طرف دار تھے۔ وہ مرزا کے پاس بھی آئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ مرزا بھی میر صاحب کے شعر کو سن کر مسکرائے اور کہا شعر تو میر کا ہے مگر داد خواہی ان کی دوا معلوم ہوتی ہے۔

رسالہ عبرۃ الغافلین طبع شاعر کے لیے سیڑھی کا کام دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا فقط طبعی شاعر نہ تھے بلکہ اس فن کے اصول و فروع میں ماہر تھے۔ اس کی فارسی عبارت بھی زباندانی کے ساتھ ان کی شگفتگی اور شوخی طبع کا نمونہ ہے۔ اس کی تالیف ایک افسانہ ہے اور قابل سننے کے ہے۔ اس زمانے میں اشرف علی نام ایک شریف خاندانی شخص تھے۔ انہوں نے فارسی کے تذکروں اور استادوں کے دیوانوں میں سے 15 برس کی محنت میں ایک انتخاب مرتب کیا اور تصحیح کے لیے مرزا فاخر مکیں کے پاس لے گئے کہ ان دنوں فارسی کے شاعروں میں نامور وہی تھے انہوں نے کچھ انکار کچھ اقرار بہت سی تکرار کے بعد انتخاب مذکور کو رکھا اور دیکھنا شروع کیا مگر جا بجا استادوں کے اشعار کو کہیں بے معنی سمجھ کر کاٹ ڈالا کہیں تیغ اصلاح سے زخمی کر دیا۔ اشرف علی خاں صاحب کو جب یہ حال معلوم ہوا تو گئے اور بہت سے قیل و قال کے بعد انتخاب مذکور لے آئے۔ کتاب اصلاحوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔ اس لیے بہت رنج ہوا۔ اسی عالم میں مرزا صاحب کے پاس لا کر سارا حال بیان کیا اور انصاف طلب ہوئے۔ ساتھ اس کے یہ بھی کہا کہ آپ اسے درست کر دیجئے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فارسی زبان کی مشق نہیں۔ اردو میں جو چند لفظ جوڑ لیتا ہوں، خدا جانے دلوں میں کیونکر قبولیت کا خلعت پا لیا ہے۔ مرزا فاخر مکین فارسی دان اور فاری کے صاحب کمال ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہو گا۔ سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ کو اصلاح منظور ہے۔ تو شیخ علی حزیں مرحوم کے شاگرد شیخ آیت اللہ ثنا، میر شمس الدین فقیر کے شاگرد مرزا بھچوذرہ تخلص موجود ہیں۔ حکیم بو علی خاں ہاتف بنگالہ میں نظام الدین صانع بلگرامی فرخ آباد میں۔ شاہ نور العین واقف شاہجہان آباد میں ہیں، یہ ان لوگوں کے کام ہیں۔

جب مرزا صاحب نے ان نامور فارسی دانوں کے نام لیے تو اشرف علی خاں نے کہا کہ ان لوگوں کو تو مرزا فاخر خاطر میں بھی نہیں لاتے۔ غرض کہ ان کے اصرار سے مرزا نے انتخاب مذکور کو رکھ لیا۔د یکھا تو معلوم ہوا کہ جو جو باکمال سلف سے آج تک مسلم الثبوت چلے آتے ہیں۔ ان کے اشعار تمام زخمی تڑپتے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر مرزا کو بھی رنج ہوا۔ بموجب صورت حال کے رسالہ عبرت الغافلین لکھا اورمرزا فاخر کی غلط فہمیوں کو اصول انشاء پردازی کے بموجب کماحقہ ظاہر کیا۔ ساتھ ان کے دیوان پر نظر ڈال کر اس کی غلطیاں بھی بیان کیں اور جہاں ہو سکا۔ اصلاح مناسب دی۔

مرزا فاخر کو بھی خبر ہوئی۔ بہت گھبرائے اور چاہا کہ زبانی پیاموں سے ان داغوں کو دھوئیں۔ چنانچہ بقا اللہ خاں کو گفتگو کے لیے بھیجا وہ مرزا فاخر کے شاگرد تھے، بڑے مشتاق اور باخبر شاعر تھے۔ مرزا اور ان سے خوب خوب گفتگوئیں رہیں اور مرزا فاخر کے بعض اشعار، جن کے اعتراضوں کی خبر اڑتے اڑتے ان تک بھی پہنچ گئی تھی۔ ان پر رد و قدح بھی ہوئی چنانچہ ایک شعر ان کا تھا۔

گرفتہ بود دریں بزم چوں قدح دل من

شگفتہ رویے صہبا شگفتہ کرد مرا

مرزا کو اعتراض تھا کہ قدح کو گرفتہ دل کہنا بے جا ہے۔ اہل انشا نے ہمیشہ قدح کو کھلے پھول سے تشبیہ دی ہے۔ یا ہنسی سے کہ اسے بھی شگفتگی لازم ہے۔ بقا نے جواب میں شاگردی کا پسینہ بہت بہایا اور اخیر کو باذل کا ایک شعر بھی سند میں لائے۔

چہ نشاط بادہ بخشد بمن خراب بے تو

بہ دل گرفتہ ماند قدح شراب بے تو

مرزا رفیع سن کر بہت ہنسے اور کہا اپنے استاد سے کہنا کہ استادوں کے شعروں کو دیکھا کرو تو سمجھا بھی کرو۔ یہ شعر تو میرے اعتراض کی تائید کرتا ہے۔ یعنی باوجودیکہ پیالہ ہنسی اور شگفتگی میں ضرب المثل ہے اور پیالہ شراب سامان نشاط ہے۔ مگر وہ بھی دل افسردہ کا حکم رکھتا ہے۔

غرض جب یہ تدبیر پیش نہ کی گئی تو مرزا فاخر نے اور راہ لی۔ شاگرد لکھنو میں بہت تھے۔ خصوصاً شیخ زادے کہ ایک زمانے میں وہی ملک اودھ کے حاکم بنے ہوئے تھے اور سینہ زوری اور سرشوری کے بخارا بھی تک دماغوں سے گئے نہ تھے۔ ایک دن سودا تو بے خبر گھر میں بیٹھے تھے، وہ بلوا کر کے چڑھ آئے۔ مرزا کے پیٹ پر چھری رکھ دی اور کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سب لو اور ہمارے استاد کے سامنے چل کر فیصلہ کرو۔ مرزا کو مضامین کے گل پھول اور باتوں کے طوطے مینا تو بہت بناتے آتے تھے مگر یہ مضمون ہی نیا تھا سب باتیں بھول گئے۔ گرد وہ لشکر شیطان تھا۔ یہ بیچ میں تھے چوک میں پہنچے تو انہوں نے چاہا کہ یہاں انہیں بے عزت کیجئے۔ کچھ تکرار کر کے پھر جھگڑنے لگے۔ مگر جسے خدا عزت دے، اسے کون بے عزت کر سکتا ہے؟ اتفاقاً سعادت علی خاں کی سواری آ نکلی۔ مجمع دیکھ کر ٹھہر گئے اور حال دریافت کر کے سودا کو اپنے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر لے گئے۔ آصف الدولہ سرا میں دستر خوان پر تھے۔ سعادت علی خاں اندر گئے اور کہا بھائی صاحب بڑا غضب ہے آپ کی حکومت اور شہر میں یہ قیامت! آصف الدولہ نے کہا کیوں بھئی خیر باشد انہوں نے کہا مرزا رفیع جس کو باوا جان نے برادر من مشفق مہربان کہہ کر خط لکھا۔ آرزوئیں کر کے بلایا اور وہ نہ آیا آج وہ یہاں موجود ہے اور اس حالت میں ہے کہ اگر اس وقت میں نہ پہنچتا تو شہر کے بدمعاشوں نے اس بے چارے کو بے حرمت کر ڈالا تھا۔ پھر سارا ماجرا بیان کیا۔ آصف الدولہ فرشتہ خصال گھبرا کر بولے کہ بھئی مرزا فاخر نے ایسا کیا تو مرزا کو کیا گویا ہم کو بے عزت کیا۔ باوا جان نے انہیں بھائی لکھا تو وہ ہمارے چچا ہوئے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ اس میں کیا شبہ ہے۔ اسی وقت باہر نکل آئے ۔ سارا حال سنایا بہت غصے ہوئے اور حکم دیا کہ شیخ زادوں کا محلے کا محلہ کھڑوا کر پھینک دو اور شہر سے نکلوا دو۔ مرزا فاخر کو جس حال میں ہو اسی حال سے حاضر کرو۔ سودا کی نیک نیتی دیکھنی چاہیے۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ جناب عالی! ہم لوگوں کی لڑائی کا غلہ قلم کے میدان میں آپ ہی فیصل ہو جاتی ہے۔ حضور اس میں مداخلت نہ فرمائیں۔ غلام کی بدنامی ہے، جتنی مدد حضور کے اقبال سے پہنچی ہے وہی کافی ہے۔ غرض مرزا رفیع با عزاز و اکرام وہاں سے رخصت ہوئے۔ نواب نے احتیاطاً سپاہی ساتھ کر دئیے۔

 

اٹھارہویں صدی اردوشاعری کاانتہائی زرخیز دور رہاہے۔ اس دورمیں مختلف لسانی اورتہذیبی عوامل کے تحت شمالی ہندمیں اردوشاعری کارواج عام ہوا۔ ریختہ گوئی کی شروعات ہوئی اور اردوشاعری کی ایک بڑی اہم تحریک ایہام گوئی کاجنم اسی عہدمیں ہوا جس نے اردوشاعری کوبے حدمتاثرکیا۔ اور اردوزبان نے شاعری کی حدتک فارسی زبان کی جگہ لے لی اورایک توانازبان کی حیثیت سے معروف ومقبول ہوئی۔

صدیوں سے ہندوستان کی علمی اورادبی زبان فارسی تھی اورہندوستان کے شعرا اوراُدبانے فارسی زبان میں بے پناہ قدرت حاصل کرلی تھی لیکن اہل زبان ایران یہاں کے شعراکو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے جس کی وجہ سے کئی تنازعات بھی سامنے آئے، عرفی اور فیضی کاتنازعہ اسی دورکی پیداوارہے۔ ایرانی اورہندوستانی فارسی دانوں کی اس محاذ آرائی نے اس احساس کواور بھی ہوادی کہ ہندوستانی فارسی زبان میں کتنی ہی مہارت حاصل کرلیں انھیں وہ پذیرائی اوراہمیت حاصل نہیں ہوسکتی جواہل ایران کوحاصل ہے۔ اس رویے نے ہندوستان کے فارسی گوشعراکو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اورفکروخیال کے جوہردکھانے کے لیے ایک نئے میدان کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ سراج الدین علی خاں آرزونے یہاں کے شعرا کو ریختہ میں شعرگوئی کی ترغیب دی اورہرماہ کی پندرہویں تاریخ کوان کے گھرپر ’’مراختے‘‘ کی مجلسیں آراستہ ہونے لگیں۔ مشاعرہ کے انداز پر’’مراختہ‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ اب نئی نسل کے بیشتر شعرانے فارسی میں شعرگوئی ترک کردی اوران کی پوری توجہ ریختہ گوئی میں صرف ہونے لگی یہ چیزیں اتنی عام ہوئیں کہ فارسی گوشعرابھی رواج زمانہ کے مطابق منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ریختہ میں شاعری کرنے لگے۔

اٹھارویں صدی کے دوسرے دہے میں جب ولی کادیوان دہلی پہنچا تو اس نے شمالی ہند کے ریختہ گو شعرا میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ولی کایہ دیوان ریختہ میں تھااورفارسی روایت کے عین مطابق حروف تہجی کے اعتبارسے ترتیب دیاگیاتھا جس کااثریہ ہوا کہ شعرائے دہلی میں بھی دیوان سازی کاعمل زور پکڑنے لگا۔ اس طرح اردوشاعری ایک نئے دورمیں داخل ہوگئی۔ شمالی ہندمیں جب اردوشاعری کاپہلادورشروع ہواتو اس دور کے اردوشاعر فارسی کی تہذیبی اورشعری روایت کے زیرسایہ پرورش پارہے تھے لہٰذا اردوشعرانے فارسی شعراکے مقبول رجحانات کوہی اپنامشعل راہ بنایا اورفارسی شاعری کی جس روایت کوپہلی باراختیارکیاگیاوہ ’’ایہام گوئی‘‘ کی روایت تھی۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:

’’دیوان ولی نے شمالی ہندکی شاعری پر گہرااثرڈالا اوردکن کی طویل ادبی روایت شمال کی ادبی روایت کاحصہ بن گئی۔ اٹھارہویں صدی شمال وجنوب کے ادبی وتہذیبی اثرات کے ساتھ جذب ہوکر ایک نئی عالم گیر روایت کی تشکیل وتدوین کی صدی ہے۔ اردوشاعری کی پہلی ادبی تحریک یعنی ایہام گوئی بھی دیوان ولی کے زیر اثر پروان چڑھی‘‘ـ۱ـ

ایہام گوئی شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ایک بڑی تحریک تھی۔ یہ تحریک محمدشاہی عہدمیں شروع ہوئی اور ولی کے دیوان کی دلی آمد کے بعداس صنعت کو عوامی مقبولیت ملی۔ شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ترقی کاآغاز اسی تحریک سے ہوتاہے۔

ایہام عربی زبان کالفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں ’وہم میں ڈالنا‘اور ’وہم میں پڑنا یاوہم میں ڈالنا۔ ‘چونکہ اس صنعت کے استعمال سے پڑھنے والاوہم میں پڑجاتاہے، اس لیے اس کانام ایہام رکھاگیا۔

ایہام کااصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ صنعت ہے جس سے شعرکے بنیادی لفظ یالفظوں سے قریب اوربعید دونوں معنی نکلتے ہوں اور شاعرکی مراد معنی بعیدسے ہو۔ نکات الشعر امیں میرؔکے الفاظ یہ ہیں :

’’معنی ایہام اینست کہ لفظے کہ بروبناے بیت بوآں دومعنی داشتہ باشدیکے قریب ویکے بعید وبعید منظور شاعرباشدوقریب متروک او‘‘ ۲

ڈاکٹر جمیل جالبی ایہام کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ایہام کے معنی یہ ہیں کہ وہ لفظ ذو معنی ہوجس پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان دونوں معنی میں سے ایک قریب ہوں دوسرے بعید۔ اپنے شعر میں شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوقریب سے نہیں۔ ‘‘۳

ایہام کئی طرح کے ہوتے ہیں اوراس کی کئی قسمیں ہیں۔ اردوکے مشہور نقادشمس الرحمن فاروقی نے اس کی تین قسمیں بیان کی ہیں :

1۔ ایہام خالص:

یعنی جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک قریب کے اورایک دورکے اور شاعر نے دورکے معنیٰ مرادلیے ہوں۔

2۔ ایہام پیچیدہ :

جہاں ایک لفظ کے دومعنی یادوسے زیادہ معنی ہوں اورتمام معنی کم وبیش مفید مطلب ہوں عام اس سے کہ شاعرنے کون سے معنی مراد لیے ہوں۔

3۔ ایہام مساوات :

جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں دونوں برابر کے کم وبیش یابالکل قوی ہوں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوکہ شاعرنے کون سے معنی مرادلیے تھے۔ ‘‘۴

ایہام گوئی کی یہ صنعت عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی اور اردو سب ہی زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ توواضح ہے کہ ہندی میں یہ صنعت سنسکرت سے آئی اورسنسکرت میں اس صنعت کو’ شلیش ‘کہاجاتاہے اوریہی نام ہندی میں بھی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ :

’’شلیش سنسکرت کالفظ ہے اورسنسکرت میں اس صنعت کی کئی قسمیں ہیں۔ مگران میں سے خاص دو ہیں سبہنگ اورانہنگ۔ سبہنگ میں لفظ سالم رہتاہے اور ابہنگ میں لفظ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہ صنعت پیدا کی جاتی ہے۔ ہندی میں یہ سنسکرت سے آئی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیاہے۔ ‘‘۵

اردومیں ایہام کی صنعت کہاں سے آئی آیایہ فارسی سے آئی یاہندی سے۔ بیشتر ناقدین اردومیں ایہام گوئی کاسراہندی دوہروں سے ہی جوڑتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کا بھی یہی مانناہے کہ اردوشاعری میں ایہام گوئی کی روایت ہندی شاعری کی رہین منت ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’یہ خیال قرین صحت معلوم ہوتاہے کہ اردوایہام گوئی پرزیادہ ترہندی شاعری کااثر ہوااورہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔ ‘‘۶

ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی کانقطۂ نظراس سے کچھ مختلف ہے۔ وہ اٹھارہویں صدی میں فارسی گوشعراکی دربارمیں رسائی اوراس کے اثرات کوبنیاد بناکریہ کہتے ہیں کہ اردوشاعری میں ایہام کی صنعت فارسی سے آئی ہے۔ نورالحسن ہاشمی کی اس رائے سے قاضی عبدالودود کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اختلا ف کی

غزل متنوع موضوعات کا مرکب ہوتی ہے۔اس مقالہ کا بنیادی مقصد  قدیم اور جدید غزل کی بدلتی ہئیت اور  معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ ہیئت سے مراد ‘اندازِ و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب شعری تخلیق کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ہم نےموضوع کے تحت   اُردوغزل کے آغاز کا جائزہ تاریخی  پس منظرمیں لیا ہے ۔ اس صنف کی ہئیت کو  مستند اشعار کوثبوت  میں پیش کیا ہے۔ تاکہ عنوان کی صحیح معنویت کی وضاحت ہو سکے۔ غزل قصیدے کا جزو تھی، جس کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ پھر وہ الگ سے ایک صنفِ شعر بن کرقصیدے کے فارمیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ فنی اعتبار سے بحر اور قافیہ ’’بیت‘‘ اور غزل کے لیے یکساں ہے۔ اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت کی داستان  کو چار ادوار میں منقسم کیا گیاہے ۔پہلا دکنی غزل ۔ دوسرا اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے آخر تک ۔ تیسرا۱۸۵۷ء سے اقبال تک کا جائزہ لیا گیا ہےاور آخری میں اقبال کے بعد جدید دور تک کا احاطہ کیا گیاہے۔ اس کے بعد ترقی پسند(۱۹۳۶ء تا۱۹۵۰ء) کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں غزل ہئیت اور معنویت  دونوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئ۔ ترقی پسندوں نے بھی غزل کے متعلق اپنی اجدادی وراثت اور روایت سے بےشمار غلط سمجھوتے کیے۔ قدیم روایاتی علامات، استعاروں، تشبیوں، تلمیحات یا کتب وغیرہ کو غیر روایاتی معنیٰ اور ماہیم دینے کی کوشش کی۔ اس طرح قدیم روایت کے ملے جلے اثرات ترقی پسندوں کی روایت شکنی کے اعلانات کے باوجود جدید غزل میں شعوری اور غیر شعوری طور سے سرایت کرتے چلے گئے۔ [2]جدید تحقیق میں اُردو غزل کا پہلا نمونہ امیر خسرؔو کے ہاں ریختہ کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بغیر بہت سے صوفیائے کرام نے شاعری کو اظہار خیالات کا ذریعہ بنایا لیکن غزل کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بہمنی سلطنت میں غزل کے نمونے بہت ہیں۔ لیکن گولکنڈہ کی سلطنت کے قطب شاہی اور عادل شاہی حکمران کی شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے اردو غزل بہت ترقی کی۔ مقالہ میں غزل کے بدلتی  روایت کو   نویں صدی کے اواخر میں فارسی غزل سے ترقی کر کے  سترویں صدی میں اردو میں منتقل ہونے تک کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ اس لیے فارسی کے عصری معنویت اور تاثرات بھی اردو غزل میں کوبہ کو نظر آتے ہیں۔ابتدائی غزلوں میں ماسوائے عشق و محبت کے مضامین باندھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کیوں کہ خود غزل کے لغوی معنی بھی عورتوں سے بات چیت کرنے کے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا شبلی نے بھی غزل کو عشق و محبت کے جذبات کی تحریک سمجھا۔لیکن بعد حاؔلی نے مقدمہ شعر و شاعری میں غزل کے ہر مضمون کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔جس کے بعد اس صنف میں ہر قسم کے خیالات بیان کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی بدلتی ہئیت کو اس کی  مناسب معنویت کے ساتھ تحقیقی نقطہ نظر سے بیانیہ انداز میں تاریخی تحقیق کا طریقہ کار میں مقالہ قلم بند کیا گیاہے۔یہ مقالہ طلباء ٹیچر اور شعراء کو اردو غزل کی ہئیت اور مختصر تاریخ کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا۔

کلیدی الفاظ:اُردو غزل،تفہیمِ غزل، غزل کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت۔

  1. تعارف:

غزلولیت اردو شاعری کی آبرو  ہے۔[3] اگر چہ مختلف زمانوں میں شاعر کی بعض دوسری قسمیں بھی اردو میں بہت مقبول رہی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکی  نہ ہی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچا سکی۔ پھر بھی بیسویں صدی کے نصف میں اس صنف کے بہت مخالفین  پیدا ہوئے لیکن مقبولیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

لفظ ’غزل‘ کے سنتےہی حواسِ خمشہ بیدار ہو جاتے ہیں۔یہ صنف  ادب و سخن میں مرکزی حیثیت کی حامل  ہے، عام و خاص کی ابتدا د سے ہی دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ فنی نقطہ نظر سے بھی اس مقام اعلیٰ ہے۔ عالمی سطح پر سیر و تفریح کرتی ہے۔  یہ ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے۔جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے۔ ناگن سی ناچتی مستی شراب کی لزت بھی اسی میں ہے۔ قوموں ‘ملکوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔میر و غالب ہوئے ‘ حالی  درد بیدل اقبال ہوئے یا پھر جگر مومن اور درد آتش ہوئے۔ حسرت اس صنف سے فیضیاب ہوئے تو جرأت نے ایسی داغ بیل ڈالی کے سب ذوق اس کے آگے فانی ہوئے۔ ناطق اپنے جوش وجگر سے بے نظیر ہوئے۔ شاد فرازا و رفراق نے شوق سے غزل کےآرزو مند ہوئے۔ ندا سے اس کی ہر کوئی سر شار ہوئے۔دکن میں قطب، خواجہ ، شوقی، عادل ،نصرتی، میرا ں،غواصی،وجہی سب اس کے جاں نثار ہوئے۔ وہیں ان کے نقش قدم پر وؔلی ، سراج  اور صفی بھی متوجہ ہوئے ۔ شمال میں  شاہ حاتم ،  آبرو، مظہر  نے  لطف  اور مجاز سے  کوئی بہادر ہوئے کوئی ظفر ہوئے۔ ایہام گوئی  کے آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، سجاد،  یقین، میری ، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز  اس صنف  کے  عاشق ہوئے۔ دبستان لکھنو میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم ، آتش، ناسخ،تلامذہ اور  انیسؔ نے  غزل گو ئی کو اپنا خون و جگر دیا۔ وہیں ناؔصر ، ناسخ، نصرتی نے بڑی آرزؤں ‘ آزادخیالی سے اس کے مجروع ہوئے۔ اس طرح سے غزال کو غزل بنانے میں ہر کوئی اپنے اپنے وہت کے ساتھ اس فن کو فروغ دیتے رہے ۔لیکن روایتی طور پر سب اپنی دکھ اور درد کو ہلکا کرنے کا ذریعہ غزل کو ہی تصور کر رکھا تھا ۔ اس کے برعکس مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے روایت کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس میں انہوں نے  عورتوں سے بات کرنے کے بجائے  سماج کی باتیں کرڈالی۔خاص طور پر مسدس، مدوجزر اسلام لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی اور نئے امکان سے روشناس کیا۔انہیں کی وجہ سے اردو غزل  میں نئے رنگ و آہنگ پید اکیا۔ حالاں کہ ان کی غزلیات کا دیوان مختصر ہے لیکن تمام تر منتخبہ ہے۔ثبوت میں ان کی ایک غزل  ملاحظہ فرمائیں:

بُری اور بھلی سب گذرجائے گی؛یہ کشتی یوں ہی پار اُتر جائےگی

ملے گا نہ گُلچیں کر گُل پَتا؛ہر ایک پنکھڑی یوں بکھر جائےگی

رہیں گے نہ ملّا یہ دِن سَدا؛ کوئی دن میں گنگا اُتر جائے گی

بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ؛یہ عزّت تو جائے گی پر جائےگی

سنیں گے نہ حاؔلی کی کب تک صدا

یہی ایک دِن کام کر جائےگی

حالی ؔ کی غزل پیش کرنےکا مقصد یہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے چلی آرہی روایت  سے ہٹ کر غزل گوئی کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کے کام کس طرح لینا ہے یہ ہم حالی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اس غزل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے شعر میں’ میرے احساسات اور میرے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں حال کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ دوسرے شعر میں  ان کا خیال ہے  شاعر خود کو ایک ایسے طاکر سے تشبیہ دیتا ہے جسے چمن سے جد کر کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ کس طرح قفس میں جی بہل جائےکیوں کہ اب ایسی زندگی گزارنی ہے۔ لیکن آشیاں کی یاد اُسے بے چین رکھتی ہے۔ شاعر یاس کے عالم میں کہتا ہے کہ کوئی میرے آشیاں کو آگ لگادے۔ مجھے یقین ہوجائے گا کہ آشیاں جل چکا ہے تو پھر قفس کی زندگی چین سے گزرےگی۔

شاعر تیسرے شعر میں کہتاہے محبوب ‘ شاعر اشارے کنایہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو رقیب اور بو الہوس حسد کرتے ہیں۔ شاعر ایک پُر لطف طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ ان معمولی اشاراتِ نہاں میں کیا رکھاہے۔ بوالہوس بھی چاہیں تو اس قسم کی اشارہ بازی کرلیں ۔ مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے میری داستانِ غم بڑی طویل ہے۔ جب سناؤں تفصیلات ذہن میں آتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت ایک نئے عنوان کی کہانی سنارہا ہوں۔ کیا کیا جائے ۔ محبوب کے ظلم و ستم کی داستان میں اتنا تنوع ہے کہ میری داستان ہر وقت نئی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

پانچویں شعر میں شاعر کہاتا ہے۔ خدانے مجھے ایک درمند دل عطاکیا ہے۔جس میں اپنے اور انسانیت کے دُکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ پُر درد دِل سیری زندگی کا بڑا سرمایہ ہے ۔ اس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک ہیجان کارفرما ہوتا ہے ۔ خدانے مجھے فرصت دی تو میں اپنے دل درد مند سے کچھ کام لوں گا۔ اور انسانیت کے دُکھ اور آلام کو منظرِعام پر لاؤں گا۔شاعر غزل کے آخری شعر میں لکھتا ہے ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت  میں کیا باتیں چُھپی ہوئی ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہوتو کِسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے۔ شاعر نے اس غز ل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ  غزل صرف فحش یا لغو باتیں کرنے کا ہنر نہیں ہے نہ ہی عورتوں کے جسم کی ہرہر حرکت پر غورو خوص کا کام ہے۔ اس مختصر تعارف کے راقم نے مقالہ کے بنیادی مقصد کا احاطہ کچھ اس طرح کیاہے۔

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور سب سے جاندار صنف ہے۔ دوسری تمام شعری اصناف مختلف ادوار میں عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں سے دو چار ہوئیں لیکن غزل کے آنگن میں ہمیشہ دھوپ ہی دھوپ کھلی رہی۔ غزل حقیقتاً ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ ہے۔ غزل صنفِ سخن ہی نہیں معیارِ سخن بھی ہے۔‘‘[4]لفظ غزل کا ادبی مطلب محبوب سے گفتگو ہے۔تاریخ کی رو سے یہ عربی لفظ غزل سے بنا ہے۔ جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں ۔جو عام فہم زبان میں غزل ایک ایسی پابند منظوم صنف ہے۔ جس میں سات۔نویا درجن بھر یکساں وزن اور بحر کے جملوں کے جوڑے ہوں۔ اس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتام کےجوڑے کو مقطع کہتے ہیں۔ جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال کرتا ہے۔غزل کے شعر میں ہر جوڑے ہر انفرادی جملے کا یکساں دراز ہونا لازمی ہوتا ہے۔پابند جملوں کے یہ جوڑے شعر کہلاتے ہیں ۔ اردو میں شعر کی جمع اشعار کہلاتی ہے۔غزل کے بنیادی نظریہ اور تعریف کے مطابق اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک آزاد اور مکمل منظوم معنیٰ رکھتا ہے۔کسی بھی شعرکا خیال اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال کےلئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے۔

1.1غزل کا فن:

اردو میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا مساوی ہونا ہے۔غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں آخری ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین الفاظ پوری غزل کا توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ غزل کے مطلع کا پہلہ مصرعہ بھی انہی الفاظ پر ختم ہونا چاہیے۔اسے غزل کا ردیف کہتے ہیں ردیف سے پہلے کا لفظ منظوم ہونا ضروری ہے۔ علامہ اخلاق حُسین دہلوی نے اپنی تصنیف ’فن شاعری‘ میں ردیف سے متعلق کہا ہے’’ ردیف کے بدلنے سے قافیے کی حیثیت بدل جاتی ہے اور ایک ہی قافیہ کئی طریق سے بندھ ہو سکتا ہے جس سے مضامین وسعت اور ارنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ردیف جتنی خوشگوار اور اچھوتی ہوتی ہے اتناہی ترنم اور موسیقی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘[5]قافیہ ہی غزل کی بنیادی ضرورت ہے۔[6]قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ دونوں میں تاخر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر اُبھر تے ہیں۔ بحرکا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا، یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔ غزل کا پہلا مصرع جذبے یا کیفیت کے ساتھ خود بخود ذہن سے گنگنا تا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر معین ہو چکی ہے، قافیہ بھی معین ہو چکا ہے ، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی غزل کی ہئیت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجازو اختصادر رمز و کنایہ‘مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لیے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو سخنِ مختصر کی خصوصیات ہیں۔

غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکار انہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے جو سرشت انسانی کی وحدت اور جبّلتوں کی یکسائی پر مبنی ہے۔ اور یہ عُمومیت ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔[7]غزل کے فن سے متعلق  اختر سعید خاں کا خیال ہے’’ غزل کا فن نرم آنچ سے جلاپاتا ہے‘ بھڑکتے ہوئے شعلوں سے نہیں۔ قدیم غزل ہو یا جدید اس کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ وہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتی ہے‘اونچی آواز میں نہیں بولتی ‘اس ک اکمال گویائی برہنہ حرفی نہیں ‘پیام زیرلبی ہے۔ غزل کا فن نہ سینہ کوبی ہے نہ قہقہہ لگانا۔ وہ ایک آنسو ہے پلکوں پر ٹھہراہوا‘ایک تبسم ہونٹوں پر پھیلا ہوا۔ کبھی اس کے تبسم میں اشکوں کی نمی ہوتی ہے اور کبھی اشکوں میں تبسم کی جھلک۔‘‘[8] غزل کے فن سے متعلق لکھا ہے’’ غزل کا فن دراصل رمزیت اور ایمائیت کا فن ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کے مقبلہ میں غزل اپنے فن کی اسی جاذبیت کی وجہ سے ممتاز رہی ہے۔ [9]غزل کی تبدیلیوں سے متعلق  حامد کا شمیری نے اپنی  تصنیف’ اردو تنقید (منتخب مقالات‘ میں الطاف حسین حالی کے نظریات پیش کیے ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تخّیل  کا ذکر ہے جس میں سب مقدّم اور ضروری چیزہے۔ جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔ اس کے بعد تخّیل کی تعریف کے تحت تخیل یا امیج نیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے ۔جیسے کہ شعر کی تعریف اور اس کی وضاحت کی ہے۔ دوسری شرط کائنات کا مطالعہ بتا ہے ۔ جس میں اگر قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کی شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہوا سی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتے ہیں۔لیکن شاعری میں کمال فطرتِ انسانی کا ’مطالعہ‘ نہایت غور سے کیا جائے۔ تیسری شرط تلفظ الفاظ کی بیان کی گئی ہے۔ جس میں کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے خاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔ دوسرا مطالعہ بھی ویا ہی ضروری اور اہم جیسا کہ پہلا۔ان اصولوں سے متعلق چند ضروری باتیں ہیں جن کا خیال رکھانا چاہیے۔

’’ شعر کے وقت ضروری ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اوّل خیالات کو صبر و تحّمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاط سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منظم کرنا کہ صورۃ اگر چہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشر طیکہ شاعر ہو اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرورکرتا ہے اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘[10]

ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے مشرقی میں المیہ کی معنویت کی وضاحت غزل کی روح سے کیا ہے۔کیوں کے غزل کے جذبہٗ غم کو مغربی ادب کی ٹریجیڈی (المیہ) کے مساوی قراردیا ہے۔کیوں کہ لفظ غزل کے ایک معنی اس دل گداز چیخ کے ہیں جو شکاری کے طویل تعاقب، اس کے خوف اور تھکن سے گرپڑنے والے ہرن کے حلق سے نکلتی ہے۔ جس کی تاثیر سے شکاری کتا ہرن کو پاکر بھی اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔[11]

گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔ غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

  1. ہیئتی توارث
  2. فارسی غزل کی فکری ، جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب
  3. تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر
  4. اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر[12]

عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔ غالباً اردو، فارسی اور عربی کے سبھی لغات کے یہی معنی نکلتے ہیں۔ البتہ تغزل یا غزلیت یعنی’ ایک خاص انداز کا باوقار اور سنجیدہ گداز، جو عشق کی خاص پہچان ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ صنف حسن و عشق کی واردات و کیفیات اور معاملات کا ذریعہ اظہار ہے۔[13]غزل اردو فارسی میں ایک صنف، جس کے اشعار کی تعداد مقرر ہوتی ہے اور جسے عموماً ساز کے ساتھ گایا جاتا ہے[14] منجملہ فارسی غزل اگر چہ اپنی موجودہ ہئیت کے اعتبار سے عربی قصیدے کی تشبیب ہی کی قلم ہے ۔ ہندوستان میں عربی گو شعراء میں سب سے پہلا نام مسعود سعد سلمان کانام آتا ہے۔ جو فارسی کے علاوہ عربی اور ہندی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان کے بعد امیر خسرو ہیں جو فارسی کے سب سے بڑے غزل گو شاعر ہیں ۔ انہوں نے عربی بھی شعر کہے ہیں ان کے علاوہ قابلِ ذکر عربی شعراء میں نصیرالدین چراغ دہلی، قاضی عبدالمقتدر ، احمد تھا نیری، شاہ احمد شریفی ، سید عبدالجلیل بلگرامی، شاہ ولی اللہ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور بیٹے عبدالعزیز و رفیع الدین نیز محمد باقر مدراسی کے نام شامل ہیں۔[15] کیوں کہ ایران میں غزل عام تھی ۔اس کی نشو ونما کے لئے تاریخی اور نفسیاتی اسباب و عوامل پہلے سے موجود تھے۔

فارسی غزل کا اولین شاعر شہید بلخی کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کا زمانہ چوتھی صدی ہجری ہے البتہ غزل کو ترقی رود کی اور عنصری نے دی لیکن محبت، محبوب اور شراب کی مثلث کو کثیر الاضلاع بنانے میں سنائی اور دوسرے صوفی شعراء نے بھر پور کردار ادا کیا۔[16]یہی دیگر دانشوروں کا ہے  اردو غزل کے تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صنف اُردو میں فارسی شعرو ادب کے اثر سے آئی اور فارسی میں عربی قصیدے کی تشبیب سے الگ ہو کر وجود پذیر ہوئی۔ علامہ شبلی نعمانی کے خیال کے مطابق یہ بار بار لکھا جا چکا ہے کہ ایران میں شاری کی ابتدا قصیدہ سے ہوئی اور ابتداء میں غزل جو طبع سے نہیں ، بلکہ اقسام شاعری کے پوراکرنے کی غرض سے وجود میں آئی ۔ قصیدہ کی ابتداء میں عشقیہ شعر کہنے کا دستور تھا، اس حصے کو الگ کر لیا تو غزل بن گئی ، گو یا قصیدہ کے درخت سے ایک قلم لے کر الگ لگالیا۔[17]متذکرہ مباحث کی روشنی میں ہم کہے سکتے ہیں کہ اردو غزل فارسی سے نمودار ہوئی ہے لیکن خورشد الاسلام نے اپنی تصنیف ’اردو ادب آزادی کے بعد‘ میں اس کے برعکس لکھا ہے:

’’ اردو غزل کی تاریخ کو میں اردو زبان کے باقاعدہ رواج پانے کی تاریخ سے قدیم تر سمجھتا ہوں۔ بظاہر یہ بات ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ اردو زبان سے پہلے اردو غزل کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں غزل کے اس فکری و جذباتی سر مائے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو زبان سے علیحدہ کر کے دیکھاجا سکتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے کسی جگہ غالب کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اردو غزل کے نسب نامے کو ولی سے آگے بڑھا کر رودکی تک پہنچا دیا۔ غالب سے رود کی ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے جو اچھے خاصے رشتوں کو دھندلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن سولہویں صدی عیسوی کے آغاز تک یہ رشتہ ہمیں زیادہ واضح نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے فارسی غزل زیادہ تر ایران کی چیز تھی اس میں سعدی و حافظ کی روشنی تو تھی لیکن صناعی ونازک خیالی کے وہ تکلفات نہ تھے جو اسے ہندوستانی بنا کر اردوغزل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ سولہویں صدی میں کسی حدتک دبستان ہرات کے زیر اثر تازہ گوئی کی ایک انجمن قائم ہوئی جس کی قیادت فیضیؔ و عرفیؔ کرتے تھے۔ اسی کے تحت ان علایم و رموز اور مخصوص اسالیب بیان کو فروغ ہوا جنہوں نے اکبر سے شاہجہاں تک فارسی غزل میں ایہام ، معاملہ بندی، شوخی بیان اور مبالغہ آرائی کو بڑھاوا دیا جو آگے چل کر اردو غزل کی بنیادی خصوصیات قرار پائیں۔‘‘

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عادل شاہی دور: دسویں صدی ہجری میں اردو شاعری کی روایت
حسن شوقی:ولادت ۹۴۸ھ وفات ۱۰۴۲ھ اور ۱۰۵۰ھ کے درمیان متعین کی جاسکتی ہے۔جولائی ۱۹۲۹ء میں مولوی عبدالحق مرحوم نے رسالہ ”اردو” میں پہلی بار ایک قدیم شاعر کا تعارف شائع کیا اور اس کے ادبی کارناموں پر روشنی ڈال کر اس کی دو مثنویوں اور تین غزلوں سے اردو دان طبقے کو روشناس کرایا۔ شاعر کا نام حسن شوق تھا، اس کے بعد آج تک ہر تاریخ و تذکرہ میں اس شاعر کا ذکر کیا جاتارہا ہے۔ شہنشاہ اکبر کی فتح گجرات کے بعد وہاں کے اہل علم و ادب بھی انھیں دو سلطنتوں میں تقسیم ہو گئے۔ زوال کے بعد حسن شوقی بھی نظام شاہی سے عادل شاہی سلطنت میں چلا آیا۔ شوقی کا ذکر نہ کسی قدیم تذکرہ میں آتا ہے اور نہ کسی تاریخ میں۔ ہمارے پاس جو کچھ سرمایہ ہے وہ اس کی دو مثنویاں اور تیس غزلیں ہیں۔ شوقی نے اپنی غزل کے ایک مقطع میں اپنے نام کا اظہار قافیہ کی ضرورت سے اس طرح کیا ہے:
جن یو غزل سنایا جلتیاں کو پھر جلایا
وہ رند لا اُبالی شوقی حسن کہاں ہے
ابن نشاطی نے ”پھول بن”(۱۰۶۶ھ) میں شوقی کا ذکر کیا ہے:
حسن شوقی اگر ہوتے تو فی الحال
ہزاراں بھیجتے رحمت مُجہ اُپرال
سید اعظم بیجا پوری نے ”فتح جنگ” میں اس کی سلاست بیانی کی تعریف کی اور نصرتی نے ”علی نامہ” کے ایک قصیدہ میں اپنی شاعری کے قد کو حسن شوقی کی شاعری کے قد سے ناپ کر اپنی عظمت کا اظہار کیا:
دس پانچ بیت اس دھات میں کے ہیں تو شوقی کیا ہوا
معلوم ہوتا شعر گر کہتے تو اس بستار کا
ان شواہد کی روشنی میں شیخ حسن اور شوقی تخلص ٹھہرتا ہے۔ ان حوالوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے زمانے میں مسلم الثبوت استاد کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے مرنے کے بعد دکن کی ادبی فضائوں میں اس کا نام گونجتا رہا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد قلی قطب شاہ اور جگت گرو و جانم سے پہلے نظام شاہی سلطنت میں اردو کتنی ترقی کر چکی تھی۔ موجود مواد کی روشنی میں حسن شوقی ایک مثنوی نگار اور غزل گو کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتا ہے۔
حسن شوقی کی غزلیں اس روایت کا ایک حصہ ہیں جس کے مزار پر ولی دکنی کی غزل کھڑی ہے۔ ان غزلوں کو جدید معیار سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن یہ غزلیں اپنے مزاج کے اعتبار سے جدید غزل کی ابتدائی روایت اور رنگ روپ کا ایک حصہ ہیں۔ حسن شوقی کے ذہن میں غزل کا واضح تصور تھا۔ وہ غزلوں کو عورتوں سے باتیں کرنے اور عورتوں کی باتیں کرنے کا ذریعہ اظہار سمجھتا تھا۔ سب غزلوں میں بنیادی تصور یہی ہے۔ محبوب کے حسن و جمال کی تعریف کرتاہے اور عشقیہ جذبات کے مختلف رنگوں اور کیفیات کو غزل کے مزا ج میں گھلاتا ملاتا نظر آتا ہے۔ اس کے ہاں غزل کے خیال، اسلوب، لہجہ اور طرزِ ادا پر فارسی غزل کا اثر نمایاں ہے۔شوقی نہ صرف اس اثر کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ان شاعروں کا ذکر بھی کرتا ہے جن سے وہ متاثرہوا ہے یہاں خسرو و ہلالی بھی ملتے ہیں اور انوری و عنصری بھی:
حسن شوقی نے بھی فارسی غزل کے اتباع میں سوز و ساز کو اردو غزل کے مزاج میں داخل کیا اور آج سے تقریباً چار سو سال پہلے ایک ایسا روپ دیا کہ نہ صرف اس کے ہم عصر اس کی غزل سے متاثر ہوئے بلکہ آنے والے زمانے کے شعراء بھی اسی روایت پر چلتے رہے۔
ولی کی غزل روایت کے اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ اپنی غزلوں میں مٹھاس اور گھلاوٹ پیدا کرنے کے لیے شوقی عام طور پر رواں بحروں کا انتخاب کرتا ہے۔ شوقی کی غزل میں تصور عشق مجازی ہے۔ حسن شوقی کی غزل میں ”جسم” کا احساس شدت سے ہوتا ہے، وصال کی خوشبو اڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ محبوب اور اس کی ادائیں حسن و جمال کی دل ربائیاں، آنکھوں کا تیکھا پن، خدوخال کا بانکپن ہوتا ہے، دانت، کلیوں جیسے ہونٹ، ہیرے کی طرح تل، سر و قدی، مکھ نور کا دریا، دل عاشق کو پھونک دینے والا سراپا اس کی غزل کے مخصوص موضوعات ہیں۔
حسن شوقی کو احساس ہے کہ وہ غزل کی روایت کو نیا رنگ دے کر آگے بڑھا رہاہے۔ ان کے اشعار کے مطالعے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ اردو غزل کی روایت کے وہ ابتدائی نقوش ہیں جہاں غزل کی روایت جم کر ، کھل کر پہلی بار اس انداز میں اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔
دسویں صدی کے تین اور شاعروں کے نام ہم تک پہنچتے ہیں جن کی استادی کا اعتراف ان کے بعد کی نسل نے کیا ہے۔ میری مراد محمود، فیروز اور ملاخیالی سے ہے جن کا ذکر محمدقلی قطب شاہ نے اپنی غزلوں میں کیا ہے۔ فیروز، محمود اور ملاخیالی گولکنڈہ کے شاعر تھے۔ حسن شوقی کی زندگی ہی میں یہ تینوں شعراء وفات پا چکے تھے۔ حسن شوقی نے ان کی روایت کو آگے بڑھایا۔ یہ باقاعدہ روایت بن کر شاہی، نصرتی، ہاشمی اور دوسرے شعرا سے ہوتی ہوئی ولی دکنی تک پہنچتی ہے۔ یہیں سے غزل کی ایک مخصوص روایت بنی ہے۔
حسن شوقی کا یہ شعر پڑھیے:
تجہ نین کے انجن کوں ہو زاہداں دوا نے
کوئی گوڑ ، کوئی بنگالہ کوئی سامری کتے ہیں
حسن شوقی کی زبان اس زمانے کی دکن کی عام بول چال کی زبان ہے۔ اس میں ان تمام بولیوں اور زبانوں کے اثرات کی ایک کھچڑی سی پکتی دکھائی دیتی ہے جو آئندہ زمانے ایک جان ہو کر اردو کی معیاری شکلیں متعین کرتے ہیں۔
یہ ہے قدیم اردو غزل کی روایت کا وہ دھارا جس کے درمیان شوقی کھڑا ہے۔ وہ اپنے اسلاف سے یہ اثر قبول کرتا ہے اور اسے ایک نیا اسلوب دے کر آنے والے شعرا تک پہنچا دیتاہے۔ یہی وہ اثر ہے جو حسن شوقی کو قدیم ادب میں ایک خاص اہمیت کا مالک بنا دیتا ہے۔
شوقی کی غزل میں مشتاق، لطفی، محمود، فیروز اور خیال کے اثرات ایک نئے روپ میں ڈھلتے ہیں اور پھر یہ نیا روپ شاہی، نصرتی ، ہاشمی، اشرف، سالک، یوسف، تائب، قریشی اور ایسے بہت سے دوسرے نامعلوم وگمنام شعراء کے ہاں ہوتا ولی کی غزل میںرنگ جماتا ہے۔
اسی رنگ کو دیکھ کر میں اردو کو پاک وہند کی ساری زبانوں کا ”عاد اعظم مشترک” کہتا ہوں۔ (ادبی تحقیق از ڈاکٹر جمیل جالبی)
قطب شاہی دور: قلی قطب شاہ (۱۴؍اپریل ۱۵۶۵ء ۔ ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ئ)
آزاد نے ”آب حیات” میں کیونکہ ولی کو اردو شاعری کا باوا آدم قرار دیا ہے۔ اس لیے مدتوں تک غزل کی روایت /تاریخ اس سے شروع ہوتی رہی لیکن بعد کی تحقیقات نے اس کو غلط ثابت کیا، چنانچہ اب گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کے حکمران ابوالمظفر محمد علی قطب شاہ کوپہلا صاحب کلیات (۱۰۲۵ھ) شاعر سمجھا جاتا ہے۔ یہ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان کا پانچواں فرمانروا تھا۔ اس کا عہد حکومت ۵ جون ۱۵۸۰ء سے ۱۰ دسمبر ۱۶۱۱ء تک رہا۔ اس نے دکھنی کے علاوہ فارسی اور تیلگو میں ملا کر کل نصف لاکھ اشعار کہے۔ ڈاکٹر سیدہ جعفری نے لکھا ہے محمد قلی کا کلام اردو ادب میں جنسی شاعری کا پہلا نمونہ ہے۔ محمد قلی نے اپنے اشعار میں اپنی محبوبائوں اور پیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خصوصیات کو ظاہر کرنے اور ان کی شخصیت کے خدوخال کو واضح کرنے کے لیے جنسیات کی بعض اصطلاحوں سے مدد لی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کی شاعری پر جس طرح غزل غالب ہے اسی طرح اس کی غزل پر عورت غالب ہے۔ اس کی شاعری ہندوانہ رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ عورت کے حسن اور جسم سے وہ کرشن کی طرح کھیلتا ہے۔ اُس کی غزلیں یا غزل نما نظمیں اپنے مجموعی تاثر کے لحاظ سے ہمارے خیال کو تھوڑی دیر کے لیے عرب شاعری کے تصور محبوب کی جانب لے جاتی ہیں۔ جس میں جسم وجنس کے عنصر کے غلبے کے ساتھ ساتھ کھل کر نام لینے کی روایت بھی ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کا تینتیس سالہ دور اپنی ادبی سرگرمیوں، علمی کاوشوں اور فنی و تخلیقی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ قطب شاہی کا یہ زریں دور ہے۔ جس پر اردو و تلنگی شاعری کی تاریخ ہمیشہ فخر کرتی ہے۔ محمد قلی ایک پُرگو اور اردو زبان کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے۔ تاریخی و تہذیبی اہمیت سے ہٹ کر محمد قلی کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں اس کی دلچسپی کے د و مرکز نظر آتے ہیں۔ ایک مرکز ”مذہب” ہے اور دوسرا ”عشق” ہے۔ مذہب اس لیے عزیز ہے کہ اس کی مدد سے زندگی، حکومت، دولت ، عروج اور دنیوی اعزاز حاصل ہوا ہے اور عشق اس لیے عزیز ہے کہ اس سے زندگی میں رنگینی اور لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے عشق و مذہب دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
صدقے نبیؐ کے قطب شاہ جم جم کرو مولود تم
حیدر کی برکت تھی سدا جگ اُپر فرمان کرو

در نظر سامنے نہیں ہے یار
نین پانی تیرتا دلدار
شاعری کی حیثیت سے وہ حسن کا پرستار ہے، قدرتی مناظر کا حسن، عورتوں کا حسن و جمال اور مختلف رسومات کے حسین پہلو اس کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔
اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ
دکن ہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ بھی اسی علاقے کی تھی۔ اس ضمن میں نصیرالدین ہاشمی لکھتے ہیں:
”اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ” ماہ لقاچندا (۱۱۸۱ئ۔ ۱۲۴۰ئ) سمجھی جاتی تھی۔ اس کا دیوان پہلی مرتبہ (۱۲۱۳ھ۔ ۱۷۹۸ئ) میں مرتب ہوا ہے جو انڈیا آفس لندن کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔
شفقت رضوی نے ”دیوان ماہ لقاچندا بائی” مرتب کر کے شائع کر دیا ہے۔ (لاہور: ۱۹۹۰ئ) چندا اپنے وقت کی امیر ترین خواتین میں شمار ہوتی تھی۔ فن موسیقی، رقص اور محفل آرائی کے فن میں طاق تھی، عمر بھر شادی نہ کی، شاعری ، تاریخ، شہ سواری، تعمیرات سے خصوصی شغف تھا۔ نواب میر نظام علی خان آصف جاہ ثانی کی منظور نظر تھی۔ اس لیے چھوٹے موٹے کو منہ نہ لگاتی۔ الغرض تمام دکن میں اس کی شہرت تھی۔ حیدرآباد میں اپنا مقبرہ خود تعمیر کروایا۔ چنانچہ انتقال کے بعد اس میں دفن ہوئی۔
چندا کا دیوان ۱۲۵ غزلوں پر مشتمل ہے اور ہر غزل میں پانچ پانچ اشعار ہیں اور یہ مختصر دیوان اس کی تخلیقی شخصیت کا عکاس ہے۔ غزل حسب رواج مردانہ انداز و اسلوب میں کہتی تھی لیکن کبھی کبھی اشعار میں نسوانیت بھی آ جاتی ہے مگر ریختی والی کجرو نسوانیت نہیں۔
ثابت قدم ہے جو کوئی چندا کے عشق میں
صفت میں وہ عشق بازوں کے سالار ہی رہا
ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی
چاہتے ہیں جو بار بار شراب
ملایا کر تو اس کی انکھڑیوں سے آنکھ کم نرگس
نہ کر یوں دیدہ و دانستہ اپنے پرستم نرگس
اب جدید انکشاف سے پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاز قرار دی جانی چاہیے کیونکہ اس کا دیوان ۱۲۱۲ ھ میں یعنی چندا کے دیوان سے ایک سال پہلے مرتب ہوا ہے۔ لطیفہ یہ کہ تخلص کی بنا پر پہلے اسے مرد سمجھا جاتا رہا لیکن بعد میں اس کی مثنوی ”گلشن شعرائ” کی دستیابی سے علم ہوا کہ امتیاز عورت ہے۔
نصیرالدین ہاشمی کے بقول امتیاز کے شوہر کانام اسد علی تمنا تھا۔ یہ وہی شاعر ہے جس نے ”گل عجائب ” کے نام سے ”تذکرہ شعرائ” ۱۱۹۴ھ میں مرتب کیا۔ دیوان کے بارے میں نصیرالدین ہاشمی نے یہ معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ ۱۵۶ صفحات پر مشتمل دیوان میں ۹۵ صفحات پر غزلیں ہیں۔ غزل کی زبان صاف اور مضامین روایتی ہیں جبکہ بات مردانہ لب و لہجہ میں کی جاتی ہے شاید اسی لیے پہلے اسے مرد جاناگیا۔
نمونہ کلام ملاحظہ ہو!
شور صحرا میں مرے آنے کی کچھ دھوم سی ہے
عمل قیس کے اُٹھ جانے کی کچھ دھوم سی ہے
منہ پہ جب زلف کج خمدار جھکا
صبح روشن پہ گویا ابر گہر بار جھکا

 

اردوئے قدیم کے کئی شعرا کی طرح ولی کی زندگی کے تفصیلی حالات اب تک معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔ اس کے باوجود مطالعہ ولی کے در کھلے ہوئے ہیں ، کیوں کہ کسی بھی فنکار کی شناخت اس کے فن سے ہوتی ہے۔ نہ کہ ان کے خاندانی حالات اور نجی زندگی کے واقعات سے۔

ہم جانتے ہیں کہ ایک زمانے تک ولی کو اردو شاعری کا باوا آدم کہا جاتا رہا ہے۔ مگر  تحقیق و تنقید نے علم و ادب کی کئی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھا دیا اور کئی پس پشت پڑے شعرا و ادبا کو سامنے لا کر بٹھا دیا۔ اور واضح کر دیا کہ ولی اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں۔ مگر یہ خیال آج بھی اتنا ہی درست ہے کہ ولی نہ صرف دکن کے بلکہ اردو کے پہلے اہم اور بڑے شاعر ہیں کیوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کی نفاست سے لے کر شعری لطافت تک کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں کے چراغ فن سے شمالی ہند میں اردو شاعری کا چراغ روشن ہوا۔

ولیؔ کے بارے میں دکنی اور گجراتی ہونے کا جھگڑا آج تک جاری ہے کیوں کہ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں جس قدر معلومات حاصل ہوسکی ہیں ان پر علماء ادب پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ چند دہائی پہلے تک تو لوگ ولی کے بارے میں بعض بنیادی باتیں بھی نہ جانتے تھے حتی کہ ان کی تعلیم و تربیت، گھر خاندان، اور والدین کے بارے میں بھی کوئی ٹھوس معلومات نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر سید احتشام حسین نے اپنی کتاب ’’اردو ادب کی تنقیدی تاریخ‘‘ میں اس طرح کی کسی چیز کا ذکر نہیں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ابھی کچھ دن پہلے تک ولی کے بارے میں بھی بہت تھوڑی سی معلومات ملتی تھیں مگر اب جو تحقیقی کام ہوئے ہیں ان کی وجہ سے ان کے نام جائے پیدائش وفات وغیرہ کی نسبت کچھ باتیں معلوم ہو گئی ہیں۔ حالانکہ ان کے دکنی یا گجراتی ہونے کی بحث اب بھی ختم نہیں ہوئی۔

احتشام صاحب کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ وہ جن چیزوں کے معلوم ہو جانے کا ذکر کر رہے ہیں ان پر خود ان کو اعتبار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ولی دکنی کا نام اور اس کے جائے پیدائش کے بارے میں کچھ نہیں لکھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ دکنی اور گجراتی کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔

بہرحال بعد میں چند لوگوں نے ولی پر بہت گرانقدر کام کیا اور بہت سی معلومات فراہم کیں۔ اور تسلیم کر لیا گیا کہ ولی کا نام ولی محمد تھا اور ان کے والد کا نام مولانا شریف محمد تھا جو گجرات کے مشہور بزرگ شاہ وجیہ الدین کے بھائی شاہ نصراللہ کی اولاد میں سے تھے۔ ولی ۱۶۴۹ء سے قبل اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ یہ بات حیرت انگیز کہی جائے گی کہ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں قیاس آرائی کے باوجود یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی ابتدائی تعلیم کہاں ہوئی۔ البتہ یہ بات متفقہ طور پر مان لی گئی ہے کہ ولی کو حصول علم کا بہت شوق تھا اسی شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے احمد آباد سے نکل کر سورت دلی اور گجرات وغیرہ کا سفر کیا اور عالموں ، صوفیوں اور دیگر اہل علم حضرات سے مل کر اپنی علمی پیاس بجھائی۔ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی لکھتے ہیں کہ:

’’ولی نے احمد آباد میں شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں تعلیم پائی اور وہیں شاہ نور الدین صدیقی سہروردی کے مرید ہو گئے۔‘‘

(نورالحسن ہاشمی۔ مقدمہ کلیات ولی۔ ص۱۱)

نورالحسن صاحب کی فراہم کردہ معلومات کی تائید کلام ولی سے بھی ہوتی ہے اور دوسرے دانشوروں کے اقوال سے بھی ظہیر الدین مدنی لکھتے ہیں کہ:

’’اس کی شخصیت جامع کمالات تھی وہ اپنے ادبی کارناموں میں کسی جگہ عالم و فاضل مصلح و مشیر صوفی و صافی کی حیثیت سے رونما ہوتا ہے اور کہیں ادیب و انشا پرداز اور مجتہد العصر دکھائی دیتا ہے۔ ‘‘

ولی کی شاعری میں جا بجا قرآن و احادیث سے متعلق واقعات کا عکس بکھرا پڑا ہے۔ وہ اپنے وقت کے بیشتر مروج علوم سے واقف تھے۔ اور تصوف میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کے متنوع رنگوں میں تصوف کا رنگ بھی شامل ہے۔ اور غالباً تصوف نے ہی انہیں حسن شناس و حسن پرست بنایا تھا اور سیر و سیاحت جس کا ولی کو بہت شوق تھا نے مسائل حیات سے واقف کرایا اور زندگی کے مختلف رنگوں کا شعور و ادراک بخشا۔ ولی نے حج بیت اللہ کا شرف بھی حاصل کیا تھا بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی سلسلے میں سورت گئے تھے۔ کیوں کہ اس زمانے میں حج کو جانے کے لیے سورت ایک اہم راستہ تھا۔ لیکن ان کی سیر وسیاحت اور اسفار میں دلّی کے سفر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ اسی سفر نے انہیں اردو شاعری کے باوا آدم کے طور پر لوگوں سے متعارف کرایا اور شمالی ہند میں اردو شاعری اور ادبی تاریخ کا نیا باب کھلا۔ دہلی کا یہ سفر انہوں نے ۱۷۰۰ء میں اپنے دوست سید ابوالمعالی کے ساتھ کیا۔ جب وہ دلّی پہونچے تو وہاں کے مشہور صوفی شاعر سعداللہ گلشن سے بھی ملے جو پہلے ہی سے ان کے لیے مرشد کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ولی نے سعداللہ گلشن ہی کے کہنے پر فارسی افکار و خیالات کو اردو شاعری کے قالب میں ڈھالنے کا کام کیا اس سلسلے میں میر تقی میر کا نام لیا جاتا ہے جنہوں نے نکات الشعرا میں لکھا ہے کہ:

’’ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند در ریختہ خود بکار۔‘‘

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ولیؔ کی عظمت کا راز محض اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے فارسی میں بیکار پڑے افکار و خیالات کو اردو الفاظ کا جامہ پہنا دیا۔ جب کہ دوسرا سوال اس سے بھی مشکل ہے۔ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دوسرے کے افکار و خیالات کو اپنے الفاظ میں پیش کر کے بڑا شاعر بن جائے۔ وہ بھی اتنا بڑا کہ صدیوں تک لوگوں کو متاثر کرتا رہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہو گا مگر ان سوالوں پر رک کر یہاں تفصیلی گفتگو ممکن نہیں ہے۔ آئیے پہلے ہم یہ دیکھ لیں کہ ولی کے بارے میں تذکرہ نگاروں ، ہم عصر شعرا ، اور بعد کے ناقد کیا رائے رکھتے ہیں ، اور یہ بھی کہ خود ولیؔ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ولیؔ کی عظمت کا اعتراف صرف ان کے ہمعصروں نے ہی نہیں کیا ہے۔ بلکہ ہر عہد کے بڑے سے بڑے ناقد نے ان کی عظمت کا اقرار کیا ہے۔

مصحفی اپنے تذکرہ ہندی میں لکھتے ہیں کہ:

’’جب ولیؔ کا دیوان جلوس محمد شاہی کے دوسرے سال میں دلّی پہونچا اور وہاں کے شعرا نے اس میں وہ رنگ و نور دیکھا جس کے دیکھنے کو ان کی آنکھیں ترستی تھیں تو انہوں نے بھی فارسی کو چھوڑ کر اسی رنگ سخن کی پیروی شروع کر دی۔ ‘‘

میر حسن نے ’’تذکرہ شعرائے ہندی‘‘ میں ریختہ کی اولیت کا سہرا ولی کے سرباندھا ہے اور انہیں کو اس فن کا استاد کامل اور استاد اول قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

’’ابتدائے ریختہ از اوست اول استادی ایں فن بنام اوست‘‘

محمد حسین آزاد جن کی کتاب ’’آب حیات‘‘ تذکرہ نگاری اور تنقیدی تاریخ کی درمیانی کڑی کی سی حیثیت رکھتی ہے اور اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے تحقیق و تنقید کے اتنا آگے نکل جانے کے باوجود قابل استفادہ سمجھی جاتی ہے ، اس میں لکھتے ہیں کہ:

’’جب ان کا دیوان دلّی پہونچا تو اشتیاق نے ادب کے ہاتھوں پر لیا قدر دانی نے غور کی آنکھوں سے دیکھا لذت نے زبان سے پڑھا گیت موقوف ہو گئے قوال معرفت کی محفل میں انہیں کی غزلیں گانے اور بجانے لگے ارباب نشاط یاروں کو سنانے لگے جو طبیعت موزوں رکھتے تھے انہیں دیوان بنانے کا شوق ہوا۔‘‘

محمد حسین آزاد کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ ولیؔ کی شاعری نے تمام لوگوں کو مسحور کر دیا اور دلّی فتح کر لی۔ یہی وجہ تھی کہ قوال بھی ان کی غزلیں گانے پر مجبور ہو گئے۔ حد یہ کہ ولی کی غزلوں نے گیتوں کی مقبولیت کو بھی مات دے دیا۔ گویا ولی کی شاعری میں عوامی حسیت کو انگیخت کرنے کے علاوہ ثقافت کی روح کو معطر کرنے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے۔ اسی لیے دکن سے شمال تک ولی کا ڈنکا بجنے لگا۔ اور بات بھی کچھ یوں ہے کہ اردو شاعری اپنی جن خوبیوں اور فنی لوازم کے لیے جانی جاتی ہے۔ اور جس طرح کے تلازموں اور صنعتوں کے لیے ممتاز سمجھی جاتی ہے وہ تمام چیزیں ولی کی شاعری میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اردو کا عبقری فنکار قرار دیا جاتا ہے۔ نورالحسن ہاشمی جنہیں ماہر ولی کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے اپنی کتاب ’’ہندوستانی ادب کے معمار۔ ولی‘‘ کے پہلے باب کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ:

’’ولیؔ کا موازنہ اکثر چاسر سے کیا جاتا ہے کیوں کہ ولیؔ نے اردو شاعری کو فروغ دینے میں اسی طرح کامیابی حاصل کی جس طرح چاسر نے انگریزی کے فروغ دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یعنی انہوں نے ایسا طریقہ بیان ایسے لسانی انداز کے ساتھ وضع کیا جو نہ صرف دکن بلکہ شمالی ہند میں بھی قابل قبول سمجھا گیا۔‘‘

ولیؔ کو چاسر کا ہم پلّہ قرار دینا محض خوش عقیدگی کی بات نہیں ہے بلکہ ایک حقیقی صورتحال کی تقابلی وضاحت کی اچھی کوشش ہے۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ ولی کی شاعری سے پہلے لوگ اردو زبان کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ اس میں باضابطہ طور پر شاعری کریں۔ فارسی کا بڑا غلبہ تھا۔ اور اشرافیہ طبقہ کے لوگ فارسی ہی کو علمی زبان سمجھتے تھے۔ فارسی زبان و ادب کا زبردست دبدبہ تھا۔ جو لوگوں کو اردو کو ہیچ سمجھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ایسے ماحول میں ولیؔ کا اردو زبان میں شاعری کرنا وہ بھی نہایت خود اعتمادی اور خلاقی کے بہترین جوہر کے ساتھ اپنے آپ میں ایک نادر مثال تھا۔ انہوں نے ہندوی یا دکنی ہندوی اور فارسی کے آمیزے سے ایک ایسی زبان کی تشکیل کی جو اردو کے نام سے جانی گئی اور اپنی شیرینی اور تازگی و توانائی کی وجہ سے بہت جلد دلوں پر راج کرنے لگی۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے ولیؔ کے فکر و فن اور ثقافتی ورثے سے گہری وابستگی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’ولیؔ جب دہلی آئے تو اپنے ساتھ اپنی ثقافت کا سرمایہ بھی ساتھ لائے اس سرمائے میں ایرانی سکّے (IDIOMS)کم سے کم تھے ایسا نہیں ہے کہ ولی سے پہلے دکنی علاقے میں فارسی اور فارسی شاعری سے لوگ واقف نہیں تھے لیکن یہاں کے شعرا کی جڑیں اپنے لسانی نظام میں تھیں جو دوسرے لسانی نظام سے متصادم نہیں ہوئی تھیں۔ ادھر شمال میں بیرونی تسلّط کے سبب اشرافیہ ریختہ سے زیادہ فارسی پر زور دے رہا تھا، ولی کے پاس مقامی وراثت تو تھی ہی جب انہیں ریختہ کہنے کی ہدایت کی گئی تو ان کے مقامی رنگ کو ایک اور سمت مل گئی، فارسی نے ان کی مدد کی اور شمال کے ڈکشن نے ان کے رنگ کو مزید چوکھا کر دیا، گویا اسلوب اور ڈکشن کا یہ منظر نامہ جو ولی کے یہاں ہے اس ثقافتی وسعت کا نتیجہ ہے جس کی جڑیں ہندوستان کے ایک وسیع علاقے سے لے کر ایران تک پھیلی ہوئی ہیں۔ (معنی کی جبلت۔ ص ۱۱۱)

وہاب اشرفی نے ولیؔ کے یہاں جس ہند ایرانی ثقافت کی بات کہی ہے اس کی خوشبو ولی کی شاعری میں پوری طرح رچی بسی ہوئی ہے جس کا اندازہ ان کی شاعری کے مطالعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ فی الوقت مثال کے لیے ایک شعر دیکھیے۔

ترا مکھ مشرقی ، حسن انوری ، جلوہ جمالی

نین جامی ، جبیں فردوسی ، و ابرو ہلالی

ظاہر ہے کہ جو شاعر اپنے محبوب کی خوبصورتی کی تعریف فارسی کے اہم شعرا فردوسی، جامی، اور انوری وغیرہ کے تخلص کو تشبیہ میں بدل کر کرتا ہو، اسے ہند ایرانی تہذیب اور فارسی زبان و ادب کا کتنا گہرا شعور ہو گا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ غالباً ولی کی انہیں حیرت انگیز خوبیوں کی وجہ سے نیا پرانا غرض ہر عہد کا بڑے سے بڑا اور اہم ناقد اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی تاریخ ادب اردو میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’یہ بات یاد رہے کہ آگے چل کر جتنے رجحانات نمایاں ہوئے وہ خواہ عشقیہ شاعری کا رجحان ہو یا ابہام پسندی کا لکھنوی شاعری کی خارجیت اور مسی چوٹی والی شاعری ہو مسائل تصوف کے بیان والی شاعری ہو یا ایسی شاعری ہو جس میں داخلیت اور رنگارنگ تجربات کا بیان ہو یا اصلاح زبان و بیان کی تحریک ہو سب کا مبدا ولیؔ ہے۔‘‘

شمس الرحمن فاروقی کا ایک اقتباس پروفیسر خالد محمود نے نقل کیا ہے کہ:

ولیؔ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قطعی طور پر اور ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیا کہ گجری اور دکنی کی طرح ہندی/ ریختہ میں بھی بڑی شاعری کی صلاحیت ہے۔ ولی نے یہ بھی دکھا دیا کہ ریختہ /ہندی میں یہ بھی قوت ہے کہ وہ سبک ہندی کی فارسی شاعری پر فوقیت لے جاسکتی ہے یا کم سے کم اس کے شانہ بشانہ تو چل ہی سکتی ہے۔ تشبیہ اور پیکر کی نفاست ہو یا استعارے کی وسعت تجرید اور پیچیدگی مضمون آفرینی ہو یا معنی آفرینی ریختہ/ ہندی فارسی سے ہرگز کم نہیں۔ ان کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اردو کے شعرا کو ایک نئی شعریات کے احساس اور وجود سے آشنا کیا۔ اس شعریات میں سنسکرت، سبک ہندی اور دکنی تینوں کے دھارے آ کر ملتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر شارب ردولوی نے ’’مطالعہ ولی تنقید و انتخاب‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ:

’’سادگی روانی رنگینی سرخوشی نشاطیہ کیفیت تشبیہات واستعارات کی جدت معنی آفرینی تاثرات حسیت، متنوع رمزیت اور ہندوستانی عنصر و فارسی کا خوبصورت امتزاج ولی کا فن ہے۔ جس سے ان کے کلام کا بیشتر حصہ روشن ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر سید عبداللہ کہتے ہیں کہ:

حق یہ ہے کہ حکیمانہ گہرائی دردمندی اور سوزوگداز کی کمی کے باوجود ان کا کلام بڑا خوش رنگ و خوش گوار ہے۔ بہار آفریں الفاظ خوب صورت تراکیب گل و گلگشت کی تکرار حسن کے ترانے اور نغمے مناسب بحروں کا انتخاب اور اسالیب فارسی سے گہری واقفیت اور ان سے استفادہ ان سب باتوں نے ولی کو ایک بڑا رنگین شاعر بنا دیا ہے۔

عابد علی عابد تو پوری اردو شاعری کے تناظر میں صرف ولی ہی کو کلاسک قرار دیتے ہیں۔ بہرحال ان اقوال و اقتباسات سے اتنا تو واضح ہوہی جاتا ہے کہ اردو کے تقریباً تمام اہل فکر و نظر ولی کی عبقریت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی شاعرانہ انفرادیت کے قائل ہیں۔ اس کے باوجود کہنا پڑتا ہے۔ کہ ولیؔ پر جتنا اور جس نوعیت کا کام ہونا چاہیے نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر ولی پر ایسا بھرپور مقالہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے جس کے پڑھنے کے بعد تشنگی کا احساس نہ ہوتا ہو۔ حالانکہ کہ ولی کی عظمت اور استادی کو تذکرہ نگاروں ، محققوں ، اور ناقدوں کے علاوہ شعرا نے بھی سلام کیا ہے اور کئی اہم شعرا نے ان سے فیضیاب ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے اس کے باوجود مطالعہ ولی کے باب میں کہیں نہ کہیں ایک آنچ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ان باتوں سے پہلے آئیے یہ دیکھتے چلیں کہ شعرا نے کس طرح ولی کی استادی کا اعتراف کیا ہے اور اس کی تقلید کو کیوں کر باعث افتخار سمجھا ہے۔

داؤد اورنگ آبادی ولی سے اتنے متاثر تھے کہ وہ خود کو ولی ثانی کہا کرتے تھے۔ ایک شعر دیکھئے۔

حق نے بعد از ولی مجھے داؤد

صوبہ شاعری بحال کیا

حاتم نے ’’دیوان زادہ‘‘ کے دیباچے میں ولی کے مقابلے اپنی کمتری کا برملا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:

حاتم بھی اپنے دل کی تسلی کوں کم نہیں

لیکن ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ

حاتم کا یہ شعر پہلے مصرعہ کی تبدیلی کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے۔ شعر دیکھئے۔

حاتم یہ فن شعر میں کچھ تو بھی کم نہیں

لیکن ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیچ

شاہ مبارک آبرو جو اپنے وقت کے اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے بھی ولی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ:

آبرو شعر ہے ترا اعجاز

جوں ولی کا سخن کرامت ہے

سراج اپنی عشقیہ شاعری کے لیے بہت ہی ممتاز سمجھے جاتے ہیں اور وارفتگی و سرشاری کے معاملے میں ولی سے بھی افضل قرار دیئے جاتے ہیں وہ بھی ولی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں :

تجھ مثال اے سراج بعد ولی

کوئی صاحب سخن نہیں دیکھا

خدائے سخن میر تقی میر جن کی عظمت کا ہر کوئی قائل ہے اور جو اپنے مقام و مرتبہ سے پوری طرح واقف ہیں اور کہتے ہیں کہ

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

وہ بھی ولی کی استادی کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ

خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے

معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا

غالباً انہیں وجوہات کے پیش نظر جمیل جالبی نے تاریخ ادب اردو جلد اول صفحہ ۵۸۹ میں لکھا ہے کہ:

’’ولی نے قدیم ادب کی روایت کے زندہ عناصر کو اپنے تصرف میں لا کر فکر و اظہار کی سطح پر ایک نیا معیار قائم کیا جو ریختہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نئی سطح تھی جہاں شمال، جنوب، اور سارے برّاعظم کے تخلیقی ذہنوں کی آرزوئیں تکمیل پا رہی تھیں ، ولی کا یہ معیار ریختہ اتنا مقبول ہوا کہ سورت کے عبدالولی، عزلت، دکن کے داؤد، سراج گجرات کے یوسف زلیخا والے امین، پنجاب کے ناصر علی سرہندی اور شاہ مراد، سندھ کے میر محمود صابر، سرحد کے عبدالرحمان بابا، بہار کے عبدالقادر بیدل، دہلی کے فائز، جعفر زٹلی، آبرو، شاہ حاتم، کرناٹک کے شاہ تراب، مدراس کے محمد باقر آگاہ، اور برّ عظیم کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے سب شاعروں نے اس نئے معیار کو واحد ادبی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا۔

مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے، یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ولیؔ اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں ، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ولیؔ اردو کی شعری روایت سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پیش روؤں اور ہمعصروں کا اثر قبول نہ کیا ہو، مگر ہندوستان کا شروع سے یہ مزاج رہا ہے کہ اس نے ایک بار کسی کو بڑا یا عظیم مان لیتا ہے تو پھر اس کی شخصیت کے ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے جو بربنائے انسان دوسروں سے متاثر ہوتا ہے۔ اور دوسروں کا اثر قبول کرتا اور اپنی شخصیت کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ولیؔ کے ساتھ بھی ہوا۔

جمیل جالبی صاحب نے یہ تو لکھ دیا کہ دنیائے اردو ادب کے سبھی نابغوں نے ولیؔ سے فیض پایا اور اس کے لسانی تفاعل اور تخلیقی تناؤ اور جدت و ندرت سے تحریک حاصل کی اور اپنے اپنے فن کا چراغ جلایا۔ اور موقع ملا تو ان ہی کی زمین میں طبع آزمائی بھی کی۔ اور اکثر و بیشتر ان کے خیالات کو بھی برتنے کی کوشش کی جس کی مثال کے لیے پوری اردو شاعری کی تاریخ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مثالیں پیش کی گئیں اور آج بھی کی جا رہی ہیں۔ اس مضمون میں بھی اس طرح کی درجنوں مثالیں پیش کی جائیں گی۔ مگر اس سے پہلے یہ بتا دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خود ولیؔ نے بھی اپنے پیش روؤں اور ہمعصروں کا اثر قبول کیا اور حتی المقدور ان سے فائدہ بھی اٹھایا۔ چند اشعار دیکھئے۔

خبر لیا یا ہے ہدہد میرے تئیں اس پار جانی کا

خوشی کا وقت ہے ظاہر کروں رازِ نہانی کا

(محمد قلی قطب شاہ)

الٰہی رکھ مجھے تو خاک پا اہل معانی کا

کہ کھلتا ہے اسی صحبت سوں نسخہ نکتہ دانی کا

(ولی)

تجھ خال ہے رخسار میں یا ہے بھنور گلزار میں

یا مصر کے بازار میں زنگی کھڑا زنگ بار کا

(حسن شوقی)

جگ منیں دوجا نئیں ہے خوب رو تجھ سار کا

چاند کوں ہے آسماں پر رشک تجھ رخسار کا

(ولی)

سنگاتی سات نئیں میرا موا سنگار کیا کرنا

مسی ہور پان خوشبوئی پھلوں کا ہار کیا کرنا

(نصرتی)

ترے بن مجکوں اے ساجن یو گھر اور بار کرناں کیا

اگر تو نا اچھے مجھ کن تو یو سنسار کرنا کیا

(ولی)

نین تجھ مدبھرے دیکھت نظر میانے اثر آوے

ادھر کے یاد کرنے میں زباں اوپر شکر آوے

(مشتاق)

اس وقت مرے جیو کا مقصود بر آوے

جس وقت مرے برمنیں دو سیم بر آوے

(ولی)

اچپل چتر سکی کوں ہمارا سلام ہے

جس ادھر میں شہر تے میٹھا کلام ہے

(ملک خوشنود)

اس شاہ نو خطاں کوں ہمارا سلام ہے

جس کے نگینِ لب کا دو عالم میں نام ہے

(ولی)

اے سروگل بدن تو ذرا ٹک چمن میں آ

جیوں گل شگفتہ ہو کو مری انجمن میں آ

(تاناشاہ)

اے گلعذار غنچہ دہن ٹک چمن میں آ

گل سر پہ رکھ کے شمع نمن انجمن میں آ

(ولی)

عاشق ہے جن تج لعل کا اس مال و دھن سوں کیا غرض

ہے کام جس کو روح سوں اس کو بدن سوں کیا غرض

(غواصی)

تجھ زلف کے بیتاب کوں مشک ختن سوں کیا غرض

تجھ لعل کے مشتاق کوں کان یمن سوں کیا غرض

(ولی)

ساری رین تیرا بدن مج طبع میں بھرپور ہے

تج صبح مکہہ کے سامنے دیپک سدا مخمور ہے

(شاہی)

تشنہ لب کو تشنگی مے کی نہیں ناسور ہے

پنبۂ مینا اسے جیوں مرحم کافور ہے

(ولی)

نظر کی گود میں دیدا اودیدے میں نظر دستا

سو اس دیدے کے ہولے ہے سو جل باہر بھتر دستا

(شغلی)

یو تل تجھ مکھ کے کعبہ میں مجھے اسود حجر دستا

زنخداں میں ترے مجھ چاہ زمزم کا اثر دستا

(ولی)

تج ادھر مئے شوق سوں چاکیا سو متوالا ہوا

آزاد مستاں ہوئے کر چھُٹ سب سوں نروالا ہوا

(شاہ سلطان)

تجھ مکھ پہ یو تل دیکھ کر لالے کا دل کالا ہوا

دور خط سوں طوق جیوں مہتاب کا بالا ہوا

(ولی)

اس طرح کی اور بھی مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ولیؔ اہم یا عبقری شاعر نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بزرگ آرٹ محرک ہوتا ہے، اور اس چراغ سے کتنے ہی چراغ روشن ہوتے ہیں جو تخلیق فن کی راہوں کو اجالنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ فن کے اثرات سے آلودہ اور آسودہ کوئی بھی فن پارہ اور فن کار کم سواد نہیں سمجھا جاتا ہے۔ رہی بات ولیؔ کی تو ان کی عظمت کا ایک زمانہ قائل ہے جب کہ خود ولیؔ کو بھی اپنی شعری انفرادیت اور تخلیقی ثروت مندی، اور فنکارانہ ہنر مندی کا خوب خوب احساس تھا، وہ اپنی لسانی ندرت کاری اور سخن طرازی کی تازگی سے بھی آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خدائے سخن میر تقی میر کی طرح ان کے یہاں بھی بکثرت تعلّی کے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چند اشعار دیکھئے۔

اے ولی لگتا ہے ہر دل کو عزیز

شعر تیرا بسکہ شوق انگیز ہے

میرے سخن میں فکر سوں کر اے ولی نگاہ

ہر بیت مجھ غزل میں ہے انتخاب کا

اے ولی مجھ سخن کو وو بوجھے

جس کو حق نے دیا ہے فکر رسا

جیوں گل شگفتہ رو ہیں سخن کے چمن میں ہم

جیوں شمع سربلند ہیں ہر انجمن میں ہم

ایسا شاعر جس کی استادی کے سامنے بڑے سے بڑے شعرا و ادبا کی نظریں جھک جاتی ہوں ، ان کی شعری کائنات میں داخل ہونا اور ان کی تخلیقی جہتوں کی دریافت اور بازیافت میں اپنے فہم و ادراک کا ثبوت پیش کرنا اور اردو شاعری میں ان کی اولیات کی نشاندہی کرنا آسان نہیں ہے۔ کیوں کہ اس بے حد توانا، منفرد اور متنوع شاعر کے کلام کے کتنے ہی رنگ ایسے ہیں جنہیں آسانی سے گرفت میں نہیں لیا جاسکتا ہے۔ اور نہ ان کی شاعری کی تمام جہات کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ ہاں ان کے کلام کو والہانہ ذوق و شوق سے پڑھنے، سمجھنے اور ان سے حظ اٹھانے کی ایک طالب علمانہ کوشش ضرور کی جاسکتی ہے اور اسی کوشش کا نتیجہ ہے یہ مضمون۔

پروفیسر خالد محمود نے اپنے اہم مضمون ’’ولی کی عظمت‘‘ نئی کتاب۔ اپریل جون ۲۰۱۰ء میں لکھا ہے کہ:

’’ولیؔ پر تا حال جو تحقیقی اور تنقیدی کام ہوا ہے اس میں ولی کا نام، مقام پیدائش، وفات، اسفار، خصوصاً سفر دلی دوران سفر دلّی شاہ سعداللہ گلشن سے ولی کی ملاقات اور شاہ صاحب کا ولیؔ کو فارسی آمیز شعر کہنے کا مشورہ یا دیوان ولیؔ کی دلّی آمد کے تعلق سے بحث زیادہ ملتی ہے اور ان کی شاعرانہ خصوصیات کا ذکر استحقاق سے بہت کم ہے۔‘‘

اور یہ بات کچھ بہت غلط بھی نہیں ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بیشتر لوگ انہیں متنازع موضوعات پر لکھتے ہیں اور کسی خاص نتیجہ پر پہونچے بغیر بات ختم کر دیتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ ولیؔ کی شاعری کی خوبیوں پر لکھتے ہی نہیں ہیں۔ یا یہ کہ لکھا ہی نہیں ہے۔ لکھا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ولی کا جو مرتبہ ہے۔ اس حساب سے کم لکھا ہے۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ولی کے فن کی خوبیوں ، لطافت، اور ان کے لہجے کی رنگینی اور شیفتگی اور داخلی و خارجی خصوصیات کی عملی شناخت پر توجہ کی جائے۔ کیوں کہ یہی وہ چیزیں ہیں جس نے ولیؔ کو ولیؔ بنایا ہے۔

 

اٹھارہویں صدی اردوشاعری کاانتہائی زرخیز دور رہاہے۔ اس دورمیں مختلف لسانی اورتہذیبی عوامل کے تحت شمالی ہندمیں اردوشاعری کارواج عام ہوا۔ ریختہ گوئی کی شروعات ہوئی اور اردوشاعری کی ایک بڑی اہم تحریک ایہام گوئی کاجنم اسی عہدمیں ہوا جس نے اردوشاعری کوبے حدمتاثرکیا۔ اور اردوزبان نے شاعری کی حدتک فارسی زبان کی جگہ لے لی اورایک توانازبان کی حیثیت سے معروف ومقبول ہوئی۔

صدیوں سے ہندوستان کی علمی اورادبی زبان فارسی تھی اورہندوستان کے شعرا اوراُدبانے فارسی زبان میں بے پناہ قدرت حاصل کرلی تھی لیکن اہل زبان ایران یہاں کے شعراکو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے جس کی وجہ سے کئی تنازعات بھی سامنے آئے، عرفی اور فیضی کاتنازعہ اسی دورکی پیداوارہے۔ ایرانی اورہندوستانی فارسی دانوں کی اس محاذ آرائی نے اس احساس کواور بھی ہوادی کہ ہندوستانی فارسی زبان میں کتنی ہی مہارت حاصل کرلیں انھیں وہ پذیرائی اوراہمیت حاصل نہیں ہوسکتی جواہل ایران کوحاصل ہے۔ اس رویے نے ہندوستان کے فارسی گوشعراکو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اورفکروخیال کے جوہردکھانے کے لیے ایک نئے میدان کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ سراج الدین علی خاں آرزونے یہاں کے شعرا کو ریختہ میں شعرگوئی کی ترغیب دی اورہرماہ کی پندرہویں تاریخ کوان کے گھرپر ’’مراختے‘‘ کی مجلسیں آراستہ ہونے لگیں۔ مشاعرہ کے انداز پر’’مراختہ‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ اب نئی نسل کے بیشتر شعرانے فارسی میں شعرگوئی ترک کردی اوران کی پوری توجہ ریختہ گوئی میں صرف ہونے لگی یہ چیزیں اتنی عام ہوئیں کہ فارسی گوشعرابھی رواج زمانہ کے مطابق منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ریختہ میں شاعری کرنے لگے۔

اٹھارویں صدی کے دوسرے دہے میں جب ولی کادیوان دہلی پہنچا تو اس نے شمالی ہند کے ریختہ گو شعرا میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ولی کایہ دیوان ریختہ میں تھااورفارسی روایت کے عین مطابق حروف تہجی کے اعتبارسے ترتیب دیاگیاتھا جس کااثریہ ہوا کہ شعرائے دہلی میں بھی دیوان سازی کاعمل زور پکڑنے لگا۔ اس طرح اردوشاعری ایک نئے دورمیں داخل ہوگئی۔ شمالی ہندمیں جب اردوشاعری کاپہلادورشروع ہواتو اس دور کے اردوشاعر فارسی کی تہذیبی اورشعری روایت کے زیرسایہ پرورش پارہے تھے لہٰذا اردوشعرانے فارسی شعراکے مقبول رجحانات کوہی اپنامشعل راہ بنایا اورفارسی شاعری کی جس روایت کوپہلی باراختیارکیاگیاوہ ’’ایہام گوئی‘‘ کی روایت تھی۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:

’’دیوان ولی نے شمالی ہندکی شاعری پر گہرااثرڈالا اوردکن کی طویل ادبی روایت شمال کی ادبی روایت کاحصہ بن گئی۔ اٹھارہویں صدی شمال وجنوب کے ادبی وتہذیبی اثرات کے ساتھ جذب ہوکر ایک نئی عالم گیر روایت کی تشکیل وتدوین کی صدی ہے۔ اردوشاعری کی پہلی ادبی تحریک یعنی ایہام گوئی بھی دیوان ولی کے زیر اثر پروان چڑھی‘‘ـ۱ـ

ایہام گوئی شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ایک بڑی تحریک تھی۔ یہ تحریک محمدشاہی عہدمیں شروع ہوئی اور ولی کے دیوان کی دلی آمد کے بعداس صنعت کو عوامی مقبولیت ملی۔ شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ترقی کاآغاز اسی تحریک سے ہوتاہے۔

ایہام عربی زبان کالفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں ’وہم میں ڈالنا‘اور ’وہم میں پڑنا یاوہم میں ڈالنا۔ ‘چونکہ اس صنعت کے استعمال سے پڑھنے والاوہم میں پڑجاتاہے، اس لیے اس کانام ایہام رکھاگیا۔

ایہام کااصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ صنعت ہے جس سے شعرکے بنیادی لفظ یالفظوں سے قریب اوربعید دونوں معنی نکلتے ہوں اور شاعرکی مراد معنی بعیدسے ہو۔ نکات الشعر امیں میرؔکے الفاظ یہ ہیں :

’’معنی ایہام اینست کہ لفظے کہ بروبناے بیت بوآں دومعنی داشتہ باشدیکے قریب ویکے بعید وبعید منظور شاعرباشدوقریب متروک او‘‘ ۲

ڈاکٹر جمیل جالبی ایہام کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ایہام کے معنی یہ ہیں کہ وہ لفظ ذو معنی ہوجس پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان دونوں معنی میں سے ایک قریب ہوں دوسرے بعید۔ اپنے شعر میں شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوقریب سے نہیں۔ ‘‘۳

ایہام کئی طرح کے ہوتے ہیں اوراس کی کئی قسمیں ہیں۔ اردوکے مشہور نقادشمس الرحمن فاروقی نے اس کی تین قسمیں بیان کی ہیں :

1۔   ایہام خالص: 

یعنی جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک قریب کے اورایک دورکے اور شاعر نے دورکے معنیٰ مرادلیے ہوں۔

2۔   ایہام پیچیدہ : 

جہاں ایک لفظ کے دومعنی یادوسے زیادہ معنی ہوں اورتمام معنی کم وبیش مفید مطلب ہوں عام اس سے کہ شاعرنے کون سے معنی مراد لیے ہوں۔

3۔    ایہام مساوات :   

جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں دونوں برابر کے کم وبیش یابالکل قوی ہوں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوکہ شاعرنے کون سے معنی مرادلیے تھے۔ ‘‘۴

ایہام گوئی کی یہ صنعت عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی اور اردو سب ہی زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ توواضح ہے کہ ہندی میں یہ صنعت سنسکرت سے آئی اورسنسکرت میں اس صنعت کو’ شلیش ‘کہاجاتاہے اوریہی نام ہندی میں بھی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ :

’’شلیش سنسکرت کالفظ ہے اورسنسکرت میں اس صنعت کی کئی قسمیں ہیں۔ مگران میں سے خاص دو ہیں سبہنگ اورانہنگ۔ سبہنگ میں لفظ سالم رہتاہے اور ابہنگ میں لفظ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہ صنعت پیدا کی جاتی ہے۔ ہندی میں یہ سنسکرت سے آئی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیاہے۔ ‘‘۵

اردومیں ایہام کی صنعت کہاں سے آئی آیایہ فارسی سے آئی یاہندی سے۔ بیشتر ناقدین اردومیں ایہام گوئی کاسراہندی دوہروں سے ہی جوڑتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کا بھی یہی مانناہے کہ اردوشاعری میں ایہام گوئی کی روایت ہندی شاعری کی رہین منت ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’یہ خیال قرین صحت معلوم ہوتاہے کہ اردوایہام گوئی پرزیادہ ترہندی شاعری کااثر ہوااورہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔ ‘‘۶

ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی کانقطۂ نظراس سے کچھ مختلف ہے۔ وہ اٹھارہویں صدی میں فارسی گوشعراکی دربارمیں رسائی اوراس کے اثرات کوبنیاد بناکریہ کہتے ہیں کہ اردوشاعری میں ایہام کی صنعت فارسی سے آئی ہے۔ نورالحسن ہاشمی کی اس رائے سے قاضی عبدالودود کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اختلا ف کیا۔ ڈاکٹر محمدحسن نے بیچ کی راہ نکالتے ہوئے ایہام گوشعراپرفارسی ہندی دونوں کے اثرات کی وکالت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں

:’’غرض شمالی ہندمیں اردوادب کی ابتدا فار سی اورہندی کی دوہری ادبی روایات کے سائے میں ہوئی ۔ فارسی نے اردوادب سے بہت کچھ اخذواختیارکیا۔ اس کی حسن کاری لفظوں کے دروبست، اضافت وتراکیب، شاعرانہ لب ولہجہ اورایک مخصوص افتاد طبع اورشائستگی کا ایک خاص تصورلیا۔ ہندی شاعری سے بالواسطہ کئی اثرات پڑے۔ ‘‘۷

لیکن ڈاکٹر منظراعظمی مختلف ایہام گو شعرا کے کلام میں مستعمل ہندی الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اگرایہام گواردوشعراکے اشعارپر نظرکی جائے توفارسی لب ولہجہ اور اثرات کم اورہندی یابھاشائی لب ولہجہ اوراثرات نسبتاً زیادہ ملتے ہیں۔ فارسی اثرات کے تحت بیشترشعر رعایت لفظی کی نوعیت کے ہیں جب کہ ہندی اثرات کے تحت شعربیشترایہامی ہیں ‘‘۔ ۸

اردوشاعری میں ایہام گوئی کی شروعات امیرخسروسے ہوتی ہے وہ سب سے پہلے شاعرہیں جنھوں نے ایہام کو بطورصنعت اپنی فارسی شاعری میں استعمال کیا۔ پھرفارسی اوراردوکافائدہ اٹھاتے ہوئے اردومیں ایسے اشعارکہے جن میں یہ صنعت استعمال ہوتی تھی۔ ان کی کہہ مکرنیوں اورپہیلیوں میں ایہام کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔

ایہام گوئی کی ا س روایت کوفروغ دینے میں ولیؔکانام کافی اہمیت کاحامل ہے۔ اس صنعت کانمایاں اظہار ہمیں ولی کی شاعری میں ملتاہے۔ اسی لیے ولیؔکو ہی ایہام کی تحریک کانقطۂ آغاز ماناجاتاہے۔ مندرجہ ذیل اشعار میں ایہام کی عکاسی بھرپورملتی ہے:

لیاہے گھیرزلفوں نے یہ تیرے کان کاموتی

مگریہ ہندکا لشکرلگاہے آستارے کو

ہرشب تری زلف سے ’’مطول‘‘ کی بحث تھی

تیرے دہن کودیکھ سخن’’مختصر‘‘ کیا

موسیٰ جوآکے دیکھے تجھ نورکاتماشا

اس کوں پہاڑہوئے پھر طورکاتماشا

ایہام گوئی کی صنعت کوجس نے عروج عطاکیاوہ خان آرزوؔ ہیں۔ خان آرزوؔ اوران کے شاگردوں نے اس صنعت کا فراوانی سے استعمال کیا۔ انھیں یقین تھاکہ مستقبل میں فارسی کے بجائے ریختہ ہی اس ملک کی زبان بننے والی ہے۔ ویسے اس صنعت میں طبع آزمائی کرنے والوں کی فہرست طویل ہے البتہ اہم ایہام گوشعرا میں انعام اللہ خاں یقینؔ، شاہ مبارک آبروؔ، شاکرناجیؔ،مصطفی خاں یک رنگ اورشاہ ظہورالدین حاتم وغیرہ کانام کافی اہمیت کاحامل ہے۔ طوالت سے بچتے ہوئے نمونے کے طور پر کچھ اشعار دئے جاتے ہیں :

ہوئے ہیں اہل زر خوابان دولت خواب غفلت میں

جسے سوناہے یاروں فرش پہ مخمل کے کہہ سوجا

نیل پڑجاتا ہے ہربوئی کا اے نازک بدن

تن اوپر تیرے چکن کرناہے گویا کارِ چوب

(آبروؔ)

نظرآتانہیں وہ ماہ رو کیوں

گزرتاہے مجھے یہ چاند خالی

نہ دیتا غیر کو نزدیک آنے

اگر ہوتا وہ لڑکا دور اندیش

(یقینؔ)

ہوں تصدق اپنے طالع کا وہ کیسا بے حجاب

مل گیا ہم سے کہ تھا مدت سے گویاآشنا

(حاتمؔ)

قوس قزح سے چرچہ کرانا تھا تجھ بھواں کا

   شاید کہ سربھراہے اب پھر کر آسماں کا

(شاکرناجیؔ)

اردوشاعری میں ایہام گوئی کایہ دورتقریبا ۲۵۔ ۳۰برسوں کومحیط ہے۔ اس صنعت نے بہت سے شعراکو متاثرکیااو راس سے اردوکے ذخیرئہ الفاظ میں بیش بہااضافہ ہوا جس کافائدہ یہ ہوا کہ اسے باقاعدہ ایک زبان بننے اور اس سے پیکرتراشی میں نمایاں مددملی۔ لفظوں کی صوری اورمعنوی دونوں صورتوں میں کتنا تنوع ہوسکتاہے اوراس کے مضامین کی کتنی جہتیں ہوسکتی ہیں یہ ساری چیزیں اسی صنعت ایہام کی دین ہیں۔

ایہام گو شعرا کے کلام کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اشعار محض سطحی یا الفاظ کاگورکھ دھندہ نہیں تھے بلکہ ان اشعار میں درس و عبرت کے پہلو کے ساتھ ساتھ کئی تاریخی،معاشرتی اورشخصی حوالے بھی ملتے ہیں۔ ویسے تو یہ حوالے بعد کے شعرا کے کلام میں بھی کثرت سے ملتے ہیں لیکن ایہام گوئی کی بدولت دوسرے متعلقات اور مناسبات کی شمولیت نے ان حوالوں کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔

ایہام گو شعرا نے اردو شاعری کی بہت بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ ایک عام بول چال کی زبان جو ریختہ کہلاتی تھی اسے با قاعدہ ایک زبان کی حیثیت عطا کرنے میں ایہام گو شعرا کی کاوشیں اردو شاعری کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اسی طرح اردوشاعری میں بعض اصناف کی ایجاد کاسہرابھی ایہام گوشعراکے سرجاتاہے۔ سب سے پہلاواسوخت شاہ حاتم نے کہا۔ اولین شہرآشوب بھی ان کے ہی کے قلم کی رہین منت ہے۔ رباعیات کو رواج دینے میں ان کاکردار سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مخمس، مسدس، ترکیب بند، مراثی، قصائد اورساقی نامے بھی ایہام گوشعرا کی دین ہے۔

ان خصوصیات کے باوجود ایہام گوئی کی صنعت سے اردوشاعری کو کافی نقصان بھی پہنچا۔ اس صنعت کے استعمال سے شاعری تصنع کاشکارہوگئی اورشاعر جذبے اور احساس کے بجائے الفاظ کے دروبست میں الجھ کر رہ گئے اوراس طرح شعری بے ساختگی اورجذباتی عظمت مجروح ہوتی گئی۔

جواب:

سودا تخلص مرزا محمد رفیع نام، شہر دہلی کو ان کے کمال سے فخر ہے۔ باپ مرزا محمد شفیع میرزا یان کابل سے تھے۔ بزرگوں کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ مرزا شفیع بطریق تجارت وارد ہندوستان ہوئے۔ ہند کی خاک دامنگیر نے ایسے قدم پکڑے کہ یہیں رہے بعض کا قول ہے کہ باپ کی سوداگری سودا کے لیے وجہ تخلص ہوئی۔ لیکن بات یہ ہے کہ ایشیا کے شاعر ہر ملک میں عشق کا دم بھرتے ہیں اور سودا اور دیوانگی عشق کے ہمزاد ہیں۔ اس لیے وہ بھی ان بزرگوں کے لیے باعث فخر ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے سودا تخلص کیا اور سوداگری کی بدولت ایہام کی صنعت روکن میں آئی۔

سودا1125ھ میں پیدا ہوئے۔ دہلی میں پرورش اور تربیت پائی۔ کابلی دروازہ کے علاقہ میں ان کا گھر تھا۔ ایک بڑے پھاٹک میں نشست رہتی تھی۔ شیخ ابراہیم ذوق علیہ الرحمتہ اکثر ادھر ٹہلتے ہوئے جا نکلتے تھے۔ میں ہمرکاب ہوتا تھا۔ مرزا کے وقت کے حالات اور مقامات کے ذکر کر کے قدرت خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔

سودا بموجب رسم زمانہ کے اول سلیمان قلی خاں دداد کے پھر شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے شاہ موصوف نے بھی اپنے دیوان کے دیباچے میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے، اس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے، جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اس استاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پل کر بڑا ہو۔ خان آرزو کے شاگرد نہ تھے۔ مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کیے۔ چنانچہ پہلے فارسی شعر کہا کرتے تھے۔ خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمہاری زبان مادری نہیں۔ اس میں ایسے نہیں ہو سکتے کہ تمہارا کلام اہل زبان کے مقابل میں قابل تعریف ہو۔ طبع موزوں ہے۔ شعر سے نہایت مناسبت رکھتی ہے۔ تم اردو کہا کرو تو یکتائے زمانہ ہو گے۔ مرزا بھی سمجھ گئے اور دیرینہ سال استاد کی نصیحت پر عمل کیا۔ غرض طبیعت کی مناسبت اور مشق کی کثرت سے دلی جیسے شہر میں ان کی استادی نے خاص و عام سے اقرار لیا کہ ان کے سامنے ہی ان کی غزلیں گھر گھر اور کوچہ و بازار میں خاص و عام کی زبانوں پر جاری تھیں۔

جب کلام کا شہرہ عالمگیر ہوا تو شاہ عالم بادشاہ اپنا کلام اصلاح کے لیے دینے لگے اور فرمائشیں کرنے لگے۔ ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ انہوں نے عذر بیان کیا۔ حضور نے فرمایا۔ بھئی مرزا کے غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟ مرزا نے کہا پیر و مرشد جب طبیعت لگ جاتی ہے۔ دو چار شعر کہہ لیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا بھئی ہم تو پاخانے میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی، حضور! ویسی بو بھی آتی ہے یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا کہ ہماری غزلیں بناؤ۔ ہم تمہیں ملک الشعراء کر دیں گے۔ یہ نہ گئے اور کہا کہ حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے۔ کرے گا تو میرا کلام ملک الشعرا کرے گا اور ایک بڑا مخمص شہر آشوب لکھا

کہا میں آج یہ سودا سے کیوں ہے ڈانواں ڈول

بے درد ظاہر بین کہتے ہیں کہ بادشاہ اور دربار بادشاہ کی ہجو کی ہے۔ غور سے دیکھو تو ملک کی دلسوزی میں اپنے وطن کا مرثیہ کہا ہے۔ مرزا دل شکستہ ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ قدر دان موجود تھے۔ کچھ پروا نہ ہوئی ان میں اکثر روسا امرا خصوصاً مہرباں خاں اور بسنت خاں ہیں۔ جن کی تعریف میں قصیدہ کہا ہے۔

کل حرص نام شخصے سودا پہ مہربان ہو

بولا نصیب تیرے سب دولت جہاں ہو

حرص کی زبانی دنیا کی دولت اور نعمتوں کا ذکر کر کے خود کہتے ہیں کہ اے حرص!

جو کچھ کہا ہے تو نے یہ تجھ کو سب مبارک

میں اور میرے سر پر میرا بسنت خاں ہو

ان بزرگوں کی بدولت ایسی فارغ البالی سے گزرتی تھی کہ ان کے کلام کا شہرہ جب نواب شجاع الدولہ نے لکھنو میں سنا تو کمال اشتیاق سے برادر من مشفق مہرباں من لکھ کر خط مع سفر خرچ بھیجا اور طلب کیا۔ انہیں دلی کا چھوڑنا گوارا نہ ہوا۔ جواب میں فقط رباعی پر حسن معذرت کو ختم کیا۔

سودا پے دنیا تو بہر سو کب تک

آوارہ ازیں کوچہ بہ آں کوکب تک

 

 

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک

کئی برس کے بعد وہ قدر دان مر گئے۔ زمانے بدل گئے۔ سودا بہت گھبرائے اس عہد میں ایسے تباہی زدوں کے لیے دو ٹھکانے تھے۔ لکھنو حیدر آباد، لکھنو پاس تھا اور فیض و سخاوت کی گنگا بہ رہی تھی۔ اس لیے جو دلی سے نکلتا تھا ادھر ہی رخ کرتا تھا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ پھر دوسری طرف خیال نہ جاتا تھا۔ اس وقت حاکم بلکہ وہاں کے محکوم بھی جویائے کمال تھے۔ نکتے کو کتاب کے مولوں خریدتے تھے۔

غرض60یا66برس کی عمر میں دلی سے نکل کر چند روز فرخ آباد میں نواب بنگش کے پاس رہے۔ اس کی تعریف میں بھی کئی قصیدے موجود ہیں۔ وہاں سے 1185ھ میں لکھنو پہنچے۔ نواب شجاع الدولہ کی ملازمت حاصل کی۔ وہ بہت اعزاز سے ملے اور ان کے آنے پر کمال خرسندی ظاہر کی۔ لیکن یا تو بے تکلفی سے یا طنز سے اتنا کہا کہ مرزا وہ رباعی تمہاری اب تک میرے دل پر نقش ہے اور اسی کو مکرر پڑھا۔ انہیں اپنے حال پر بڑا رنج ہوا اور بپاس وضعداری پھر دربار نہ گئے۔ یہاں تک کہ شجاع الدولہ مر گئے اور آصف الدولہ مسند نشیں ہوئے۔

لکھنو میں مرزا فاخر مکیں زبان فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ ان سے اور مرزا رفیع سے بگڑی اور جھگڑے نے ایسا طول کھینچا کہ نواب آصف الدولہ کے دربار تک نوبت پہنچی (عنقریب) اس کا حال بہ تفصیل بیان کیا جائے گا) انجام یہ ہوا کہ علاوہ انعام و اکرام کے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ہو گیا اور نواب نہایت شفقت کی نظر فرمانے لگے۔ اکثر حرم سرا میں خاصہ پر بیٹھے ہوتے اور مرزا کی اطلاع ہوتی فوراً باہر نکل آتے تھے۔ شعر سن کر خوش ہوتے اور انہیں انعام سے خوش کرتے تھے۔

جب تک مرزا زندہ رہے، نواب مغفرت مآب اور اہل لکھنو کی قدر دانی سے ہر طرح فارغ البال رہے۔ تقریباً 70 برس کی عمر میں1195ھ میں وہیں دنیا سے انتقال کیا۔ شاہ حاتم زندہ تھے۔ سن کر بہت روئے اور کہا کہ افسوس ہمارا پہلوان سخن مر گیا۔

حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ اواخر عمر میں مرزا نے دلی چھوڑی۔ تذکرہ دلکشا میں ہے کہ 66برس کی عمر میں گئے تعجب ہے کہ مجموعہ سخن جو لکھنو میں لکھا گیا۔ اس میں ہے کہ مرزا عالم شباب میں وارد لکھنو ہوئے۔ غرض چونکہ شجاع الدولہ 1188ھ میں فوت ہوئے تو مرزا نے کم و بیش70برس کی عمر پائی۔

ان کے بعد کمال بھی خاندان سے نیست و نابود ہو گیا۔ راقم آثم 1858ء میں لکھنو گیا۔ بڑی تلاش کے بعد ایک شخص ملے کہ ان کے نواسے کہلاتے تھے۔ بے چارے پڑھے لکھے بھی نہ تھے اور نہایت آشفتہ حال تھے۔ سچ ہے۔

میراث پدر خواہی علم پدر آموز

بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی

کاندریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست

ان کا کلیات ہر جگہ مل سکتا ہے اور قدر و منزلت کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے حکیم سید اصلح خان نے ترتیب دیا تھا اور اس پر دیباچہ بھی لکھا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے پرانے محاوروں سے قطع نظر کر کے دیکھیں تو سر تاپا نظم اور انشاء اردو کا دستور العمل ہے۔ اول قصائد اردو بزرگان دین کی مدح میں اور اہل ودل کی تعریف میں۔ اسی طرح چند قصائد فارسی24 مثنویاں ہیں بہت سی حکایتیں اور منظوم ہیں۔ ایک مختصر دیوان فارسی کا تمام و کمال دیوان ریختہ جس میں بہت سی لاجواب غزلیں اور مطلع رباعیاں، مستزاد، قطعات، تاریخیں،پہیلیاں، داسوخت، ترجیع بند، مخمس سب کچھ کہا ہے اور ہر قسم کی نظم میں ہجویں ہیں، جو ان کے مخالفوں کے دل و جگر کو کبھی خون اور کبھی کباب کرتی ہیں۔ اب تذکرہ شعرائے اردو کا ہے اور وہ نایاب ہے۔

غزلیں اردو میں پہلے سے بھی لوگ کہہ رہے تھے۔ مگر دوسرے طبقے تک اگر شعرا فے کچھ مدح میں کہا تو ایسا ہے کہ اسے قصیدہ نہیں کہہ سکتے۔ پس اول قصائد کا کہنا اور پھر دھوم دھام سے اعلیٰ درجہ فصاحت و بلاحت پر پہنچانا ان کا فخر ہے۔ وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے۔ بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے۔ ان کے کلام کا زور شور انوری اور خاقانی کو دباتا ہے اور نزاکت مضمون میں عرفی و ظہوری کو شرماتا ہے۔

مثنویاں24 ہیں اور حکایتیں اور لطائف وغیرہ ہیں وہ سب نظم اور فصاحت کلام کے اعتبار سے ان کا جوہر طبعی ظاہر کرتی ہیں۔ مگر عاشقانہ مثنویاں ان کے مرتبے کے کلام کے اعتبار سے ان کے مرتبے کے لائق نہیں۔ میر حسن مرحوم تو کیا میر صاحب کے شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بھی نہیں پہنچیں۔ فارسی کے مختصر دیوان میں سب ردیفیں پوری ہیں ۔ زور طبع اور اصول شاعرانہ سب قائم ہیں۔ صائب کا انداز ہے مگر تجربہ کار جانتے ہیں کہ ایک زبان کی مشق اور مزاولت دوسری زبان کے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچنے میں سنگ راہ ہوتی ہے۔ چنانچہ شیخ مصحفی نے اپنے تذکرہ میں لکھا ہے آخر آخر خیال شعر فارسی ہم پیدا کرو۔ مگر از فہم و عقلش ایں امر بعید بود کہ کرد۔ غرض غزلہائے فارسی خود نیز کہ در لکھنو گفتہ بقید ردیف ترتیب دادہ داخل دیوان ریختہ نمودہ د ایں ایجاد ادست دیوان ریختہ (وقت کی زبان سے قطع نظر کر کے) با اعتبار جوہر کلام کے سرتاپا مرصع ہے۔ بہت سی غزلیں دلچسپ اور دل پسند بحروں میں ہیں کہ اس وقت تک اردو میں نہیں آئی تھیں۔ زمینیں سنگلاخ ہیں اور ردیف قافیے بہت مشکل۔ مگر جس پہلو سے انہیں جما دیا ہے ایسے جمے ہیں کہ دوسرے پہلو سے کوئی بٹھائے تو تمہیں معلوم ہو۔

گرمی کلام کے ساتھ ظرافت جو ان کی زبان سے ٹپکتی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑھاپے تک شوخی طفلانہ ان کے مزاج میں امنگ دکھاتی تھی۔ مگر ہجووں کا مجموعہ جو کلیات میں ہے اس کا ورق ورق ہنسنے والوں کے لیے زعفران زار کشمیر کی کیاریاں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کسی طرح کے فکر و تردد کو پاس نہ آنے دیتی تھی۔ گرمی اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے بجھا سکتا تھا نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ذرا سی ناراضی میں بے اختیار ہو جاتے تھے کچھ اور بس نہ چلتا تھا۔ جھٹ ایک ہجو کا طومار تیار کر دیتے تھے۔

غنچہ نام ان کا ایک غلام تھا۔ ہر وقت خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ساتھ قلم دان لیے پھرتا تھا۔ جب کسی سے بگڑتے تو فوراً پکارتے، ارے غنچہ لا تو قلمدان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں۔ یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔ پھر شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منہ کھول کر وہ بے نقط سناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔

عربی اور فارسی دو ذخیرہ دار اردو کے ہیں۔ ان کے خزانے میں ہجووں کے تھیلے بھرے ہیں۔ مگر اس وقت تک اردو کے شاعر صرف ایک دو شعروں میں دل کا غبار نکال لیتے تھے۔ یہ طرز خاص کہ جس سے ہجو ایک موٹا ٹہنا اس باغ شاعری کا ہو گئی۔ انہی کی خوبیاں ہیں۔ عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد کسی کی ڈاڑھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی۔ اس طرح پیچھے پڑتے تھے کہ انسان جان سے بیزار ہو جاتا تھا۔ مگر میرضاحک، فدوی، مکین، بقا وغیرہ اہل کمال نے بھی چھوڑا نہیں ان کا کہنا انہیں کے دامن میں ڈالا ہے۔ البتہ حسن قبول اور شہرت عام ایک نعمت ہے کہ وہ کسی کے اختیار میں نہیں۔ انہیں خدا نے دی۔ وہ محروم رہے۔ مرزا نے جو کچھ کہا بچے بچے کی زبان پر ہے۔ انہوں نے جو کہا وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انہیں میں سے ایک شعر ہے کہ فدوی کی طبع موزون سے مرزا صاحب کی شان میں واقع ہوا ہے۔

کچھ کٹ گئی ہے پیٹی کچھ کٹ گیا ہے ڈورا

دم داب سامنے سے وہ اڑ چلا لٹورا

بھڑوا ہے مسخرا ہے سودا اسے ہوا ہے

مرزا نے جو راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کے ہجو میں مثنوی کہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی کسی نے مثنوی لکھی ہے اور خوب لکھی ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں۔

تم اپنے فیل معنی کو نکالو

مرے ہاتھی سے دو ٹکر لڑا لو

سید انشا نے لکھا ہے کہ دو ٹکریں چاہئے۔ یہ سید صاحب کی سینہ زوری ہے۔

ہجوؤں میں ایک ساقی نامہ ہے۔ جس میں فوقی شاعر کی ہجو ہے۔ اصل میں قیام الدین قائم کی ہجو میں تھا۔ وہ بزرگ باوجود شاگردی کے مرزا سے منحرف ہو گئے تھے۔ جب یہ ساقی نامہ لکھا گیا تو گھبرائے اور آ کر خطا معاف کروائی۔ مرزا نے ان کا نام نکال دیا اور فوقی ایک فرضی شخص کا نام ڈال دیا۔

مرثیے اور سلام بھی بہت کہے ہیں۔ اس زمانے میں مسدس کی رسم کم تھی۔ اکثر مرثیے چو مرصع ہیں مگر مرثیہ گوئی کی ترقی دیکھ کر ان کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شاید انہی مرثیوں کو دیکھ کر اگلے وقتوں میں مثل مشہور ہوئی تھی۔ کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویا مرثیہ خواں۔ حق یہ ہے کہ مرثیہ کا شاعر گویا ایک مصیبت زدہ ہوتا ہے کہ اپنا دکھڑا روتا ہے۔ جب کسی کا کوئی مر جاتا ہے تو غم و اندوہ کے عالم میں جو بے چارے کی زبان سے نکلتا ہے سو کہتا ہے اس پر کون بے درد ہے جو اعتراض کرے۔ وہاں صحت و غلطی اور صنائع و بدائع کو کیا ڈھونڈنا یہ لوگ فقط اعتقاد مذہبی کو مدنظر رکھ کر مرثیے سلام کہتے تھے۔ اس لیے قواعد کی احتیاط کم کرتے تھے اور کوئی اس پر گرفت بھی نہ کرتا۔ پھر بھی مرزا کی تیغ زبان جب اپنی اصالت دکھاتی ہے تو دلوں میں چھریاں ہی مار جاتی ہے۔ ایک مطلع ہے۔

نہیں ہلال فلک پر مہ محرم کا

چڑھا ہے چرخ پہ تیغا مصیبت و غم کا

ایک اور مرثیے کا مطلع ہے۔

یارو سنو تو خالق اکبر کے واسطے

انصاف سے جواب دو حیدر کے واسطے

 

 

وہ بوسہ گہ بنی تھی پیمبر کے واسطے

یا ظالموں کی برش خنجر کے واسطے

باوجود عیوب مذکورہ بالا کے جہاں کوئی حالت اور روئداد دکھاتے ہیں، پتھر کا دل ہو تو پانی ہوتا ہے اور وہ ضرور آج کل کے مرثیہ گویوں کو دیکھنی چاہئے۔ کیوں کہ یہ لوگ اپنے زور کمال میں آ کر اس کوچے سے نکل گئے ہیں۔

واسوخت مخمس، ترجیع بند، مستزاد، قطعہ، رباعیاں، پہیلیاں وغیرہ اپنی اپنی طرز میں لاجواب ہیں۔ خصوصاً تاریخیں بے کم و کاست ایسی برمحل و برجستہ واقع ہوئی ہیں کہ ان کے عدم شہرت کا تعجب ہے۔ غرض جو کچھ کہا ہے اسے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچایا ہے۔ مرزا کی زبان کا حال نظم میں تو سب کو معلوم ہے کہ کبھی دودھ ہے کبھی شربت مگر نثر میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ فقط مصری کی ڈلیاں چبانی پڑتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ نثر اردو ابھی بچہ ہے۔ زبان نہیں کھلی چنانچہ شعلہ عشق کی عبارت سے واضح ہے کہ اردو ہے مگر مرزا بے دل کی نثر فارسی معلوم ہوتی ہے۔ کتاب مذکور اس وقت موجود نہیں۔ لیکن ایک دیباچے میں انہوں نے تھوڑی سی نثر بھی لکھی ہے۔ اس سے افسانہ مذکور کا انداز معلوم ہو سکتا ہے۔

کل اہل سخن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے۔ جو شعر اور فن انشاہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میر صاحب نے بھی انہیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ اس پر سب رنگوں میں ہمرنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ۔ جب دیکھو طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز۔ نظم کی ہر فرع میں طبع آزمائی کی ہے اور رکے نہیں چند صفتیں خاص ہیں۔ جن سے کلام ان کا جملہ شعرا سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔

کلام کا زور مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریباں ہے جیسے آگ کے شعلے میں گرمی اور روشنی، بندش کی چشتی اور ترکیب کی درستی سے لفظوں کو اس در و بست کے ساتھ پہلو بہ پہلو جڑتے ہیں۔ گویا ولایتی طپنچے کی چانپیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ خاص ان کا حصہ ہے۔ چنانچہ جب ان کے شعر میں سے کچھ بھول جائیں تو جب تک وہی لفظ وہاں نہ رکھے جائیں، شعر مزا ہی نہیں دیتا۔ خیالات نازک اور مضامین تازہ باندھتے ہیں۔ مگر اس باریک نقاشی پر ان کی فصاحت آئینے کا کام دیتی ہے۔ تشبیہ اور استعارے ان کے ہاں ہیں۔ مگر اسی قدر کہ جتنا کھانے میں نمک یا گلاب کے پھول پر رنگ، رنگینی کے پردے میں مطلب اصلی گم نہیں ہونے دیتے۔

ان کی طبیعت، ایک ڈھنگ کی پابند نہ تھی نئے نئے خیال اور چٹختے قافیے جس پہلو سے جمتے دیکھتے تھے، جماد یتے تھے اور وہی ان کا پہلو ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سننے والوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے یا زبان کی خوبی تھی کہ جو بات اس سے نکلتی تھی اس کا انداز نیا اور اچھا معلوم ہوتا تھا۔ ان کے ہمعصر استاد خود قرار کرتے تھے کہ جو باتیں ہم کاوش اور تلاش سے پیدا کرتے ہیں وہ اس شخص کے پیش پا افتادہ ہیں۔

جن اشخاص نے زبان اردو کو پاک صاف کیا ہے، مرزا کا ان میں پہلا نمبر ہے انہوں نے فارسی محاوروں کو بھاشا میں کھپا کر ایسا اپک کیا ہے۔ جیسے علم کیمیا کا ماہر ایک مادے کو دوسرے مادے میں مہذب کر دیتا ہے اور تیسرا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ کسی تیزاب سے اس کا جوڑ کھل نہیں سکتا۔ انہوں نے ہندی زبان کو فارسی محاوروں اور استعاروں سے نہایت زور بخشا۔ اکثر ان میں سے رواج پا گئے۔ اکثر آگے نہ چلے۔

انہی کا زور طبع تھا۔ جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترتیب پا کر تیسری زبان پیدا ہو گئی اور اسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آئندہ کے لیے وہی ہندوستان کی زبان ٹھہری، جس نے حکام کے درباروں اور علوم کے خزانوں پر قبضہ کیا۔ اسی کی بدولت ہماری زبان فصاحت اور انشا پردازی کا تمغا لے کر شائستہ زبانوں کے دربار میں عزت کی کرسی پائے گی۔ اہل ہند کو ہمیشہ ان کی عظمت کے سامنے ادب اور ممنونی کا سر جھکانا چاہیے۔ ایسی طبیعتیں کہاں پیدا ہوتی ہیں کہ پسند عام کی نبض شناس ہوں اور وہی باتیں نکالیں جن پر قبول عام رجوع کر کے سالہا سال کے لیے رواج کا قبالہ لکھ دے۔

ہر زبان کے اہل کمال کی عادت ہے کہ غیر زبان کے بعض الفاظ میں اپنے محاورے کا کچھ نہ کچھ تصرف کر لیتے ہیں۔ اس میں کسی موقع پر قادر الکلامی کا زور دکھانا ہوتا ہے۔ کسی موقع پر محاورہ عام کی پابندی ہوتی ہے۔ بے خبر کہہ دیتا ہے کہ غلطی کی۔ مرزا نے بھی کہیں کہیں ایسے تصرف کیے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں۔

جیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفا صفا

ایک غزل میں کہتے ہیں۔

لب و لہجہ ترا سا ہیگا کب خوبان عالم میں

غلط الزام ہے جگ میں کہ سب مصری کی ڈلیاں ہیں

 

 

کل تو مست اس کیفیت سے تھا کہ آتے دیر سے

بھر نظر جو مدرسہ دیکھا سو وہ مے خانہ تھا

 

 

ساق سیمیں کو ترے دیکھ کے گوری گوری

شمع مجلس میں ہوئی جاتی ہے تھوری تھوری

 

 

اپنے کعبے کی بزرگی شیخ جو چاہے سو کر

از روئے تاریخ تو بیش از صنم خانہ نہیں

فارسی محاورے کو بھی دیکھنا چاہئے کہ کس خوبصورتی سے بول گئے ہیں۔

ہے مجھے فیض سخن اس کی ہی مداحی کا

ذات پر جس کی مبرہن گنہ عزوجل

 

 

بہت ہر ایک سے ٹکرا کے چلے تھے کالا

ہو گیا دیکھ کے وہ زلف سیہ فام سفید

 

 

خیال ان انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد از بھی

دلا آیا جو تو اس مے کدے میں جام لیتا جا

 

 

سودا تجھے کہتا ہے نہ خوباں سے مل اتنا

تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا

 

 

عاشق بھی نامراد ہیں پر اس قدر کے ہم

دل کو گنوا کے بیٹھ رہے صبر کر کے ہم

یہاں ردیف میں تصرف کیا ہے کہ ’’ ے‘‘ حدف ہو گئی ہے اسی طرح عاجز میں ’’ ع‘‘ حکیم کی ہجو میں کہتے ہیں۔

لکھ دیا مجنون کو شیر شتر

کہہ دیا مستسقی سے جا فصد کر

ایک کہانی میں لکھتے ہیں۔

قضا کار وہ والی نامدار

ہوا درد قولنج سے بے قرار

مرزا اکثر ہندی کے مضمون اور الفاظ نہایت خفیف طور پر تضمین کر کے زبان ہند کی اصلیت کا حق ادا کرتے تھے۔ اس لطف میں یہ اور سید انشاء شامل ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔

ترکش الینڈ سینہ عالم کا چھان مارا

مژگاں نے تیرے پیارے ارجن کا بان مارا

 

 

محبت کے کروں بھج بل کی میں تعریف کیا یارو

ستم پر بت ہو تو اس کو اٹھا لیتا ہے جوں رائی

 

 

نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہو

کنہیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی

 

https://www.mediafire.com/file/eqpm41lw9b7qr98/5602.pdf/file

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ نین وہ ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے

 

 

بوندی کے جمدھروں سے وہ بھڑتے ہیں ہمدگر

لڑکے مجھ آنسوؤں کے غضب منکرے ہوئے

 

 

اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوج اشک

لخت جگر کی لاش کو آگے دھرے ہوئے

مرزا خود الفاظ تراشتے تھے اور اس خوبصورتی سے تراشتے تھے کہ مقبول خاص و عام ہوتے تھے۔ آصف الدولہ مرحوم کی تعریف میں ایک قصیدہ کہا ہے، چند شعر اس کے لکھتا ہوں۔ مضامین ہندی کے ساتھ الفاظ کی خوبصورت تراش کا لطف دیکھو۔

تیرے سائے تلے تو ہے وہ مہنت

پشہ کر جائے دیو و دد سے لڑنت

 

 

نام سن پیل کوہ پیکر کے

بہ چلیں جوئے شیر ہو کر دنت

 

 

سحر صولت کے سامنے تیرے

سامری بھول جائے اپنی پڑھنت

 

 

تیری ہیبت سے نہ فلک کے تلے

کانپتی ہے زمین کے بیچ گڑنت

 

 

تکلے کی طرح بل نکل جاوے

تیرے آگے جو دو کرے اکڑنت

 

 

دیکھ میدان میں اس کو روز نبرد

منہ پہ رادن کے پھول جائے بسنت

 

 

تکگ پا اگر سنے تیرے

داب کر دم کھسک چلے ہنونت

 

 

آوے بالفرض سامنے تیرے

روز ہیجا کے سور یا ساونت

 

 

تن کا ان کے زرہ میں ہوں یوں حال

مرغ کی دام میں ہو جوں پھڑکنت

اسی طرح باقی اشعار ہیں مرغ کی پھڑکنت جل کربھسمنت، تیر کی کمان سے سرکنت زمین میں کھدنت، گھوڑے کی کڑکنت اور ڈپننت، جودنت (مقابل) دبکنت (ڈر کر دبکنا) روباہ شیر کو سمجھتی ہے۔ کیا پشمنت، پخنت (بے فکر) روپیوں کی بکھرنت تاروں کی چھٹکنت، لپٹنت (لپٹنا) پڑھنت (پڑھنا)، کھٹنت (کھٹنا)، عام شعرائے ہندو ایران کی طرح سب تصنیفات ایک کلیات میں ہیں۔ اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کلام کس وقت کا ہے اور طبیعت نے وقت بوقت کس طرف میل کیا ہے۔ خصوصاً یہ کہ زبان میں کب کب کیا کیا اصلاح کی ہے۔ یہ اتفاقی موقع میر صاحب کو ہاتھ آیا کہ چھ دیوان الگ الگ لکھ گئے۔ متقدمین اور متاخرین کے کلاموں کے مقابلہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ان کے دفتر تصنیفات میں ردی بھی ہے اور وہ بہت ہے۔ چنانچہ جس طرح میر صاحب کے کلام میں بہتر72 نشتر بتاتے ہیں۔ ان کے زبردست کلام میں سے بہتر خنجر تیار کرتے ہیں اس رائے میں مجھے بھی شامل ہونا پڑتا ہے کہ بے شک جو کلام آج کی طرز کے موافق ہے۔ وہ ایسے مرتبہ عالی پر ہے جہاں ہماری تعریف کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور دل کی پوچھو تو جن اشعار کو پرانے محاوروں کے جرم میں ردی کرتے ہیں۔ آج کے ہزار محاورے ان پر قربان ہیں، سن لیجئے۔

گر کیجئے انصاف تو کی روز وفایں

خط آتے ہی سب ٹل گئے اب آپ ہیں نا میں

 

 

تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی

لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلایں

 

 

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

استاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب سودا کے سامنے کوئی یہ شعر پڑھ دیتا تھا یا اپنی ہی زبان پر آ جاتا تھا تو وجد کیا کرتے تھے اور مزے لیتے تھے۔ اسی انداز کا ایک شعر نظیری کا یاد آ گیا۔ اگرچہ فارسی ہے مگر جی نہیں چاہتا کہ دوستوں کو لطف سے محروم رکھوں۔

بوئے یار من ازیں سست وفا می آید

گلم از دست بگیرید کہ از کار شدم

بہار سخن کے گلچینو! وہ ایک زمانہ تھا کہ ہندی بھاشا کی زمین جہاں دوہروں کا سبزہ خود روا گا ہوا تھا، وہاں نظم فارسی کی تخم ریزی ہوئی تھی۔ اس وقت فارسی کی بحروں میں شعر کہتا اور ادھر کے محاورات کو ادھر لینا اور فارسی مضامین کو ہندی لباس پہنانا ہی بڑا کمال تھا۔ اس صاحب ایجاد نے اپنے زور طبع اور قوت زبان سے صنعتوں اور فارسی کی ترکیبوں اور اچھوتے مضمونوں کو اس میں ترتیب دیا اور وہ خوبی پیدا کی کہ ایہام اور تجنیس و غیر صنائع لفظی جو ہندی دہروں کی بنیاد تھے۔ انہیں لوگ بھول گئے۔ ایسے زمانے کے کلام میں رطب دیا بس ہو تو تعجب کیا ہم اس الزام کا برا نہیں مانتے۔

اس وقت زمین سخن میں ایک ہی آفت تو نہ تھی۔ ادھر تو مشکلات مذکورہ ادھر پرانے لفظوں کا ایک جنگل جس کا کاٹنا کٹھن۔ پس کچھ اشخاص آئے کہ چند کیاریاں تراش کر تخم ریزی کر گئے۔ ان کے بعد والوں نے جنگل کو کاٹا۔ درختوں کو چھانٹا۔ چمن بندی کو پھیلایا۔ جوان کے پیچھے آئے۔ انہوں نے روش، خیاباں، دار بست، گلکاری نہال، گلبن سے باغ سجایا۔ غرض عہد بعہد اصلاحیں ہوتی رہیں اور آئندہ ہوتی رہیں گی۔ جس زبان کو آج ہم تکمیل جادوانی کا ہار پہنائے خوش بیٹھے ہیں۔ کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی؟ کبھی نہیں ہم کس منہ سے اپنی زبان کا فخر کر سکتے ہیں۔ کیا دور گزشتہ کا سما بھول گئے؟ ذرا پھر کر دیکھو تو ان بزرگان متقدمین کا مجمع نظر آئے گا کہ محمد شاہی دربار کی کھڑکی دار پگڑیاں باندھے ہیں پچاس پچاس گز گھیر کے جامے پہنے بیٹھے ہیں۔ وہاں اپنے کلام لے کر آؤ۔ جس زبان کو تم نئی تراش اور ایجاد اور اختراع کا خلعت پہناتے ہو کیا وہ اسے تسلیم کریں گے۔

نہیں، ہرگز نہیں۔ ہماری وضع کو سفلہ اور گفتگو کو چھیچھورا سمجھ کر منہ پھیر لیں گے۔ پھر ذرا سامنے دوربین لگاؤ۔ دیکھو ان تعلیم یافتہ لوگوں کا لین دین ڈوری آچکا ہے جو آئے گا اور ہم پر ہنستا چلا جائے گا۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں

مرزا قتیل چار شربت میں فرماتے ہیں۔ مرزا محمد رفیع سودا اور ریختہ پایہ ملا ظہوری رار و د غیر ازینکہ زبان ہر دو باہم تخالف وارد فرقے نتواں کرد مرزا قتیل مرحوم صاحب کمال شخص تھے۔ مجھ بے کمال نے ان کی تصنیفات سے بہت فائدے حاصل کیے۔ مگر ظہوری کی کیا غزلیں کیا قصائد دونوں استعاروں اور تشبیہوں کے پھندوں سے الجھا ہوا ریشم ہیں۔ سودا کی مشابہت ہے تو انوری سے ہے کہ محاورے اور زبان کا حاکم اور قصیدہ اور ہجو کا بادشاہ ہے۔

یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ تصوف جو ایشیا کی شاعری کی مرغوب نعمت ہے۔ اس میں مرزا پھیکے ہیں، وہ حصہ خواجہ میر درد کا ہے۔

کہتے ہیں کہ مرزا قصیدے کے بادشاہ ہیں۔ مگر غزل میں میر تقی کے برابر سوز و گداز نہیں یہ بات کچھ اصلیت رکھتی ہے۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی اس بات کے چرچے تھے۔ چنانچہ خود کہتے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ سودا کا قصیدہ ہے خوب

ان کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

یعنی دیکھو تو سہی غزل کچھ کم ہے۔

قدرت اللہ خاں قاسم بھی اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں۔ زعم بعضے آنکہ سرآمد شعرائے فصاحت آقا مرزا محمد رفیع سودا اور غزل گوئی بوئے نہ رسیدہ اما حق آنست کہ

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

مرزا دریائیست بے کراں و میر نہر یست عظیم الشان

در معلومات قواعد میر رابر مرزا برتری ست دور قوت شاعری مرزا رابر میر سروری۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قصیدہ غزل مثنوی وغیرہ اقسام شعر میں کوچے کی راہ جدا جدا ہے۔ جس طرح قصیدے کے لیے شکوہ الفاظ اور بلندی مضامین چستی ترکیب وغیرہ لوازمات ہیں۔ اسی طرح غزل کے لیے عاشق معشوق کے خیالات عشقیہ ذکر وصل شکایت فراق، درد انگیزی اور الم ناک حالت، گفتگو ایسی بے تکلف و صاف صاف نرم نرم گویا وہی دونوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ادائے مضامین کے الفاظ بھی اور ہیں اور اس کی بحریں بھی خاص ہیں۔ میر صاحب کی طبیعت قدرتی درد خیز اور دل حسرت انگیز تھا کہ غزل کی جان ہے۔ اس لیے ان کی غزلیں ہی ہیں اور خاص خاص بحور و قوافی میں ہیں۔ مرزا کی طبیعت ہمہ رنگ اور ہمہ گیر، ذہن براق اور زبان مشاق رکھتے تھے۔ تو سن فکر ان کا منہ زور گھوڑے کی طرح جس طرف جاتا تھا رک نہ سکتا تھا۔ کوئی بحر اور کوئی قافیہ ان کے ہاتھ آئے تغزل کی خصوصیت نہیں رہتی تھی۔ جس برجستہ مضمون میں بندھ جائے بندھ لیتے تھے۔ بے شک ان کی غزلوں کے بھی اکثر شعر چستی اور درستی میں قصیدے کا رنگ دکھاتے ہیں۔

ایک دن لکھنو میں میر اور مرزا کے کلام پر دو شخصوں نے تکرار میں طول کھینچا۔ دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ انہیں کے پاس گئے اور عرض کی کہ آپ فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صاحب کمال ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام آہ ہے اور مرزا صاحب کا کلام واہ ہے۔ مثال میں میر صاحب کا شعر پڑھا۔

سرہانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

پھر مرزا کا شعر پڑھا۔

سودا کی جو بالیں پہ ہوا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

لطیفہ در لطیفہ:

ان میں سے ایک شخص جو مرزا کے طرف دار تھے۔ وہ مرزا کے پاس بھی آئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ مرزا بھی میر صاحب کے شعر کو سن کر مسکرائے اور کہا شعر تو میر کا ہے مگر داد خواہی ان کی دوا معلوم ہوتی ہے۔

رسالہ عبرۃ الغافلین طبع شاعر کے لیے سیڑھی کا کام دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا فقط طبعی شاعر نہ تھے بلکہ اس فن کے اصول و فروع میں ماہر تھے۔ اس کی فارسی عبارت بھی زباندانی کے ساتھ ان کی شگفتگی اور شوخی طبع کا نمونہ ہے۔ اس کی تالیف ایک افسانہ ہے اور قابل سننے کے ہے۔ اس زمانے میں اشرف علی نام ایک شریف خاندانی شخص تھے۔ انہوں نے فارسی کے تذکروں اور استادوں کے دیوانوں میں سے 15 برس کی محنت میں ایک انتخاب مرتب کیا اور تصحیح کے لیے مرزا فاخر مکیں کے پاس لے گئے کہ ان دنوں فارسی کے شاعروں میں نامور وہی تھے انہوں نے کچھ انکار کچھ اقرار بہت سی تکرار کے بعد انتخاب مذکور کو رکھا اور دیکھنا شروع کیا مگر جا بجا استادوں کے اشعار کو کہیں بے معنی سمجھ کر کاٹ ڈالا کہیں تیغ اصلاح سے زخمی کر دیا۔ اشرف علی خاں صاحب کو جب یہ حال معلوم ہوا تو گئے اور بہت سے قیل و قال کے بعد انتخاب مذکور لے آئے۔ کتاب اصلاحوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔ اس لیے بہت رنج ہوا۔ اسی عالم میں مرزا صاحب کے پاس لا کر سارا حال بیان کیا اور انصاف طلب ہوئے۔ ساتھ اس کے یہ بھی کہا کہ آپ اسے درست کر دیجئے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فارسی زبان کی مشق نہیں۔ اردو میں جو چند لفظ جوڑ لیتا ہوں، خدا جانے دلوں میں کیونکر قبولیت کا خلعت پا لیا ہے۔ مرزا فاخر مکین فارسی دان اور فاری کے صاحب کمال ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہو گا۔ سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ کو اصلاح منظور ہے۔ تو شیخ علی حزیں مرحوم کے شاگرد شیخ آیت اللہ ثنا، میر شمس الدین فقیر کے شاگرد مرزا بھچوذرہ تخلص موجود ہیں۔ حکیم بو علی خاں ہاتف بنگالہ میں نظام الدین صانع بلگرامی فرخ آباد میں۔ شاہ نور العین واقف شاہجہان آباد میں ہیں، یہ ان لوگوں کے کام ہیں۔

جب مرزا صاحب نے ان نامور فارسی دانوں کے نام لیے تو اشرف علی خاں نے کہا کہ ان لوگوں کو تو مرزا فاخر خاطر میں بھی نہیں لاتے۔ غرض کہ ان کے اصرار سے مرزا نے انتخاب مذکور کو رکھ لیا۔د یکھا تو معلوم ہوا کہ جو جو باکمال سلف سے آج تک مسلم الثبوت چلے آتے ہیں۔ ان کے اشعار تمام زخمی تڑپتے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر مرزا کو بھی رنج ہوا۔ بموجب صورت حال کے رسالہ عبرت الغافلین لکھا اورمرزا فاخر کی غلط فہمیوں کو اصول انشاء پردازی کے بموجب کماحقہ ظاہر کیا۔ ساتھ ان کے دیوان پر نظر ڈال کر اس کی غلطیاں بھی بیان کیں اور جہاں ہو سکا۔ اصلاح مناسب دی۔

مرزا فاخر کو بھی خبر ہوئی۔ بہت گھبرائے اور چاہا کہ زبانی پیاموں سے ان داغوں کو دھوئیں۔ چنانچہ بقا اللہ خاں کو گفتگو کے لیے بھیجا وہ مرزا فاخر کے شاگرد تھے، بڑے مشتاق اور باخبر شاعر تھے۔ مرزا اور ان سے خوب خوب گفتگوئیں رہیں اور مرزا فاخر کے بعض اشعار، جن کے اعتراضوں کی خبر اڑتے اڑتے ان تک بھی پہنچ گئی تھی۔ ان پر رد و قدح بھی ہوئی چنانچہ ایک شعر ان کا تھا۔

گرفتہ بود دریں بزم چوں قدح دل من

شگفتہ رویے صہبا شگفتہ کرد مرا

مرزا کو اعتراض تھا کہ قدح کو گرفتہ دل کہنا بے جا ہے۔ اہل انشا نے ہمیشہ قدح کو کھلے پھول سے تشبیہ دی ہے۔ یا ہنسی سے کہ اسے بھی شگفتگی لازم ہے۔ بقا نے جواب میں شاگردی کا پسینہ بہت بہایا اور اخیر کو باذل کا ایک شعر بھی سند میں لائے۔

چہ نشاط بادہ بخشد بمن خراب بے تو

بہ دل گرفتہ ماند قدح شراب بے تو

مرزا رفیع سن کر بہت ہنسے اور کہا اپنے استاد سے کہنا کہ استادوں کے شعروں کو دیکھا کرو تو سمجھا بھی کرو۔ یہ شعر تو میرے اعتراض کی تائید کرتا ہے۔ یعنی باوجودیکہ پیالہ ہنسی اور شگفتگی میں ضرب المثل ہے اور پیالہ شراب سامان نشاط ہے۔ مگر وہ بھی دل افسردہ کا حکم رکھتا ہے۔

غرض جب یہ تدبیر پیش نہ کی گئی تو مرزا فاخر نے اور راہ لی۔ شاگرد لکھنو میں بہت تھے۔ خصوصاً شیخ زادے کہ ایک زمانے میں وہی ملک اودھ کے حاکم بنے ہوئے تھے اور سینہ زوری اور سرشوری کے بخارا بھی تک دماغوں سے گئے نہ تھے۔ ایک دن سودا تو بے خبر گھر میں بیٹھے تھے، وہ بلوا کر کے چڑھ آئے۔ مرزا کے پیٹ پر چھری رکھ دی اور کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سب لو اور ہمارے استاد کے سامنے چل کر فیصلہ کرو۔ مرزا کو مضامین کے گل پھول اور باتوں کے طوطے مینا تو بہت بناتے آتے تھے مگر یہ مضمون ہی نیا تھا سب باتیں بھول گئے۔ گرد وہ لشکر شیطان تھا۔ یہ بیچ میں تھے چوک میں پہنچے تو انہوں نے چاہا کہ یہاں انہیں بے عزت کیجئے۔ کچھ تکرار کر کے پھر جھگڑنے لگے۔ مگر جسے خدا عزت دے، اسے کون بے عزت کر سکتا ہے؟ اتفاقاً سعادت علی خاں کی سواری آ نکلی۔ مجمع دیکھ کر ٹھہر گئے اور حال دریافت کر کے سودا کو اپنے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر لے گئے۔ آصف الدولہ سرا میں دستر خوان پر تھے۔ سعادت علی خاں اندر گئے اور کہا بھائی صاحب بڑا غضب ہے آپ کی حکومت اور شہر میں یہ قیامت! آصف الدولہ نے کہا کیوں بھئی خیر باشد انہوں نے کہا مرزا رفیع جس کو باوا جان نے برادر من مشفق مہربان کہہ کر خط لکھا۔ آرزوئیں کر کے بلایا اور وہ نہ آیا آج وہ یہاں موجود ہے اور اس حالت میں ہے کہ اگر اس وقت میں نہ پہنچتا تو شہر کے بدمعاشوں نے اس بے چارے کو بے حرمت کر ڈالا تھا۔ پھر سارا ماجرا بیان کیا۔ آصف الدولہ فرشتہ خصال گھبرا کر بولے کہ بھئی مرزا فاخر نے ایسا کیا تو مرزا کو کیا گویا ہم کو بے عزت کیا۔ باوا جان نے انہیں بھائی لکھا تو وہ ہمارے چچا ہوئے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ اس میں کیا شبہ ہے۔ اسی وقت باہر نکل آئے ۔ سارا حال سنایا بہت غصے ہوئے اور حکم دیا کہ شیخ زادوں کا محلے کا محلہ کھڑوا کر پھینک دو اور شہر سے نکلوا دو۔ مرزا فاخر کو جس حال میں ہو اسی حال سے حاضر کرو۔ سودا کی نیک نیتی دیکھنی چاہیے۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ جناب عالی! ہم لوگوں کی لڑائی کا غلہ قلم کے میدان میں آپ ہی فیصل ہو جاتی ہے۔ حضور اس میں مداخلت نہ فرمائیں۔ غلام کی بدنامی ہے، جتنی مدد حضور کے اقبال سے پہنچی ہے وہی کافی ہے۔ غرض مرزا رفیع با عزاز و اکرام وہاں سے رخصت ہوئے۔ نواب نے احتیاطاً سپاہی ساتھ کر دئیے۔

 

اٹھارہویں صدی اردوشاعری کاانتہائی زرخیز دور رہاہے۔ اس دورمیں مختلف لسانی اورتہذیبی عوامل کے تحت شمالی ہندمیں اردوشاعری کارواج عام ہوا۔ ریختہ گوئی کی شروعات ہوئی اور اردوشاعری کی ایک بڑی اہم تحریک ایہام گوئی کاجنم اسی عہدمیں ہوا جس نے اردوشاعری کوبے حدمتاثرکیا۔ اور اردوزبان نے شاعری کی حدتک فارسی زبان کی جگہ لے لی اورایک توانازبان کی حیثیت سے معروف ومقبول ہوئی۔

صدیوں سے ہندوستان کی علمی اورادبی زبان فارسی تھی اورہندوستان کے شعرا اوراُدبانے فارسی زبان میں بے پناہ قدرت حاصل کرلی تھی لیکن اہل زبان ایران یہاں کے شعراکو قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے جس کی وجہ سے کئی تنازعات بھی سامنے آئے، عرفی اور فیضی کاتنازعہ اسی دورکی پیداوارہے۔ ایرانی اورہندوستانی فارسی دانوں کی اس محاذ آرائی نے اس احساس کواور بھی ہوادی کہ ہندوستانی فارسی زبان میں کتنی ہی مہارت حاصل کرلیں انھیں وہ پذیرائی اوراہمیت حاصل نہیں ہوسکتی جواہل ایران کوحاصل ہے۔ اس رویے نے ہندوستان کے فارسی گوشعراکو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اورفکروخیال کے جوہردکھانے کے لیے ایک نئے میدان کی طرف متوجہ کیا۔ چنانچہ سراج الدین علی خاں آرزونے یہاں کے شعرا کو ریختہ میں شعرگوئی کی ترغیب دی اورہرماہ کی پندرہویں تاریخ کوان کے گھرپر ’’مراختے‘‘ کی مجلسیں آراستہ ہونے لگیں۔ مشاعرہ کے انداز پر’’مراختہ‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ اب نئی نسل کے بیشتر شعرانے فارسی میں شعرگوئی ترک کردی اوران کی پوری توجہ ریختہ گوئی میں صرف ہونے لگی یہ چیزیں اتنی عام ہوئیں کہ فارسی گوشعرابھی رواج زمانہ کے مطابق منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ریختہ میں شاعری کرنے لگے۔

اٹھارویں صدی کے دوسرے دہے میں جب ولی کادیوان دہلی پہنچا تو اس نے شمالی ہند کے ریختہ گو شعرا میں ایک نئی روح پھونک دی۔ ولی کایہ دیوان ریختہ میں تھااورفارسی روایت کے عین مطابق حروف تہجی کے اعتبارسے ترتیب دیاگیاتھا جس کااثریہ ہوا کہ شعرائے دہلی میں بھی دیوان سازی کاعمل زور پکڑنے لگا۔ اس طرح اردوشاعری ایک نئے دورمیں داخل ہوگئی۔ شمالی ہندمیں جب اردوشاعری کاپہلادورشروع ہواتو اس دور کے اردوشاعر فارسی کی تہذیبی اورشعری روایت کے زیرسایہ پرورش پارہے تھے لہٰذا اردوشعرانے فارسی شعراکے مقبول رجحانات کوہی اپنامشعل راہ بنایا اورفارسی شاعری کی جس روایت کوپہلی باراختیارکیاگیاوہ ’’ایہام گوئی‘‘ کی روایت تھی۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:

’’دیوان ولی نے شمالی ہندکی شاعری پر گہرااثرڈالا اوردکن کی طویل ادبی روایت شمال کی ادبی روایت کاحصہ بن گئی۔ اٹھارہویں صدی شمال وجنوب کے ادبی وتہذیبی اثرات کے ساتھ جذب ہوکر ایک نئی عالم گیر روایت کی تشکیل وتدوین کی صدی ہے۔ اردوشاعری کی پہلی ادبی تحریک یعنی ایہام گوئی بھی دیوان ولی کے زیر اثر پروان چڑھی‘‘ـ۱ـ

ایہام گوئی شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ایک بڑی تحریک تھی۔ یہ تحریک محمدشاہی عہدمیں شروع ہوئی اور ولی کے دیوان کی دلی آمد کے بعداس صنعت کو عوامی مقبولیت ملی۔ شمالی ہندمیں اردوشاعری کی ترقی کاآغاز اسی تحریک سے ہوتاہے۔

ایہام عربی زبان کالفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں ’وہم میں ڈالنا‘اور ’وہم میں پڑنا یاوہم میں ڈالنا۔ ‘چونکہ اس صنعت کے استعمال سے پڑھنے والاوہم میں پڑجاتاہے، اس لیے اس کانام ایہام رکھاگیا۔

ایہام کااصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ صنعت ہے جس سے شعرکے بنیادی لفظ یالفظوں سے قریب اوربعید دونوں معنی نکلتے ہوں اور شاعرکی مراد معنی بعیدسے ہو۔ نکات الشعر امیں میرؔکے الفاظ یہ ہیں :

’’معنی ایہام اینست کہ لفظے کہ بروبناے بیت بوآں دومعنی داشتہ باشدیکے قریب ویکے بعید وبعید منظور شاعرباشدوقریب متروک او‘‘ ۲

ڈاکٹر جمیل جالبی ایہام کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’ایہام کے معنی یہ ہیں کہ وہ لفظ ذو معنی ہوجس پر شعر کی بنیاد رکھی گئی ہے اور ان دونوں معنی میں سے ایک قریب ہوں دوسرے بعید۔ اپنے شعر میں شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوقریب سے نہیں۔ ‘‘۳

ایہام کئی طرح کے ہوتے ہیں اوراس کی کئی قسمیں ہیں۔ اردوکے مشہور نقادشمس الرحمن فاروقی نے اس کی تین قسمیں بیان کی ہیں :

1۔ ایہام خالص:

یعنی جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک قریب کے اورایک دورکے اور شاعر نے دورکے معنیٰ مرادلیے ہوں۔

2۔ ایہام پیچیدہ :

جہاں ایک لفظ کے دومعنی یادوسے زیادہ معنی ہوں اورتمام معنی کم وبیش مفید مطلب ہوں عام اس سے کہ شاعرنے کون سے معنی مراد لیے ہوں۔

3۔ ایہام مساوات :

جہاں ایک لفظ کے دومعنی ہوں دونوں برابر کے کم وبیش یابالکل قوی ہوں اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوکہ شاعرنے کون سے معنی مرادلیے تھے۔ ‘‘۴

ایہام گوئی کی یہ صنعت عربی، فارسی، سنسکرت، ہندی اور اردو سب ہی زبانوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ توواضح ہے کہ ہندی میں یہ صنعت سنسکرت سے آئی اورسنسکرت میں اس صنعت کو’ شلیش ‘کہاجاتاہے اوریہی نام ہندی میں بھی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیا ہے۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں کہ :

’’شلیش سنسکرت کالفظ ہے اورسنسکرت میں اس صنعت کی کئی قسمیں ہیں۔ مگران میں سے خاص دو ہیں سبہنگ اورانہنگ۔ سبہنگ میں لفظ سالم رہتاہے اور ابہنگ میں لفظ کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے یہ صنعت پیدا کی جاتی ہے۔ ہندی میں یہ سنسکرت سے آئی ہے۔ ہندی شاعروں نے اسے کثرت سے استعمال کیاہے۔ ‘‘۵

اردومیں ایہام کی صنعت کہاں سے آئی آیایہ فارسی سے آئی یاہندی سے۔ بیشتر ناقدین اردومیں ایہام گوئی کاسراہندی دوہروں سے ہی جوڑتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کا بھی یہی مانناہے کہ اردوشاعری میں ایہام گوئی کی روایت ہندی شاعری کی رہین منت ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’یہ خیال قرین صحت معلوم ہوتاہے کہ اردوایہام گوئی پرزیادہ ترہندی شاعری کااثر ہوااورہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔ ‘‘۶

ڈاکٹرنورالحسن ہاشمی کانقطۂ نظراس سے کچھ مختلف ہے۔ وہ اٹھارہویں صدی میں فارسی گوشعراکی دربارمیں رسائی اوراس کے اثرات کوبنیاد بناکریہ کہتے ہیں کہ اردوشاعری میں ایہام کی صنعت فارسی سے آئی ہے۔ نورالحسن ہاشمی کی اس رائے سے قاضی عبدالودود کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اختلا ف کی

غزل متنوع موضوعات کا مرکب ہوتی ہے۔اس مقالہ کا بنیادی مقصد  قدیم اور جدید غزل کی بدلتی ہئیت اور  معنویت کی عکاسی کرنا ہے۔ ہیئت سے مراد ‘اندازِ و بیاں کی وہ صورت جو فنی اور تکنیکی خصوصیات کے سبب شعری تخلیق کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ ہم نےموضوع کے تحت   اُردوغزل کے آغاز کا جائزہ تاریخی  پس منظرمیں لیا ہے ۔ اس صنف کی ہئیت کو  مستند اشعار کوثبوت  میں پیش کیا ہے۔ تاکہ عنوان کی صحیح معنویت کی وضاحت ہو سکے۔ غزل قصیدے کا جزو تھی، جس کو ’’تشبیب‘‘ کہتے ہیں۔ پھر وہ الگ سے ایک صنفِ شعر بن کرقصیدے کے فارمیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ فنی اعتبار سے بحر اور قافیہ ’’بیت‘‘ اور غزل کے لیے یکساں ہے۔ اس مقالہ میں غزل کی بدلتی ہئیت کی داستان  کو چار ادوار میں منقسم کیا گیاہے ۔پہلا دکنی غزل ۔ دوسرا اٹھارہویں صدی کی ابتدا سے انیسویں صدی کے نصف اول تک محیط ہے بلکہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے آخر تک ۔ تیسرا۱۸۵۷ء سے اقبال تک کا جائزہ لیا گیا ہےاور آخری میں اقبال کے بعد جدید دور تک کا احاطہ کیا گیاہے۔ اس کے بعد ترقی پسند(۱۹۳۶ء تا۱۹۵۰ء) کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں غزل ہئیت اور معنویت  دونوں میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو گئ۔ ترقی پسندوں نے بھی غزل کے متعلق اپنی اجدادی وراثت اور روایت سے بےشمار غلط سمجھوتے کیے۔ قدیم روایاتی علامات، استعاروں، تشبیوں، تلمیحات یا کتب وغیرہ کو غیر روایاتی معنیٰ اور ماہیم دینے کی کوشش کی۔ اس طرح قدیم روایت کے ملے جلے اثرات ترقی پسندوں کی روایت شکنی کے اعلانات کے باوجود جدید غزل میں شعوری اور غیر شعوری طور سے سرایت کرتے چلے گئے۔ [2]جدید تحقیق میں اُردو غزل کا پہلا نمونہ امیر خسرؔو کے ہاں ریختہ کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کے بغیر بہت سے صوفیائے کرام نے شاعری کو اظہار خیالات کا ذریعہ بنایا لیکن غزل کے ہاں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بہمنی سلطنت میں غزل کے نمونے بہت ہیں۔ لیکن گولکنڈہ کی سلطنت کے قطب شاہی اور عادل شاہی حکمران کی شعر و ادب سے دلچسپی کی وجہ سے اردو غزل بہت ترقی کی۔ مقالہ میں غزل کے بدلتی  روایت کو   نویں صدی کے اواخر میں فارسی غزل سے ترقی کر کے  سترویں صدی میں اردو میں منتقل ہونے تک کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ چوں کہ یہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ اس لیے فارسی کے عصری معنویت اور تاثرات بھی اردو غزل میں کوبہ کو نظر آتے ہیں۔ابتدائی غزلوں میں ماسوائے عشق و محبت کے مضامین باندھنے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ کیوں کہ خود غزل کے لغوی معنی بھی عورتوں سے بات چیت کرنے کے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا شبلی نے بھی غزل کو عشق و محبت کے جذبات کی تحریک سمجھا۔لیکن بعد حاؔلی نے مقدمہ شعر و شاعری میں غزل کے ہر مضمون کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔جس کے بعد اس صنف میں ہر قسم کے خیالات بیان کئے جارہے ہیں۔اس طرح کی بدلتی ہئیت کو اس کی  مناسب معنویت کے ساتھ تحقیقی نقطہ نظر سے بیانیہ انداز میں تاریخی تحقیق کا طریقہ کار میں مقالہ قلم بند کیا گیاہے۔یہ مقالہ طلباء ٹیچر اور شعراء کو اردو غزل کی ہئیت اور مختصر تاریخ کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہوگا۔

کلیدی الفاظ:اُردو غزل،تفہیمِ غزل، غزل کی تاریخ،غزل کی ہئیت اور معنویت۔

  1. تعارف:

غزلولیت اردو شاعری کی آبرو  ہے۔[3] اگر چہ مختلف زمانوں میں شاعر کی بعض دوسری قسمیں بھی اردو میں بہت مقبول رہی ہیں۔ لیکن نہ تو ان کی مقبولیت کا مقابلہ کر سکی  نہ ہی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچا سکی۔ پھر بھی بیسویں صدی کے نصف میں اس صنف کے بہت مخالفین  پیدا ہوئے لیکن مقبولیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

لفظ ’غزل‘ کے سنتےہی حواسِ خمشہ بیدار ہو جاتے ہیں۔یہ صنف  ادب و سخن میں مرکزی حیثیت کی حامل  ہے، عام و خاص کی ابتدا د سے ہی دلچسپی کا ذریعہ ہے۔ فنی نقطہ نظر سے بھی اس مقام اعلیٰ ہے۔ عالمی سطح پر سیر و تفریح کرتی ہے۔  یہ ادب بھی ہے اسٹیج بھی ہے۔جذبات و احساسات کا سمندر بھی ہے۔ ناگن سی ناچتی مستی شراب کی لزت بھی اسی میں ہے۔ قوموں ‘ملکوں کے فاصلے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے۔میر و غالب ہوئے ‘ حالی  درد بیدل اقبال ہوئے یا پھر جگر مومن اور درد آتش ہوئے۔ حسرت اس صنف سے فیضیاب ہوئے تو جرأت نے ایسی داغ بیل ڈالی کے سب ذوق اس کے آگے فانی ہوئے۔ ناطق اپنے جوش وجگر سے بے نظیر ہوئے۔ شاد فرازا و رفراق نے شوق سے غزل کےآرزو مند ہوئے۔ ندا سے اس کی ہر کوئی سر شار ہوئے۔دکن میں قطب، خواجہ ، شوقی، عادل ،نصرتی، میرا ں،غواصی،وجہی سب اس کے جاں نثار ہوئے۔ وہیں ان کے نقش قدم پر وؔلی ، سراج  اور صفی بھی متوجہ ہوئے ۔ شمال میں  شاہ حاتم ،  آبرو، مظہر  نے  لطف  اور مجاز سے  کوئی بہادر ہوئے کوئی ظفر ہوئے۔ ایہام گوئی  کے آبرو، ناجی، مضمون، یکرنگ، سجاد،  یقین، میری ، مرزا سودا، خواجہ میر درد، قائم چاندپوری، میر سوز  اس صنف  کے  عاشق ہوئے۔ دبستان لکھنو میں جرأت،انشاء،مصحفی،رنگین،نسیم ، آتش، ناسخ،تلامذہ اور  انیسؔ نے  غزل گو ئی کو اپنا خون و جگر دیا۔ وہیں ناؔصر ، ناسخ، نصرتی نے بڑی آرزؤں ‘ آزادخیالی سے اس کے مجروع ہوئے۔ اس طرح سے غزال کو غزل بنانے میں ہر کوئی اپنے اپنے وہت کے ساتھ اس فن کو فروغ دیتے رہے ۔لیکن روایتی طور پر سب اپنی دکھ اور درد کو ہلکا کرنے کا ذریعہ غزل کو ہی تصور کر رکھا تھا ۔ اس کے برعکس مولانا الطاف حسین حالی ؔ نے روایت کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس میں انہوں نے  عورتوں سے بات کرنے کے بجائے  سماج کی باتیں کرڈالی۔خاص طور پر مسدس، مدوجزر اسلام لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی اور نئے امکان سے روشناس کیا۔انہیں کی وجہ سے اردو غزل  میں نئے رنگ و آہنگ پید اکیا۔ حالاں کہ ان کی غزلیات کا دیوان مختصر ہے لیکن تمام تر منتخبہ ہے۔ثبوت میں ان کی ایک غزل  ملاحظہ فرمائیں:

بُری اور بھلی سب گذرجائے گی؛یہ کشتی یوں ہی پار اُتر جائےگی

ملے گا نہ گُلچیں کر گُل پَتا؛ہر ایک پنکھڑی یوں بکھر جائےگی

رہیں گے نہ ملّا یہ دِن سَدا؛ کوئی دن میں گنگا اُتر جائے گی

بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ؛یہ عزّت تو جائے گی پر جائےگی

سنیں گے نہ حاؔلی کی کب تک صدا

یہی ایک دِن کام کر جائےگی

حالی ؔ کی غزل پیش کرنےکا مقصد یہ ہے کہ پچھلی صدیوں سے چلی آرہی روایت  سے ہٹ کر غزل گوئی کے ذریعہ اصلاحی معاشرہ کے کام کس طرح لینا ہے یہ ہم حالی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اس غزل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے شعر میں’ میرے احساسات اور میرے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں کوئی میرا محرم یا رازداں نہیں ہے۔ میری زباں حال کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں۔ دوسرے شعر میں  ان کا خیال ہے  شاعر خود کو ایک ایسے طاکر سے تشبیہ دیتا ہے جسے چمن سے جد کر کے قفس میں بند کر دیا گیا ہے۔ وہ کوشش کرتاہے کہ کس طرح قفس میں جی بہل جائےکیوں کہ اب ایسی زندگی گزارنی ہے۔ لیکن آشیاں کی یاد اُسے بے چین رکھتی ہے۔ شاعر یاس کے عالم میں کہتا ہے کہ کوئی میرے آشیاں کو آگ لگادے۔ مجھے یقین ہوجائے گا کہ آشیاں جل چکا ہے تو پھر قفس کی زندگی چین سے گزرےگی۔

شاعر تیسرے شعر میں کہتاہے محبوب ‘ شاعر اشارے کنایہ میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو رقیب اور بو الہوس حسد کرتے ہیں۔ شاعر ایک پُر لطف طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ ان معمولی اشاراتِ نہاں میں کیا رکھاہے۔ بوالہوس بھی چاہیں تو اس قسم کی اشارہ بازی کرلیں ۔ مجھے اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے میری داستانِ غم بڑی طویل ہے۔ جب سناؤں تفصیلات ذہن میں آتی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ہر وقت ایک نئے عنوان کی کہانی سنارہا ہوں۔ کیا کیا جائے ۔ محبوب کے ظلم و ستم کی داستان میں اتنا تنوع ہے کہ میری داستان ہر وقت نئی کہانی معلوم ہوتی ہے۔

پانچویں شعر میں شاعر کہاتا ہے۔ خدانے مجھے ایک درمند دل عطاکیا ہے۔جس میں اپنے اور انسانیت کے دُکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ یہ پُر درد دِل سیری زندگی کا بڑا سرمایہ ہے ۔ اس کی وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہمیشہ ایک ہیجان کارفرما ہوتا ہے ۔ خدانے مجھے فرصت دی تو میں اپنے دل درد مند سے کچھ کام لوں گا۔ اور انسانیت کے دُکھ اور آلام کو منظرِعام پر لاؤں گا۔شاعر غزل کے آخری شعر میں لکھتا ہے ۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ابھی دنیا میں ایسے پاکیزہ فطرت انسان موجود ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ کسی انسان کی سیرت اور شخصیت  میں کیا باتیں چُھپی ہوئی ہیں۔ لیکن قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقع ہوتو کِسی غیر معمولی اور قابلِ قدر انسان کا جوہر ہم پر کُھل جاتا ہے۔ شاعر نے اس غز ل کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ  غزل صرف فحش یا لغو باتیں کرنے کا ہنر نہیں ہے نہ ہی عورتوں کے جسم کی ہرہر حرکت پر غورو خوص کا کام ہے۔ اس مختصر تعارف کے راقم نے مقالہ کے بنیادی مقصد کا احاطہ کچھ اس طرح کیاہے۔

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول اور سب سے جاندار صنف ہے۔ دوسری تمام شعری اصناف مختلف ادوار میں عروج و زوال کی دھوپ چھاؤں سے دو چار ہوئیں لیکن غزل کے آنگن میں ہمیشہ دھوپ ہی دھوپ کھلی رہی۔ غزل حقیقتاً ’’ اردو شاعری کی آبرو‘‘ ہے۔ غزل صنفِ سخن ہی نہیں معیارِ سخن بھی ہے۔‘‘[4]لفظ غزل کا ادبی مطلب محبوب سے گفتگو ہے۔تاریخ کی رو سے یہ عربی لفظ غزل سے بنا ہے۔ جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں ۔جو عام فہم زبان میں غزل ایک ایسی پابند منظوم صنف ہے۔ جس میں سات۔نویا درجن بھر یکساں وزن اور بحر کے جملوں کے جوڑے ہوں۔ اس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتام کےجوڑے کو مقطع کہتے ہیں۔ جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام استعمال کرتا ہے۔غزل کے شعر میں ہر جوڑے ہر انفرادی جملے کا یکساں دراز ہونا لازمی ہوتا ہے۔پابند جملوں کے یہ جوڑے شعر کہلاتے ہیں ۔ اردو میں شعر کی جمع اشعار کہلاتی ہے۔غزل کے بنیادی نظریہ اور تعریف کے مطابق اس کا ہر شعر اپنی جگہ ایک آزاد اور مکمل منظوم معنیٰ رکھتا ہے۔کسی بھی شعرکا خیال اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال کےلئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے۔

1.1غزل کا فن:

اردو میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا مساوی ہونا ہے۔غزل کے ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں آخری ایک دو یا زیادہ سے زیادہ تین الفاظ پوری غزل کا توازن برقرار رکھتے ہیں ۔ غزل کے مطلع کا پہلہ مصرعہ بھی انہی الفاظ پر ختم ہونا چاہیے۔اسے غزل کا ردیف کہتے ہیں ردیف سے پہلے کا لفظ منظوم ہونا ضروری ہے۔ علامہ اخلاق حُسین دہلوی نے اپنی تصنیف ’فن شاعری‘ میں ردیف سے متعلق کہا ہے’’ ردیف کے بدلنے سے قافیے کی حیثیت بدل جاتی ہے اور ایک ہی قافیہ کئی طریق سے بندھ ہو سکتا ہے جس سے مضامین وسعت اور ارنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ ردیف جتنی خوشگوار اور اچھوتی ہوتی ہے اتناہی ترنم اور موسیقی میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘[5]قافیہ ہی غزل کی بنیادی ضرورت ہے۔[6]قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ دونوں میں تاخر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر اُبھر تے ہیں۔ بحرکا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا، یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔ غزل کا پہلا مصرع جذبے یا کیفیت کے ساتھ خود بخود ذہن سے گنگنا تا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر معین ہو چکی ہے، قافیہ بھی معین ہو چکا ہے ، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی غزل کی ہئیت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجازو اختصادر رمز و کنایہ‘مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لیے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو سخنِ مختصر کی خصوصیات ہیں۔

غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکار انہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے جو سرشت انسانی کی وحدت اور جبّلتوں کی یکسائی پر مبنی ہے۔ اور یہ عُمومیت ماضی ، حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔[7]غزل کے فن سے متعلق  اختر سعید خاں کا خیال ہے’’ غزل کا فن نرم آنچ سے جلاپاتا ہے‘ بھڑکتے ہوئے شعلوں سے نہیں۔ قدیم غزل ہو یا جدید اس کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ وہ اشاروں اور کنایوں میں بات کرتی ہے‘اونچی آواز میں نہیں بولتی ‘اس ک اکمال گویائی برہنہ حرفی نہیں ‘پیام زیرلبی ہے۔ غزل کا فن نہ سینہ کوبی ہے نہ قہقہہ لگانا۔ وہ ایک آنسو ہے پلکوں پر ٹھہراہوا‘ایک تبسم ہونٹوں پر پھیلا ہوا۔ کبھی اس کے تبسم میں اشکوں کی نمی ہوتی ہے اور کبھی اشکوں میں تبسم کی جھلک۔‘‘[8] غزل کے فن سے متعلق لکھا ہے’’ غزل کا فن دراصل رمزیت اور ایمائیت کا فن ہے۔ دیگر اصنافِ سخن کے مقبلہ میں غزل اپنے فن کی اسی جاذبیت کی وجہ سے ممتاز رہی ہے۔ [9]غزل کی تبدیلیوں سے متعلق  حامد کا شمیری نے اپنی  تصنیف’ اردو تنقید (منتخب مقالات‘ میں الطاف حسین حالی کے نظریات پیش کیے ہیں۔ جس میں سب سے پہلے تخّیل  کا ذکر ہے جس میں سب مقدّم اور ضروری چیزہے۔ جو کہ شاعر کو غیر شاعر سے تمیز دیتی ہے۔ اس کے بعد تخّیل کی تعریف کے تحت تخیل یا امیج نیشن کی تعریف کرنی بھی ایسی ہی مشکل ہے ۔جیسے کہ شعر کی تعریف اور اس کی وضاحت کی ہے۔ دوسری شرط کائنات کا مطالعہ بتا ہے ۔ جس میں اگر قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کی شاعری کی معلومات کا دائرہ نہایت تنگ اور محدود ہوا سی معمولی ذخیرہ سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتے ہیں۔لیکن شاعری میں کمال فطرتِ انسانی کا ’مطالعہ‘ نہایت غور سے کیا جائے۔ تیسری شرط تلفظ الفاظ کی بیان کی گئی ہے۔ جس میں کائنات کے مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بعد دوسرا نہایت ضروری مطالعہ یا تفحص ان الفاظ کا ہے جن کے ذریعہ سے خاطب کو اپنے خیالات مخاطب کے روبرو پیش کرنے ہیں۔ دوسرا مطالعہ بھی ویا ہی ضروری اور اہم جیسا کہ پہلا۔ان اصولوں سے متعلق چند ضروری باتیں ہیں جن کا خیال رکھانا چاہیے۔

’’ شعر کے وقت ضروری ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اوّل خیالات کو صبر و تحّمل کے ساتھ الفاظ کا لباس پہنانا پھر ان کو جانچنا اور تولنا اور ادائے معنی کے لحاط سے ان میں جو قصور رہ جائے اس کو رفع کرنا۔ الفاظ کو ایسی ترتیب سے منظم کرنا کہ صورۃ اگر چہ نثر سے متمیز ہو مگر معنی اسی قدر ادا کرے جیسے کہ نثر میں ادا ہو سکتے۔ شاعر بشر طیکہ شاعر ہو اول تو وہ ان باتوں کا لحاظ وقت پر ضرورکرتا ہے اور اگر کسی وجہ سے بالفعل اس کو زیادہ غور کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر جب کبھی وہ اپنے کلام کو اطمینان کے وقت دیکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اثر بڑے بڑے شاعروں کا کلام مختلف نسخوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘[10]

ڈاکٹر یوسف حسین خاں نے مشرقی میں المیہ کی معنویت کی وضاحت غزل کی روح سے کیا ہے۔کیوں کے غزل کے جذبہٗ غم کو مغربی ادب کی ٹریجیڈی (المیہ) کے مساوی قراردیا ہے۔کیوں کہ لفظ غزل کے ایک معنی اس دل گداز چیخ کے ہیں جو شکاری کے طویل تعاقب، اس کے خوف اور تھکن سے گرپڑنے والے ہرن کے حلق سے نکلتی ہے۔ جس کی تاثیر سے شکاری کتا ہرن کو پاکر بھی اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔[11]

گویا خُز نیہ لَے اور المیہ غزل کی ہئیت ترکیبی میں شامل ہے۔ غزل کے تمام بڑے اور قابلِ ذکر شاعروں نے کسی نہ کسی رنگ میں المیہ احساسات کی ترجمانی ضروری کی ہے۔اگر چہ ایسی غزلوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی ، جنہوں کلی طور پر المیہ کہا جاسکے(مولانا روم کا دیوان شمس تبریز اس سے مستثنیٰ ہے۔ جس کی زیادہ تر غزلیں حزنیہ اور المیہ ہیں) کلی طور پر ’ طربیہ غزل‘ بھی شاید ہی کسی بڑے غزل گو کافنی مطمح نظر رہا ہے۔ غزل کے شاعر کو روایتاً ہی سہی غم کا بیان ضرور کرنا پڑ تا ہے۔ اسی لیے رنج و الم کے جذبات و احساسات کو جو نسبت صنف غزل سے ہے کسی اور صنف شاعری سے نہیں۔ اردو غزل کا فکری و فنی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ غزل میں المیہ مواد اور الم پسندی کی طویل روایت کے چار نمایاں اسباب ہیں۔

  1. ہیئتی توارث
  2. فارسی غزل کی فکری ، جذباتی اور جمالیات تشکیل کے تاریخی اسباب
  3. تصوف کی روایت کے حزنیہ عناصر
  4. اُردو غزل اور اُردو شاعری کا سیاسی اور سماجی پس منظر[12]

عربی لفظ غزل کے معنی عورتوں سے حسن و عشق کی باتیں کرنا ہے۔ غالباً اردو، فارسی اور عربی کے سبھی لغات کے یہی معنی نکلتے ہیں۔ البتہ تغزل یا غزلیت یعنی’ ایک خاص انداز کا باوقار اور سنجیدہ گداز، جو عشق کی خاص پہچان ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ صنف حسن و عشق کی واردات و کیفیات اور معاملات کا ذریعہ اظہار ہے۔[13]غزل اردو فارسی میں ایک صنف، جس کے اشعار کی تعداد مقرر ہوتی ہے اور جسے عموماً ساز کے ساتھ گایا جاتا ہے[14] منجملہ فارسی غزل اگر چہ اپنی موجودہ ہئیت کے اعتبار سے عربی قصیدے کی تشبیب ہی کی قلم ہے ۔ ہندوستان میں عربی گو شعراء میں سب سے پہلا نام مسعود سعد سلمان کانام آتا ہے۔ جو فارسی کے علاوہ عربی اور ہندی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان کے بعد امیر خسرو ہیں جو فارسی کے سب سے بڑے غزل گو شاعر ہیں ۔ انہوں نے عربی بھی شعر کہے ہیں ان کے علاوہ قابلِ ذکر عربی شعراء میں نصیرالدین چراغ دہلی، قاضی عبدالمقتدر ، احمد تھا نیری، شاہ احمد شریفی ، سید عبدالجلیل بلگرامی، شاہ ولی اللہ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم اور بیٹے عبدالعزیز و رفیع الدین نیز محمد باقر مدراسی کے نام شامل ہیں۔[15] کیوں کہ ایران میں غزل عام تھی ۔اس کی نشو ونما کے لئے تاریخی اور نفسیاتی اسباب و عوامل پہلے سے موجود تھے۔

فارسی غزل کا اولین شاعر شہید بلخی کو تسلیم کیا جاتا ہے جس کا زمانہ چوتھی صدی ہجری ہے البتہ غزل کو ترقی رود کی اور عنصری نے دی لیکن محبت، محبوب اور شراب کی مثلث کو کثیر الاضلاع بنانے میں سنائی اور دوسرے صوفی شعراء نے بھر پور کردار ادا کیا۔[16]یہی دیگر دانشوروں کا ہے  اردو غزل کے تاریخی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صنف اُردو میں فارسی شعرو ادب کے اثر سے آئی اور فارسی میں عربی قصیدے کی تشبیب سے الگ ہو کر وجود پذیر ہوئی۔ علامہ شبلی نعمانی کے خیال کے مطابق یہ بار بار لکھا جا چکا ہے کہ ایران میں شاری کی ابتدا قصیدہ سے ہوئی اور ابتداء میں غزل جو طبع سے نہیں ، بلکہ اقسام شاعری کے پوراکرنے کی غرض سے وجود میں آئی ۔ قصیدہ کی ابتداء میں عشقیہ شعر کہنے کا دستور تھا، اس حصے کو الگ کر لیا تو غزل بن گئی ، گو یا قصیدہ کے درخت سے ایک قلم لے کر الگ لگالیا۔[17]متذکرہ مباحث کی روشنی میں ہم کہے سکتے ہیں کہ اردو غزل فارسی سے نمودار ہوئی ہے لیکن خورشد الاسلام نے اپنی تصنیف ’اردو ادب آزادی کے بعد‘ میں اس کے برعکس لکھا ہے:

’’ اردو غزل کی تاریخ کو میں اردو زبان کے باقاعدہ رواج پانے کی تاریخ سے قدیم تر سمجھتا ہوں۔ بظاہر یہ بات ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ اردو زبان سے پہلے اردو غزل کا تصور کیسے کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں غزل کے اس فکری و جذباتی سر مائے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو زبان سے علیحدہ کر کے دیکھاجا سکتا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے کسی جگہ غالب کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اردو غزل کے نسب نامے کو ولی سے آگے بڑھا کر رودکی تک پہنچا دیا۔ غالب سے رود کی ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے جو اچھے خاصے رشتوں کو دھندلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن سولہویں صدی عیسوی کے آغاز تک یہ رشتہ ہمیں زیادہ واضح نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے فارسی غزل زیادہ تر ایران کی چیز تھی اس میں سعدی و حافظ کی روشنی تو تھی لیکن صناعی ونازک خیالی کے وہ تکلفات نہ تھے جو اسے ہندوستانی بنا کر اردوغزل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ سولہویں صدی میں کسی حدتک دبستان ہرات کے زیر اثر تازہ گوئی کی ایک انجمن قائم ہوئی جس کی قیادت فیضیؔ و عرفیؔ کرتے تھے۔ اسی کے تحت ان علایم و رموز اور مخصوص اسالیب بیان کو فروغ ہوا جنہوں نے اکبر سے شاہجہاں تک فارسی غزل میں ایہام ، معاملہ بندی، شوخی بیان اور مبالغہ آرائی کو بڑھاوا دیا جو آگے چل کر اردو غزل کی بنیادی خصوصیات قرار پائیں۔‘‘

 

 

 

 

 

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!
Scan the code